اسلام اور عالمی بھائی چارہ!

 اسلام اور عالمی بھائی چارہ!

بھائی چارے کی متعدد اقسام ہیں یعنی کئی طرح کا بھائی چارہ ممکن ہے۔ مثال کے طور پر:

* خاندان اور قرابت داری کی بنیاد پر بھائی چارہ۔

* علاقے اور وطن کی بناء پر بھائی چارہ۔

* ذات پات، قوم یا قبیلے کی بنیاد پر بھائی چارہ۔

* اور عقائد کی بنیاد پر قائم بھائی چارہ۔

لیکن بھائی چارے کے متذکرہ بالا تمام تصورات محدود ہیں جبکہ اسلام لامحدود عالمی بھائی چارے کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس میں اسلام میں بھائی چارے کا تصور بہت واضح طور پر پیش کر دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے۔

’’لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ یقیناًاللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے‘‘۔

پوری دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں سب آدم ؑ کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کو قبیلوں اور قوموں میں اس لئے تقسیم کیا گیا ہے کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو یعنی یہ تقسیم محفل تعارف کیلئے ہے۔ اس لئے نہیں کہ اس بنیاد پر ایک دوسرے سے لڑنا جھگڑنا شروع کردیا جائے اللہ تعالیٰ کے ہاں فضیلت اور برتری کا معیار جنس ذات، رنگ ونسل اور مال ودولت نہیں ہے۔ معیار صرف اور صرف تقویٰ ہے، پرہیزگاری، نیکوکاری اور حسن عمل ہے جو شخص زیادہ متقی ہے زیادہ پرہیزگار ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والا ہے وہی اللہ کے ہاں زیادہ عزت والا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر شے کے بارے میں پورا علم رکھتا ہے۔

قرآن مجید میں مزید ارشاد ہوتا ہے:

’’اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔ یقیناًاس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ دانش مند لوگوں کے لئے‘‘۔ (۰۳:۲۲)

یہاں قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ رنگ، نسل اور زبانوں کا اختلاف اللہ ہی کا پیدا کردہ ہے یہ کالے، گورے لال، پیلے لوگ سب اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں لہٰذا اس وقت اختلاف کی بنیاد پر نفرت کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے روئے زمین پر بولی جانے والی ہر زبان خوبصورت ہے اگر آپ نے کوئی زبان پہلے نہیں سنی ہوئی یا آپ یہ زبان نہیں جانتے تو عین ممکن ہے کہ آپ کو وہ زبان مضحکہ خیز معلوم ہو لیکن جو لوگ اس زبان کو بولنے والے ہیں ان کیلئے شاید یہ دنیا کی سب سے خوبصورت زبان ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زبان اور رنگ ونسل کے یہ اختلاف محض تعارف اور پہچان کے لئے پیدا کیے گئے ہیں۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اور ہم نے نبی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی وتری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی‘‘ (۷۱:۰۷)

یہاں اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف عربوں کو عزت دی ہے یا صرف امریکیوں کو عزت دی ہے یا کسی خاص قوم کو عزت دی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی تمام اولاد کو عزت دی ہے۔ رنگ، نسل، قوم، عقیدے اور جنس کے امتیاز کے بغیر ہر انسان کو عزت دی ہے، بہت سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ نسل انسانی کا آغاز ایک ہی جوڑے سے ہوا ہے یعنی آدم وحوا ؑ سے ۔

بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ سیدنا حوا ؑ نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور پوری انسانیت ان کی وجہ سے گنہگار ٹھہری۔ اسلام اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ اسی طرح یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے عورت سے ناراض ہوکر اس کو اولاد پیدا کرنے کی تکلیف میں مبتلا کیا۔ اس سے بھی اسلام قطعا اتفاق نہیں کرتا اس طرح تو ماں بننے کا عمل ایک سزا اور عذاب ٹھہرتا ہے۔ سورہ نساء میں ارشاد بار ی تعالیٰ ہے۔

’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنیا میں پھیلا دیئے اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ وقرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے‘‘۔

اسلام کا مؤقف تو یہ ہے کہ ماں بننے کا عمل عورت کے مقام اور مرتبے میں اضافہ کرنے والا عمل ہے۔ سورہ احقاف میں ارشاد ہوتا ہے۔

’’اور ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتاؤ کرے۔ اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھ اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے‘‘۔ (۶۵:۵۱)

حمل، عورت کو مزید محترم اور مکرم کرتا ہے۔ یہ کوئی سزا نہیں۔ اسلام عورت اور مرد کو برابر اور مساوی قرار دیتا ہے۔ صحیح بخاری کتاب الآداب میں ایک حدیث ہے جس کا مفہوم ہے۔

