ماہِ رجب المرجب کی حرمت

ماہِ رجب المرجب کی حرمت

امیر افضل اعوان

تقویم کے لحاظ سے شمسی وقمری سال میں واضح فرق موجود ہے جو کہ روزہ و حج جیسی عبادت کی سہولت کے لئے ہی رکھا گیا تاکہ گرم علاقوں کے رہائشی افراد کو ہمیشہ سخت موسم کے روزے ہی نہ رکھنے پڑیں۔ حرمت والے چار میہنوں میں رجب ساتویں نمبر پر آتا ہے۔ رجب اسم مشتق ہے اور ہمیشہ مذکر ہی استعمال ہوا۔ یہ لفظ ’’ترجیب‘‘ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ’’ تعظیم کرنا‘‘ ہے۔ رجب کی تکریم کے حوالہ سے قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’بلاشبہ اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے کتاب الٰہی میں بارہ ہی ہے۔ (اور) ان میں سے چار (مہینے) حرمت کے ہیں، یہی دین (کا) سیدھا (راستہ) ہے، لہٰذا (مسلمانو!) ان (حرمت کے مہینوں) میں (جنگ و خونریزی کر کے) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، اور تمام مشرکین سے (بلااستثناء) جنگ کرو جس طرح وہ تم سب سے (بلااستثناء) جنگ کرتے ہیں اور یہ جان رکھو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے‘‘ (التوبہ)

قمری تقویم کے حوالہ سے چار مہنیوں کی مسلمہ حرمت بارے متعدد روایات موجودہ ہیں۔ رجب المرجب بھی ان چار حرمت والے مہنیوں میں شامل ہے جو قبل ازاسلام بھی مکرم و محترم تھا اور اسلام نے بھی اسے تعظیم و تکریم کے درجہ پر فائز کیا۔ جس طرح نماز ادا کرنے کے لئے مقررہ اوقات کی اہمیت ہے اسی طرح حج اور روزہ جیسی عبادات بھی مخصوص ایام میں ادا کی جاتی ہیں۔ بصورت شرعی عذر روزوں کی قضا کی اجازت دی گئی ہے مگر حج کے سلسلہ میں ایسی کوئی رعائت میسر نہیں، بنیادی طور پر سال کو بارہ مہینوں پر تقسیم کیا جاتا ہے ۔

عرب قبل از اسلام بھی قمری سال کے ان چار ماہ کی تعظیم کیا کرتے تھے اور اس دوران قتال وجدال اور لڑائی کرنا حرام سمجھا جاتا تھا۔ ان مہینوں میں محرم، ذیقعد اور ذی الحجہ کے مہینے حج کے لئے جب کہ رجب کا مہینہ عمرہ کے لئے مخصوص تھا، اسلام نے ان مہینوں کی تعظیم کو برقرار رکھا۔ ان ایام میں گرچہ کہ لڑائی ، جھگڑا یا قتال حرام سمجھا جاتا تھا مگر عرب اپنی ضرورت کے مطابق ان مہینوں میں بھی اپنے بد اعمال جاری رکھتے اور سال کے چارمہینوں کی گنتی کسی بھی مہینے کے حساب سے پوری کرلیا کرتے تھے، اسی لئے قرآن کریم میں بھی ان کے اس عمل کو سخت ناپسند کیا گیا۔ رجب کے حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے‘ سیدنا ابن ابی بکرہt سے روایت ہے کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

’’دیکھو! زمانہ پھر اسی نقشہ پر آ گیا جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا‘ ایک سال بارہ مہینہ کا ہوتا ہے ان میں چار مہینے حرمت والے ہیں جن میں تین مہینے مسلسل ہیں یعنی ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم اور ایک رجب کا مہینہ ہے جو کہ جمادی الآخر اور ماہ شعبان کے درمیان آتا ہے۔‘‘ (بخاری)

رجب کی حرمت یا احترام کے حوالہ سے متعدد احادیث موجود ہیں مگر قبل از اسلام بھی جہالت کی بے پناہ رسوم موجود تھیں جن کا تسلسل آج بھی برقرار نظر آتا ہے۔

اسلام سے قبل ماہ رجب میں قربانی کی جاتی تھی اور اس حوالہ سے فرع اور عتیرہ کا بیان ملتا ہے۔ فرع اونٹنی کا پہلا بچہ ہوتا تھا جسے عرب بتوں کے نام پر ذبیح کرتے اور خود کھا لیتے تھے جب کہ اس کی کھال درخت سے لٹکا دی جاتی تھی اور عتیرہ وہ ذبیحہ ہے کہ جو رجب کے پہلے عشرہ کے لئے مخصو ص تھا۔ اسلام نے جہاں دور جہالت کی دیگر رسوم و رواج منسوخ کئے وہیں فرع اور عتیرہ کے حوالہ سے بھی ممانت کی گئی۔ اس باب میں ایک حدیث پاک میں آتا ہے سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:

