سپریم کورٹ نے حلیب دودھ کو انسانی صحت کیلئے موزوں قرار دیدیا

سپریم کورٹ نے حلیب دودھ کو انسانی صحت کیلئے موزوں قرار دیدیا

لاہور(پ ر) سپریم کورٹ نے اپنے حکم نامے میں حلیم فوڈز لمیٹڈ کے تیار کردہ دودھ کو استعمال کے لئے موزوں قرار دیدیا ہے۔ یہ حکم نامہ سپریم کورٹ کی جانب سے پیکجڈ دودھ کے معیار سے متعلق دائر سول پٹیشن کی سماعت کے دوران 9 مارچ کو جاری کیا گیا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق حلیب فوڈز لمیٹڈ کے دودھ کی پیداوار/پیکجڈکو انسانی صحت کے لئے موزوں قرار دیا گیا ہے۔ حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ جیسا کہ عدالت نے دیگر معاملات میں بھی حکم دیا ہے ، عدالت حکم دیتی ہے کہ قوائد و ضوابط کے مطابق ایس جی ایس سے دودھ کا براہ راست تجزیہ کرایا جائے۔ ایس جی ایس کی جانب سے دودھ کی مزید ٹیسٹنگ موسم گرما میں متوقع ہے جب دودھ خراب ہونے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہے۔ تاہم بعض حلقوں کی جانب سے حلیب دودھ میں فارمولین کی شمولیت کی من گھڑت افواہوں کے باعث ایس جی ایس کی جانب سے حلیب دودھ کی جانچ پڑتال گزشتہ دسمبر میں پہلے ہی کی جاچکی ہے اور اس رپورٹ میں حلیب دودھ کے نمونے کو فارمولین کی شمولیت سے پاک قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے افواہوں کی بنیاد پی سی ایس آئی آر کی ایک ٹیسٹ رپورٹ بنی تھی جبکہ یونیورسٹی آف ویٹرینری اینڈ اینمل سائنسز (یو وی اے ایس) اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (یو اے ایف) کی دیگر دو معروف لیبارٹریوں نے اپنی رپورٹس کے نتائج میں کہا تھا کہ کہ حلیب دودھ کی جانچ پڑتال کے بعد اس میں فارملین نامی کیمیکل نہیں تھا۔

یہ تینوں نمونے ایک ہی بیچ سے لئے گئے جو تین لیبارٹریز نے جانچے ، اس کا مطلب ہے کہ دو لیبارٹریز کے نتائج پی سی ایس آئی آر کے نتائج سے متضاد ہیں۔

اس حوالے سے حلیب نے آگے بڑھتے ہوئے ملکی و غیرملکی طور پر مشہور اداروں ایس جی ایس لیبارٹری اور قرشی لیبارٹری سے مزید ٹیسٹنگ کرائی اور دونوں اداروں نے حلیب دودھ کو فارملین سے پاک قرار دیا اور اب اس بات کی مزید تصدیق سپریم کورٹ کے حکم نامے سے بھی واضح ہوگئی ہے جس میں حلیب دودھ کو انسانی استعمال کے لئے موزوں قرار دیا گیا۔

مزید : کامرس


loading...