’’ایک شخص جناب پیغمبرﷺ کے پاس آیا اور پوچھنے لگا یارسول اللہﷺ! مجھ پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

’’تیری ماں کا‘‘ اس شخص نے پوچھا کہ اس کے بعد؟

آپ ﷺ نے فرمایا:

’’تیری ماں‘‘۔ اس نے پھر پوچھا کہ اس کے بعد؟ آپ ﷺ نے پھر فرمایا:

’’تیری ماں‘‘۔ اس شخص نے چوتھی مرتبہ پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا باپ‘‘۔ گویا مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ اولاد پر تین چوتھائی یا 75فیصد حق ماں کا بنتا ہے اور ایک چوتھائی یا 25 فیصد باپ کا۔ اسے گولڈ میڈل بھی ملتا ہے سلور میڈل بھی اور برونز میڈل بھی جبکہ باپ کو صرف حوصلہ افزائی کا انعام ملتا ہے۔ یہ اسلامی تعلیمات ہیں۔ اسلام مرد اور عورت کو برابر قرار دیتا ہے لیکن برابری کا مطلب یکسانیت نہیں ہے۔ اسلام میں خواتین کے حقوق اور مقام کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ غیرمسلموں اور خود مسلمانوں میں پائی جانے والی یہ تمام غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں اگر اسلام کو قرآن اور صحیح احادیث کی مدد سے سمجھا جائے۔

اسلام میں عورت اور مرد کو مجموعی طور پر مساوی درجہ دیا گیا ہے لیکن کسی جگہ عورت کا درجہ زیادہ ہے تو کہیں مرد کو فضیلت حاصل ہے اسلام کا بھائی چارے سے مراد یہ نہیں ہے کہ صرف مرد ہی آپس میں برابر ہیں۔ اس بھائی چارے میں خواتین بھی شامل ہیں عالمی بھائی چارے سے یہی مراد ہے کہ رنگ، نسل، زبان اور عقیدے کے علاوہ جنس کی بنیاد پر بھی انسانوں کے درمیان کوئی فرق روا رکھنا جائز نہیں سب برابر ہیں البتہ جزوی فرق ضرور موجود ہے مثال کے طور پر فرض کیجئے میرے گھر میں ایک ڈاکو آجاتا ہے اب میں خواتین کے حقوق اور آزادی پر پورا یقین رکھتا ہوں اور دونوں جنسوں کو بالکل برابر سمجھتا ہوں لیکن اس کے باوجود میں یہ نہیں کہوں گا کہ میری بیوی یا بہن یا ماں جائیں اور ڈاکو کو مقابلہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ سورہ نساء میں فرماتا ہے۔

’’مرد عورتوں پر قوام ہیں‘‘۔ (۴:۴۳)

چونکہ مرد کو جسمانی قوت زیادہ عطا کی گئی ہے لہٰذا اس حوالے سے اسے ایک درجہ برتری حاصل ہے اور یہ اس کا فرض ہے کہ خواتین کی حفاظت کرے گویا قوت جسمانی ایک ایسا پہلو ہے جس کے حوالے سے عورت کو برتری حاصل ہے جیساکہ میں نے کہاکہ اولاد پر ماں کا حق تین گنا زیادہ ہے اسلام میں اللہ تعالیٰ کا تصور یہ نہیں ہے کہ وہ کسی خاص قوم یا خاص نسل کا اللہ ہے۔ قرآن مجید کی پہلی سورۃ میں ارشاد ہوتا ہے ’’تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام کائنات کارب ہے۔ نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ روزجزا کا مالک ہے‘‘۔ (۱:۱۳)

اور آخری سورۃ میں بتایا جاتا ہے۔

’’کہو میں پناہ مانگتا ہوں (تمام) انسانوں کے رب کی‘‘۔ اسی طرح سورہ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے۔

’’لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے‘‘۔

اسلام اس دنیا میں حقیقی عالمی بھائی چارہ قائم کرنے کیلئے ایک مکمل نظام اخلاقیات بھی دیتا ہے۔ اسلام ایک ایسا اخلاقی قانون فراہم کرتا ہے جس کی مدد سے پوری دنیا میں بھائی چارے پر مبنی معاشرے کا قیام ممکن ہو جاتا ہے۔ سورہ مائدہ میں ارشاد ہوتا ہے:

