فلمی تنظیمیں غیر فعال ہونے سے انڈسٹری کا بحران شددت اختیار کرگیا

فلمی تنظیمیں غیر فعال ہونے سے انڈسٹری کا بحران شددت اختیار کرگیا
 فلمی تنظیمیں غیر فعال ہونے سے انڈسٹری کا بحران شددت اختیار کرگیا

  


لاہور(فلم رپورٹر)لالی ووڈ میں بنائی گئیں ماضی کی تما م فلمی تنظیمیں غیر فعال ہونے سے فلمی بحران شدت اختیار کرگیا جس کے خاتمے کے لئے تاحال کسی طرح کی کوئی سنجیدہ کوششیں نہیں کی جارہیں۔ کراچی میں نئی فلم انڈسٹری بننے کے باوجود بھی فلمی تنظیمیں فعال کرنے کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے بلکہ نئے فلم میکرزکا سینئر زکو ماننے سے ہی انکار۔ پاکستان فلم انڈسٹری کے عروج کے زمانے میں قائم 26 مختلف یونینز میں پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن، پاکستان ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن، فنکاروں کی تنظیم، ’’ماپ‘‘ رائٹرز ایسوسی ایشن اور پاکستان فلم ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن فعال اور نمایاں ہوا کرتی تھیں دوسری جانب دیگر تنظیموں میں انگیزی بیٹرز ایسوسی ایشن کیمرہ مینوں کی تنظیم، فائٹرز کی تنظیم، میک اپ مینوں کی تنظیم، اسسٹنٹ فلم، ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن، ورکرز کی تنظیم، فلم ایڈیٹرز کی تنظیم سٹوڈیو اونرز کی تنظیم آرٹ ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن، ایکٹر سپلائیرز کی تنظیم اور دیگر متعدد چھوٹی چھوٹی تنظیم ہوا کرتی تھیں۔ فلم انڈسٹری کی ان مختلف تنظیموں میں اس دور میں ایک نمایاں بات تھی وہ یہ کہ تمام تنظیمیں فلم انڈسٹری پر کوئی برا وقت آنے پر متحد ہوجاتی تھیں اس کے علاوہ عام دنوں میں بھی ایک دوسرے سے تعاون کی مثبت پالیسی برقرار رکھا کرتی تھیں۔ پھر جب گزرتے وقت کے ساتھ فلم انڈسٹری کے فلمسازوں تقسیم کاروں، ڈائریکٹرز اور فن کاروں میں پھوٹ پڑنا شروع ہوئی، مفاد پرستی اور ذاتی خواہشات اور خود غرضی نے جڑیں پکڑیں تو پھر فلم انڈسٹری کے برے دنوں کا آغاز ہوگیا۔ اس کے بحران میں سب سے اہم کردار ان تقسیم کاروں، سٹوڈیو اونرز اور فلمسازوں نے ادا کیا جو ہندوستانی فلموں کی پاکستان میں نمائش کے حامی تھے ۔ لہٰذا سب تنظیموں میں بتدریج پھوٹ پڑنا شروع ہوئی اس میں سب سے پہلا آغاز پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں چےئرمین اور وائس چےئرمین کے چناؤ کے حوالے سے شروع ہوا۔ پھر ایک بڑی دراڑ فلم فن کاروں کی تنظیم ’’ماپ‘‘ کے اندر پڑنا شروع ہوئی۔ جس کی سربراہی اداکار یوسف خان کے سپرد تھی پھر اداکار شان کو ورغلا کر یوسف خان کے مقابلے میں فنکاروں کی ایک تنظیم بنی جو جلد ہی فلاپ ہوگئی۔ فلمسازوں میں پھوٹ ڈالنے کے بعد مفاد پرستوں نے فلم ڈسٹری بیوٹرز اور پروڈیوسرز ایسوسی ایشنز کو خراب کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ یوں پھر فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات مقررہ وقت سے ہٹاکر لیٹ کئے گئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ تنظیم کا سالانہ چندہ بند ہوگیا۔ ریگل سنیما کے اندر واقع فلمسازوں کا خوبصورت دفتر بھی بتدریج بند ہوگیا اور اب پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کا سیکرٹری جو ریگل آفس میں ایک اہم اور طاقتور شخصیت ہوا کرتا تھا، رائل پارک لاہور میں واقع ایک فلمساز و تقسیم کار کے دفتر میں بیٹھا رہتا ہے۔ فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن جس کی آئینی حیثیت برسوں سے ختم ہوچکی ہے اس کے خود ساختہ چےئرمین اپنے طور پر انتظامات چلانے میں مصروف ہیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ فلمسازوں کی نام نہاد تنظیم کا آئینی کردار معطل ہے اسی طرح پاکستان فلم ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن جو عملی طور پر کبھی بھی کوئی اچھی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کراچی سے تعلیم یافتہ اور ہنر فلم ڈائریکٹرز کا ایک طبقہ اچھی جدید معیاری فلمیں بنانے اور ان کا بزنس بڑھانے میں مصروف ہے۔ دوسری طرف لاہور میں موجود سینئر فلمساز و ہدایت کار محض اخباری بیانات دینے میں مصروف ہیں۔ لاہور کے فلم سٹوڈیوز ویران ہیں۔ ایورنیو سٹوڈیو کے فلم ڈائریکٹرز کے دفتر میں موجود ایک نامور سینئر ڈائریکٹرز نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کام کہیں ہے نہیں نئے چےئرمین کا بھی یہاں آنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ البتہ اگر دو تین ڈائریکٹرز ملکر کوئی نئی تجویز یا فلم کے حوالے سے عملی کام کریں تو فائدہ ہوگا۔ مگر فی الحال نہ ہی نئی ممبر شپ کا کوئی فائدہ ہے اصل ضرورت ہے ملکر کام کرنے اور سنجیدہ ہوکر متحد ہونے کی اور معیاری فلم بنانے کی تو اس طرف کوئی نہیں آرہا۔ اس وقت فلم ڈائریکٹرز ہی نہیں بلکہ دیگر تمام فلمی تنظیموں کو اپنے رویئے تبدیل کرنے اور مفادات سے بالاتر ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے سینئرافرادلالی وڈ کو کھویاہوامقام دلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جن میں فنکار،پروڈیوسر،ڈائریکٹراور چندتکنیک کار بھی شامل ہیں تاہم بیشتر افرادکا کہنا ہے کہ فلمی تنظیموں کے دوبارہ فعال ہونے سے تمام لوگوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔اداکار معمررانا،پرویزکلیم ،چوہدری اعجاز کامران، شہزادرفیق، سنگیتا، پپوسمراٹ، الطاف حسین اور بہت سے دیگر لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر فلمی تنظیم کی اہمیت اپنی جگہ اہم ہے جسے فعال بنانے کے لئے دوبارہ کوشش ضرورہونی چاہیئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انڈسٹری کو عروج پرلانے کے بھی عملی کوشش کرنا ہوگی۔

مزید : کلچر


loading...