وہ اوقات جب آپ کی دعاضرورقبول ہوتی ہے

وہ اوقات جب آپ کی دعاضرورقبول ہوتی ہے
وہ اوقات جب آپ کی دعاضرورقبول ہوتی ہے

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) ویسے تواللہ پاک غفورالرحیم  و کریم ہے لیکن ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو نہ صرف اللہ سے دعا مانگنے کا طریقہ بھی بتایا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ تما م عوامل بھی بتا دیے ہیں جو کہ دعا کی قبولیت اور مسترد ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔مثلا حرام کمائی کھانے والے کی دعا قبول نہ ہوگی ، صرف یہی نہیں بلکہ ساتھ ہی وہ خصوصی اوقات بھی بتادیئے گئے ہیں جن میں دعائیں اللہ کی بارگاہ میں لازمی قبولیت پاتی ہیں ۔نیوزویب سائٹ ’پڑھ لو‘ کے مطابق یہ اوقات احادیث کی مستند کتابوں سے بھی ثابت ہیں۔

تہجد کے وقت مانگی گئی دعا

تہجد کے وقت سے مراد رات کا آخری پہر ہے۔اس وقت کی نیند سب سے گہری اور نہ ٹوٹنے والی ہوتی ہے مگر جب کوئی بندہ اس وقت میں اپنی نیند کی قربانی دے کر اپنے رب کی بارگاہ میں کھڑا ہوتا ہے تو حدیث کے مطابق اس کا رب ضرور سنتا ہے اور بندے کی خواہش کو ضرور پورا کرتا ہے

سجدہ کی حالت میں مانگی گئی دعا

انسان جس پل سجدے کی حالت میں ہوتا ہے اس پل میں وہ اپنے جسم کے سب سے بلند اور محترم عضو یعنی پیشانی کو اللہ کے بارگاہ میں جھکا کر زمین سےلو لگا رہا ہوتا ہے ،اللہ کو اپنے بندے کی یہ عاجزی اتنی پسند آتی ہے کہ وہ اپنے بندے کی اس حالت میں مانگی گئی ہر دعا پوری کر دیتا ہے۔

اذان کے دوران مانگی گئی دعا

جب انسان اللہ کے اس بلاوے پر لبیک کہتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے تو اللہ بھی ان اوقات میں انسان کی دعا نہ صرف سنتا ہے بلکہ اس کو پورا بھی کرتا ہے۔

فرض نماز کے بعد مانگی گئی دعا

اللہ نے انسانوں پر دن بھر میں پانچ نمازیں فرض قرار دی ہیںاور اس کی فرضیت کے متعلق واضح احکامات قرآن وسنت میں موجود ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان اوقات میں مانگی گئی دعا بارگاہ خداوندی میں قبولیت پاتی ہے۔

بارش کے بعد مانگی گئی دعا

بارش اللہ پاک کی وہ رحمت ہے جو کہ اس پیاسی زمین کو سیراب کرتی ہے۔چرند پرند غرض ہر مخلوق کے لیے خوشی کا سبب اور رحمت بن کر برستی ہے۔ ایسے حالات میں اللہ تعالی اس مخلوق کو کیسے بھول سکتا ہے جس کو اس نے اشرف المخلوقات کے عہدے پر فائز کیا ہے۔تو ان اوقات میں اللہ کی رحمت بندوں پر برس رہی ہوتی ہے۔

سفر کے وقت دعا

نیک نیتی اور حق کے راستے پر جانے والے مسافر کی ہر دعا اللہ قبول کرتا ہے کیونکہ اس وقت مسافر درحقیقت اللہ کا مہمان ہوتا ہے۔

افطار کے وقت مانگی گئی دعا

روزہ کی حالت میں اللہ کی خاطر بندہ جب بھوک پیاس برداشت کرتا ہے تو وہ اللہ کے بہت قریب ہوجاتا ہے۔اس وقت اللہ فرماتا ہے کہ اس کو اس کی عبادت کا اجر میں خود دوں گا۔ افطار کا وقت اللہ نے اس روزے دار کے لیے نہ صرف روزہ کھولنے کا رکھا ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس انعام و اکرام کا بھی رکھا ہوتا ہے جو اللہ نے بندے کو دینے ہوتے ہیں۔ اس میں سے سب سے بڑا انعام یہ ہے کہ اس وقت مانگی گئی دعا قبول ہوتی ہے۔

درود شریف پڑھنے کے بعد دعا

درود شریف کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ وہ واحد فعل ہے جواللہ تعالیٰ خود بھی کرتے ہیں،درود شریف پڑھ کر مانگی گئی دعا اللہ ضرور سنتا ہے ،اسی وجہ سے اول و آخر درود شریف پڑھ لینے سے دعا بھی اللہ کی بارگاہ میں قبولیت پا لیتی ہے

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...