’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘‘۔

یہاں قرآن کہتا ہے کہ اگر کوئی کسی انسان کو قتل کرتا ہے قطع نظر اس کے کہ وہ انسان مسلمان تھا یا غیر مسلم، تو یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے پورے انسانیت کو قتل کرنا۔ یہاں نہ مذہب اور عقیدے کی تخصیص کی گئی ہے نہ رنگ ونسل اور جنس کی۔ کسی بھی بے قصور انسان کو قتل کرنا ایسا ہے جیسے پوری انسانیت کو قتل کرنا۔ دوسری طرف اگر کوئی کسی انسان کی جان بچاتا ہے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے پوری انسانیت کو بچالیا جائے یہاں بھی کوئی تخصیص نہیں کی گئی کہ بچایا جانے والا انسان کس مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھتا ہو؟ اسلام اس مقصد کیلئے متعد داخلاقی قوانین وضع کرتا ہے تاکہ عالمی بھائی چارہ دنیا کے ہر حصے میں جاری وساری ہوسکے۔ قرآن مجید ہر صاحب نصاب کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیتا ہے یعنی ہر قمری سال میں 2.5 فیصد کے حساب سے مستحقین میں تقسیم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ آج اگر پوری دنیا میں ہر شخص زکوٰۃ ادا کرنا شروع کردے تو دنیا سے غربت کا مکمل طور پر خاتمہ ہوسکتا ہے یہاں تک کہ دنیا میں کوئی شخص بھی بھوک سے نہیں مرے گا۔ قرآن ہمیں اپنے پڑوسیوں کے کام آنے کا بھی حکم دیتا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزا وسزا کو جھٹلاتا ہے وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں اکساتا ہے۔ پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لئے جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں جو ریاکاری کرتے ہیں اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں‘‘۔

اسی طرح ایک حدیث نبویﷺ کا مفہوم ہے:

’’رسول ﷺ نے فرمایا: ’’وہ شخص مسلمان نہیں جس کا ہمسایہ بھوکا ہو اور وہ خود پیٹ بھر کر سوجائے‘‘۔

ایسا شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات پر عمل نہیں کررہا۔ قرآن فضول خرچی سے بھی روکتا ہے ارشاد ہوتا ہے۔

’’رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق، فضول خرچی نہ کرو، فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے‘‘۔ اگر آپ اسراف کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یقیناًآپ بھائی چارے کی فضاء خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ جب ایک شخص فضول خرچی اور ریاکاری کا مظاہرہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ناپسندیدگی اور نفرت کے جذبات کو فروغ ملتا ہے اور لوگ ایک دوسرے سے حسد کرنے لگتے ہیں لہٰذا کسی کو بھی دوسرے کا حق نہیں مارنا چاہئے بلکہ ایک دوسرے کی امداد کرنی چاہئے۔ اپنے پڑوسیوں کے کام آنا چاہئے یہ تمام اخلاقی اصول ہیں جن کا ذکر قرآن عظیم میں موجود ہے۔ اسی طرح قران رشوت سے بھی سختی کے ساتھ منع کرتا ہے۔ قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے۔

’’اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناروا طریقے سے کھاؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لئے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصدا ’’ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے‘‘۔ گویا اس بات سے منع کیا جارہا ہے کہ رشوت کے ذریعے دوسروں کا مال ہتھیانے کی کوشش کی جائے۔ اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ کوئی بھی شخص اپنے بھائی کی جائیداد یا مال کو ہتھیانے کی کوشش کرے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہ شراب اور جواء اور یہ آستانے اور پانسے، یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی‘‘۔

اس آیت مبارکہ میں قرآن پاک ہمیں تمام نشہ آور اشیاء یعنی شراب وغیرہ اور جوئے، قماربازی اور اسی طرح ضعیف الاعتقادی کے مختلف شرکیہ مظاہرے سے روک رہا ہے کیونکہ یہ سب شیطانی افعال ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ معاشرے میں موجود بہت سی برائیوں کا بنیادی سبب منشیات کا استعمال ہے اور نتیجتاً یہ اس مثالی بھائی چارے کی فضاء کو بھی مکدر کرنے کا سبب بنتا ہے جو ایک حقیقی اسلامی اور فلاحی معاشرے کا مقصود ہے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ میں اوسطاً روزانہ تقریباً ایک ہزار نوسو جنسی زیادتی کے واقعات ہوتے ہیں ور بیشتر صورتوں میں زیادتی کرنے والے یا زیادتی کا شکار ہونے والے نشے کی حالت میں ہوتے ہیں اسی طرح شماریاتی اعدادو شمار ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں (Incesl) کے واقعات کی شرح آٹھ فیصد ہے یعنی ہر بارہواں یا تیرہواں فرد محرمات کے ساتھ زنا میں ملوث ہے اور محرمات کے ساتھ زنا کے تقریباً تمام واقعات نشے کی حالت میں ہی ہوتے ہیں۔ ایڈز جیسی بیماریوں کے دنیا میں اس قدر تیزی سے پھیلنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ منشیات بھی ہے اسی لئے قرآن جوئے اور منشیات کو شیطانی اعمال قرار دیتا ہے۔ کامیابی ور فوزوفلاح کے حصول کے لئے ان شیطانی افعال سے اجتناب ضروری ہے۔ اگر آپ واقعی ان اعمال سے بچے رہتے ہیں تو دنیا بھر میں حقیقی بھائی چارے کا ماحول قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

