تحصیل علی پور و جتوئی میں سود خوری عروج پر، پولیس سرپرستی کرنے لگی

تحصیل علی پور و جتوئی میں سود خوری عروج پر، پولیس سرپرستی کرنے لگی

سلطان پور(نامہ نگار)تحصیل علی پوروجتوئی میں کسی بھی سود خور کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہ ہوا ،مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی سود نیٹ ورک میں شامل ہیں۔ کھاد،بیج اور زرعی ادویات کا دھندہ کرنے والوں کی چاندی گاڑیاں موٹرسائیکل ٹریکٹر تک سود پر دیئے جانے لگے جگہ جگہ سودخوری کے اڈے (بقیہ نمبر51صفحہ12پر )

کھل گئے پولیس کے ذریعے بھی تحفظ فراہم ہونے لگا سودخوروں کے ظلم کے ستائے ہوئے بلینک چیک اوردیگر دستاویزات رہن رکھ لئے جاتے ہیں سیاسی وڈیرے بھی سود خور مافیا کی سرپرستی کرتے ہیں خواتین نے بڑے بڑے نیٹ ورک قائم کررکھے ہیں نسل در نسل سود کا قرض اتاراجاتاہے جتوئی شہرسلطان کلروالی سیت پور خیرپور ،سرکی،کندائی کے علاقوں میں سینکڑوں لوگوں نے یہ دھندہ شروع کررکھاہے دونوں تحصیلوں کے کسی بھی تھانہ میں کسی سود خور کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہواہے اگر کوئی متاثرہ شخص ان کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کرے تو وہ کسی نہ کسی جھوٹے مقدمہ میں جیل چلاجاتا ہے۔ ایک محتاظ اندازے کے مطابق دونوں تحصیلوں میں اس وقت تقریباً 40سے 50ہزار افراد سود کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں مگران کے خلاف کوئی زبان کھولنے کوتیار نہیں ہے نہ ہی ان پچاس ہزار افراد میں سے کسی نے کوئی مقدمہ درج کرانے کیلئے تھانہ میں رپورٹ کی ہے کیونکہ بڑے بڑے سود خوروں کی سرپرست خود پولیس ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...