مصر کے بعد سعودی عرب ایک اور اسلامی ملک پر مہربان، اربوں ڈالر دینے کا وعدہ، پہلی قسط جاری کردی

مصر کے بعد سعودی عرب ایک اور اسلامی ملک پر مہربان، اربوں ڈالر دینے کا وعدہ، ...
مصر کے بعد سعودی عرب ایک اور اسلامی ملک پر مہربان، اربوں ڈالر دینے کا وعدہ، پہلی قسط جاری کردی

  


رباط (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں بہار عرب کا تلاطم برپا ہوا تو اس کی لہریں مغربی افریقہ کے مسلم ملک مراکش تک بھی پہنچ گئیں۔ اس موقع پر طاقتور عرب ممالک کی طرف سے مراکش کی مالی مدد کا اعلان کیا گیا تاکہ اس ملک کو معاشی سہارا دے کر بہار عرب کی لہروں میں بہہ جانے سے بچایا جاسکے۔

قطر، سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے مراکش کو 2012ءسے 2017ءکے درمیان مجموعی طور پر 5 ارب ڈالر (تقریباً 5کھرب پاکستانی روپے) دینے کا وعدہ کیا گیا۔ اس وعدے کی تکمیل کے لئے اب سعودی عرب نے مراکش کو 23 کروڑ ڈالر (تقریباً 23 ارب پاکستانی روپے) کی امداد فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کردئیے ہیں۔ عریبین بزنس کے مطابق مراکش کے وزیرخزانہ نے گزشتہ روز اس معاہدے کی تصدیق کردی۔

متحدہ عرب امارات میں ایسا آلہ ایجاد کرلیا گیا کہ لوگ اب گاڑی گھر سے نکالنے سے پہلے بار بار سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے

مراکش سے کئے گئے وعدے کے بعد چاروں عرب ممالک میں سے ہر ایک نے 1.25 ارب ڈالر (تقریباً سوا کھرب پاکستانی روپے) کی مدد فراہم کرنا تھی۔ اس مالی مدد سے مراکش کے انفراسٹرکچر کی تعمیر، معیشت کی مضبوطی اور سیاحت کے شعبے کو سہارا دینا مقصود تھا۔ مراکشی وزیر محمد بوصید اور سعودی وزیر خزانہ ابراہیم بن عبدالعزیز نے 23 کروڑ ڈالر کے امدادی معاہدے پر دستخط بحرین میں کئے۔

واضح رہے کہ 2011ءمیں مراکش میں شروع ہونے والے ہنگاموں اور احتجاج پر قابو پانے کے لئے کنگ محمد کی طرف سے آئینی اصلاحات اور سماجی بہبود کے متعدد اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔ مراکشی حکومت بیرونی امداد کے ساتھ عوام کی مشکلات میں کمی کے لئے سرگرم ہے، تاکہ ہنگامے اور احتجاج دوبارہ سر نہ اٹھالیں۔ خلیجی ممالک کی طرف سے بھی مراکش کے استحکام کے لئے مدد فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، تاکہ یہ ملک بھی لیبیا، تیونس یا مصر جیسے انجام دے دوچار نہ ہو جائے۔

مزید : عرب دنیا


loading...