قرآنی ارشاد کے مطابق کسی کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا یا غیبت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا اور اس کام کی کراہت اس مثال سے واضح ہو جاتی ہے۔ انسانی گوشت کھانا ہی حرام اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت گویا حرمت دگنی ہو جاتی ہے۔ آدم خور لوگ جو انسانی گوشت مزے لے لے کر کھاتے ہیں وہ بھی اپنے بھائی کا گوشت کھانے کے لئے تیار ہنیں ہوں گے لہٰذا اگر آپ کسی کی غیبت کرتے ہیں تو یہ دہرا گناہ ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے مردہ بھائی کا گوشت کھانا تو کیا آپ یہ پسند کریں گے؟ قرآن خود جواب دیتا ہے کہ نہیں تم یہ پسند نہیں کرو گے کوئی بھی یہ پسند نہیں کرے گا ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’تباہی ہے ہر اس شخص کے لئے جو (منہ در منہ) لوگون پر طعن کرنے اور (پیٹھ پیچھے) برائیاں کرنے کا خوگر ہے‘‘۔

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں دیئے گئے یہ تمام اخلاقی اصول، حقیقی بھائی چارے کو فروغ دینے والے اور مستحکم کرنے والے ہیں۔ اسلام کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ محض بھائی چارے کا ذکر نہیں کرتا بلکہ بھائی چارے کے عملی مظاہرے کے لئے بھی مطلوبہ اقدامات پر زور دیتا ہے۔ مسلمان اس بھائی چارے کا ایک عملی مظاہرہ دن میں پانچ مرتبہ نماز یا جماعت کی ادائیگی کے دوران کرتے ہیں۔

بین الاقوامی بھائی چارے کی ایک بڑی مثال ’’حج‘‘ ہے دنیا بھر سے تقریباً اسی لاکھ افراد فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب کے شہر مکہ پہنچتے ہیں۔ یہ لوگ دنیا کے کونے کونے سے وہاں آتے ہیں،اس موقع پر تمام مرد دوایک جیسی ان سلی سفید چادروں میں ملبوس ہوتے ہیں اس موقع پر آپ اپنے اردگرد کھڑے لوگوں کے بارے میں یہ فیصلہ بھی نہیں کرسکتے کہ ان کی کیا حیثیت ہے وہ بادشاہوں یا فقیران کا حلیہ ایک سا ہوگا۔ بین الاقوامی بھائی چارے کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے؟ آپ بادشاہ ہوں یا فقیر، غریب ہوں یا امیر، گورے ہوں یا کالے، شرقی ہوں یا غربی، آپ ایک ہی لباس میں ملبوس ہوں گے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے آخری خطبے میں اعلان فرمادیا کہ تمام انسان ایک ہی رب کی مخلوق ہیں لہٰذا کسی عربی کو عجمی یا عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں کوئی گورا کالے سے یا کالا گورے سے افضل نہیں ، برتری کی بنیاد صرف اور صرف تقویٰ ہے‘‘۔ صرف تقویٰ پرہیزگاری، نیکی اور خوف خدا ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں فضیلت کا معیار ہیں آپ کی قوم، آپ کا رنگ، آپ کو کوئی برتری نہیں دلاتے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب انسان برابر ہیں۔ ہاں اگر آپ اللہ سے زیادہ ڈرنے والے ہیں زیادہ پرہیز گار ہیں زیادہ متقی ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی نظر میں آپ کے افضل ہونے کا امکان ہے۔ حج کے موقع پر تمام حاجی مسلسل یہی الفاظ دہراتے ہیں۔لبیک اللھم لبیک لاشریک لک لبیکحاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ نہیں کوئی معبود‘‘ پورے حج کے دوران وہ مسلسل یہ الفاظ دہراتے رہتے ہیں تاکہ یہ ان کے ذہن میں راسخ ہو جائیں یہاں تک کہ جب وہ واپس آتے ہیں تو پھر بھی یہ الفاظ ان کے ذہن میں رہتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...