تافتان اور مند بارڈرزسے غیرمعیاری ایل پی جی کی درآمد روکی جائے

تافتان اور مند بارڈرزسے غیرمعیاری ایل پی جی کی درآمد روکی جائے

لاہور(کامرس رپورٹر) ایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان نے وزارت خزانہ، وزارت پٹرولیم ، ایف بی آر اور اوگرا پر زور دیا ہے کہ وہ تافتان اور مند بارڈرز کے ذریعے گھٹیا معیار کی ملاوٹ شدہ اور خطرناک کیمیکل والی ایل پی جی کی درآمد اور سمگلنگ کی روک تھام کرے کیونکہ اس کی وجہ سے ایل پی جی کے مقامی پروڈیوسر بْری طرح متاثر ہورہے ہیں اور ماحولیات کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ یہ مطالبہ

ایل پی جی ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ایک ہنگامی اجلاس میں پیش کیا گیا جس کی صدارت ایسوسی ایشن کے چیئرمین فاروق افتخار کررہے تھے۔ شرکا نے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی کی مقامی صنعت کو بچانے کے لیے یہ مسئلہ فورا حل کیا جائے۔ فاروق افتخار نے کہا کہ گھٹیا معیار کی کیمیکل والی خطرناک ایل پی جی ماحولیات اور صحت کے سنگین مسائل پیدا کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر پٹرولیم اور وزیر خزانہ کو اس صورتحال کا فوراً نوٹس لینا چاہیے ۔

کیونکہ صرف ایل پی جی کے مقامی پروڈیوسرز ہی نہیں بلکہ حکومتی خزانے کو بھی بھاری نقصان ہورہا ہے۔ فاروق افتخار نے کہا کہ ملاوٹ والی گھٹیا ایل پی جی کے امپورٹرز اسے غیر رجسٹرڈ افراد کو فروخت کررہے ہیں جو عوام کی جان و مال سے کھیلنے کے علاوہ قیمتی زرمبادلہ بھی برباد کررہے ہیں۔ فاروق افتخار نے کہا کہ گھٹیا ایل پی جی کی درآمد اور سمگلنگ کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے حکومت کو مقامی پروڈیوسرز کی پیداواری لاگت میں بھی کمی لانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر کے راستے درآمد کردہ ایل پی جی کی قیمت 65ہزار روپے میٹرک ٹن جبکہ مقامی ایل پی جی کی قیمت 75ہزار روپے فی میٹرک ٹن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اس مسئلے پر فوری ایکشن نہ لیا تو صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

مزید : کامرس


loading...