ملا ہے ورثۂ حسانؓ مجھ کو

ملا ہے ورثۂ حسانؓ مجھ کو

فضائے کیف زا ہے اور مَیں ہوں

دیارِ مصطفی ؐ ہے اور مَیں ہوں

کھلے ہیں پھول اُمیدوں کے کیا کیا

مدینے کی ہَوا ہے اور مَیں ہوں

غلامی میں شہنشاہی نچھاور

درِ فقر و غنا ہے اور مَیں ہوں

مسافت جگمگاتے راستوں کی

عقیدت رہنما ہے اور مَیں ہوں

تصور میں فروغِ روئے انور

بہر جانب ضیاء ہے اور مَیں ہوں

درِ کعبہ پہ اشکوں کی زبانی

بیانِ مدعا ہے اور مَیں ہوں

ملا ہے ورثۂ حسانؓ مجھ کو

محمدؐ کی ثنا ہے اور مَیں ہوں

زہے یہ تنگ دامانی کا شکوہ

سخائے کبریا ہے اور مَیں ہوں

پڑا ہو روضۂ اقدس پہ راسخؔ

عقیدت کا نشا ہے اور مَیں ہوں

مزید : ایڈیشن 1


loading...