ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل میں سپیشلسٹ ڈاکٹر ز نہ ہونے سے مریضوں کو مشکلات

ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل میں سپیشلسٹ ڈاکٹر ز نہ ہونے سے مریضوں کو ...

خیبر ایجنسی (بیورورپورٹ) ایجنسی ہیڈ کوارٹر اسپتال لنڈ ی کو تل کے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی اسامیوں کو بھر دیا جائے ۔ تقریباً 5 لاکھ ابادی کے لئے ایک گائنا کالوجسٹ نہیں ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔ حاضر سروس سٹا ف کی ڈیوٹی کو یقینی بنایاجائے ۔لیبر روم اور ڈینٹل بلاک میں ہر مریض کے لئے HCVاورHBSٹسٹوں کو لازمی قرار دیا۔ جائے۔ایمرجنسی میں نرس کی ڈیوٹی لگائی ۔اسپتال کے ڈاکٹروں کو مائنر کیسز پشاور ریفر نہ کرنے کے پابند بنایاجائے ۔پانی نہ ہو نے کی وجہ سے اسپتال کئی مشکلات سے دو چار ہے ۔پانی کا مسئلہ تر جیحی بنیادوں پر حل کیا جا ئے ۔پرائیوٹ جگوں پر اپریشن کرنے کی بجائے اسپتال کا اپنا اپریشن تھیٹر کو فعال بنایا جائے ۔پرائیوٹ کلنک اور سرکاری ڈیوٹی کے دوران کے چیک اپ میں زمین و اسمان کا فرق ہے ۔سیاسی قائدین کا میٹ دی پریس سے خطاب ان خیالات کا اظہار لنڈ ی کو تل پریس کلب میں جماعت اسلامی کے نائب امیر عبد الرو ء ف ، تنظیم اہلسنت والجماعت کے نا ظم اعلی مولانا شعیب، اے این پی کے صدر عالمگیر افریدی ، پی ٹی ائی کے رہنما عبد الرازق،خیبر یوتھ ایسو سی ایشن کے صدر عامر افریدی ،جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری اطلاعات خیبر ایجنسی قاری جہاد شاہ،لنڈ ی کو تل سیاسی اتحاد کے صدر زرو اللہ ، پاکستان مسلم لیگ (ن)اورنگزیب افریدی اور لنڈ ی کو تل فلاحی تنظیم کے صدر اختر علی نے میٹ دی پریس کے دوران کیا انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ اسپتال میں موجود 10 خالی اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی پوسٹوں پر تعیناتی کی جائے جس میں گائناکالوجسٹ میڈیکل اور سرجیکل اسپیشلسٹس کو ہنگامی بنیادوں پربھیج دیا جائے انہوں نے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ لیبر رو م اور اپریشن تھیٹر سنگین مسائل کے شکار ہیں جہاں مریضوں سے غیر قانونی پیسے لیئے جاتے ہیں اور ایک ڈرپ کئی مریضوں کا لگایا جاتا ہے سٹاف کی پہلے ہی سے کمی ہے کہ اوپر سے موجود ہ سٹاف کی ڈیوٹی بھی غیر یقینی ہے لیبر روم اور ڈینٹل بلاک میں مریضو ں کی ٹسٹیں نہیں کی جاتی اور مفت میں زچہ و بچہ اور ڈینٹل کے مریض ہپا ٹائٹس جیسے مہلک بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اسپتال کی ادویات کھلے عام بازار میں فروخت ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی میں نرس موجود نہیں ہو تی جو ایک ظلم ہے اس کے علاوہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیوٹی کے دوران اسپتال کے اندر داخل ہو نے پر میڈیکل ریپس پر پابندی لگائی جائے اسپتال میں پانی کی قلت ہے جس کی وجہ سے اسپتال میں صفائی کا فقدان ہے جو حفظان صحت اصولوں کے منافی ہے اسپتال کے اندر بکریاں اور کتوں کا راج ہے جو ایک سوالیہ نشان ہے انہوں نے کہا کہ اسپتال کے سرکاری بنگلوں پر بعض ڈاکٹر قا بض ہیں جنہوں نے حکو متی رٹ کو چیلنج کیا ہے یہ اپیل بھی کی کہ الٹرا ساونڈ مشین کو نصب کیا جائے اسپتال ایم ایس کے نمائندوں فضل الرحمان عظمت علی اور عبد الحلیم نے مسائل کے نشاندہیوں کے ردعمل میں کہا کہ اسپتال میں پانچ الٹراساونڈ مشینیں نصب کی گئیں ہیں جو مکمل طور پر فعال ہیں باہر پانچ سو جبکہ اسپتال کے اندر 150روپے رسید پر فیس لی جاتی ہے اور وہ بھی قومی خزا نے میں جمع کی جاتی ہے لیبر روم میں 65روپے سرکاری فیس ہے باقی پیسے نہیں لیئے جاتے لیبر روم میں ہر مریضہ کو مفت صفائی کی کٹس دی جاتی ہے لیبر روم میں انتظامیہ نے بورڈز لگائے ہیں اس پر فون کے نمبرز دیئے گئے ہیں شکایت کی صورت میں کوئی بھی رابطہ کر سکتا ہے اگرغیر قانونی پیسے لینے کی ثبوت ہے تو پیش کرے خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی ایمرجنسی میں مارننگ ایوننگ اور نائٹ کے شفٹوں میں دو دو ڈاکٹر ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں جوہر وقت موجود ہو تے ہیں بازار میں اسپتال کی ادویات کی فروخت ایک منفی پراپیگنڈا ہے پورے لنڈ ی کو تل سے ایک ثبوت نہیں ملی تو اتنی بڑی مقدار میں ادویات چھپتی کیسی ہے انہوں نے کہا کہ ایکسرے مشینیں بھی فعال ہیں اور وارڈز اس لئے خالی ہیں کہ اسپتال میں اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی کمی ہے اس لئے وارڈوں میں مریضوں کو داخل نہیں کر ایا جاتا ہے ای سی جی اور لیبارٹری میں ایک ایک نرس موجود ہوتی ہے اس کے علاوہ پورے اسپتال میں ایک فی میل ڈاکٹر ہے ان کی ڈیوٹی کہاں کہاں لگائی جائے سارا دن او پی ڈی چلاتی ہے اور حال یہ ہے کہ لیبرروم کو بھی آن کال ہے ۔HCV اور HBS کی کٹس بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ہر مریض کے لئے 70روپے پر ٹسٹ کی جاتی ہے جو باہر 150 سے کم نہیں ہے انہوں نے ڈاکٹروں کی غیر حاضری کے الزام کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ اسپتال میں 24ڈاکٹرز ہیں جو ہر دن اور ہروقت موجود ہوتے ہیں جن کی بڑی ثبوت یہ ہے کہ اسپتال کی او پی ڈی 8 سو یومیہ ہے ۔اخر میں اسپتال کے مسائل کے حل کیلئے ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا اور وہ کمیٹی ہر ہفتہ اسپتال کا دورہ کرے گی سیاسی سماجی مذہبی اور ہر متبہ فکر کے لوگ اس میں شامل ہو ں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...