’’(اسلام میں) نہ عتیرہ ہے اور نہ فرع۔‘‘ (ابوداؤد)

رجب میں معراج کے حوالہ سے بھی روایت ملتی ہے اور آپ ؐ اس مقدس مہینے میں روزوں کا بھی اہتمام فرمایا کرتے تھے اور صحابہ کرام] کے استفسار پر آپ ؐ نے اس کی توجیہہ بھی بیان کی، احادیث مبارکہ میں اس حوالہ سے منقول ہے‘ سیدنا اسامہ بن زیدt سے روایت ہے انہوں نے آپ ؐ سے پوچھا یا رسول اللہؐ ! میں آپؐ کو ماہ شعبان کے علاوہ کسی دوسرے ماہ میں اس طریقہ سے (یعنی پابندی سے) روزہ رکھتا ہوا نہیں دیکھتا ہوں، آپ ؐ نے ارشاد فرمایا:

’’یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کی برکت (اور عظمت) سے لوگ غافل ہیں‘ ماہ رجب اور ماہ رمضان کے درمیان وہ مہینہ ہے کہ جس میں انسان کے اعمال خداوند قدوس کے پاس اٹھائے جاتے ہیں اور میری خواہش ہے کہ میرا عمل اس وقت پیش ہو جس وقت میرا روزہ ہو۔‘‘ (سنن نسائی)

رسول کریم ؐ ماہ رجب میں نہ صرف روزوں کا اہتمام فرمایا کرتے تھے بلکہ عبادات کی کثرت کے ساتھ ساتھ دعاکا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس باب میں ایک حدیث پاک میں مرقوم ہے‘ سیدنا انسt فرماتے ہیں کہ

’’جب رجب کا مہینہ آتا تو سر تاج دو عالم ؐ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینے (کی ہماری اطاعت وعبادات) میں ہمیں برکت دے اور ہمیں رمضان تک پہنچا‘ نیز سیدنا انسt فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعے کا دن چمکتا دن ہے۔‘‘ (بیہقی)

اس حدیث مبارکہ میں رجب میں ہی استقبال رمضان کا اشارہ بھی ملتا ہے ،’’ اور ہمیں رمضان تک پہنچا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ’’ اے اللہ! ہمیں یہ سعادت بخش کہ پورا رمضان پائیں اور رمضان کے تمام دنوں میں ہمیں روزے رکھنے اور نماز تراویح پڑھنے کی توفیق ہو۔‘‘

رجب کے حوالہ سے احادیث مبارکہ میں دور حاضر کی مروجہ بہت سی روایات کا کوئی ذکر نہیں ملتا اور بعض ایسی رسومات جو کہ نبی کریم ؐ سے ثابت نہیں جن کا دین میں دور رسالت کے بعد اضافہ کیا گیا وہ کسی بھی طرح درست نہیں اورمخصوص ایام میں متعین روزوں یا رات میں قیام بارے کوئی صحیح حدیث وارد نہیں۔ اس حوالہ سے حافظ ابن حجرؒ [تبین العجب بما ورد فی فضل رجب] میں بھی تفصیلی ذکر کرتے ہوئے یہ امر بیان کرتے ہیں ، الفوائد المجوعہ، 392میں امام شوکانی ؒ نے علی بن ابراہیم العطار سے نقل کیا ہے کہ رجب میں روزوں کی فضیلت بارے 4رکعات‘ سو مرتبہ آےۃالکرسی اور سو مرتبہ سورۃ اخلاص پڑھنے والی حدیث بھی مستند نہیں۔ اس حوالہ سے ابن الجوزی ؒ بھی الموضوعات ، 435/2میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔

دور حاضر میں منبر ومحراب پر اور قلم و قرطاس کے ذریعے متذکرہ بالا احادیث اور اسی پیرائے میں اور روایات بھی پورے زور و شور کے ساتھ بیان کی جاتی ہیں جن میں کونڈے بھرنے سمیت دیگر بدعات شامل ہیں،جب کہ اسی گھمبیر صورتحال بارے خود رسول کریمؐ نے فرمایا

’’جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولے تو وہ یقین کرلے کہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔‘‘ (بخاری)

اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں اندازہ ہوجانا چاہیے کہ رجب یا دیگر مہینوں کے متعلق کسی بھی خاص و عام و مناقب کے سلسلہ میں غیر مستند حدیث بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیو ں کہ اس طرح ہم دین میں بدعات کوشامل کرکے خود اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنارہے ہوتے ہیں جس کی ہمیں خود خبر نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان بدعات سے پرہیز کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

۔۔۔۔۔۔bnb۔۔۔۔۔۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...