خد مت انسا نیت افضل تر ین عبادت

خد مت انسا نیت افضل تر ین عبادت

سہیل

’’آپس میں ایک دوسر ے کو برے نا موں سے مت پکارو۔‘‘ایمان کے بعد دوسرے کو برے القاب سے پکارنا جر م ہے۔اس آیت کر یمہ میں تعلیم دی گئی ہے‘ اس سے جونتیجہ اخذ ہوتاہے، وہ یہ ہے ‘کہ جوشخص طعن وتشنیع کو پسند نہیں کرتا ‘ جس کا اند از گفتگو جا ہلو ں جیسا نہیں ہوتا اور جو لوگوں کے بارے میں برے خیا لات نہیں رکھتا وہی خدمتِ خلق کے فریضے کو بطو راحسن انجا م دے سکتا ہے‘حد یث شر یف میں قوم کا سرداردہ ہے‘جو قوم کی خد مت کرے ‘داقعہ یہ ہے‘کہ خد مت خلق کی تعلیم یہ ہے’کہ معاشرے میں انصاف ‘دیانتداری ‘ مساوات اور امن وامان قائم ہو‘ جو شخص رشوت لیتا ہے‘ ڈاکہ اور چو ری کا ارتکا ب کرتاہے اور استحصالی مقا صد کو بر وئے کا رلا تا ہے ‘وہ مخلوق کی کو ئی خدمت نہیں کر رہا ہے‘ ایسا شخص اﷲکی زمین میں خیر وسعا دت کے چراغ روشن نہیں کرتا ‘اخلا ق کی راہیں مسد ودکرتاہے‘اس دو لت واما ت سے مفلسی اور گو شۂ تہائی کی زندگی اچھی ہے‘جسے احترام آد میت پا مال ہوتا ہے ‘شخصیتیں ما ل ورولت سے باعز ت نہیں ہو تیں ‘بلکہ اخلا ق سے ہو تی ہیں۔

رسول اکرمؐ کے جذبہ خد مت کا عا لم یہ تھا ‘کہ جب خا نہ کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو آپ اینٹیں اٹھا اٹھا کر معما روں کے پا س لا تے تھے، اسی طر ح مسجدقبا اور مسجد نبوی کی تعمیر میں بھی آپ نے حصہ لیا حبشہ سے جو مہمان آئے تھے ‘صحا بہ کرام نے چا ہا،کہ وہ ان کی خد مت گزاری کر یں ‘لیکن آپؐ نے ان کو روک دیا اور فر ما یا کہ انہو ں نے میرے دو ستوں کی خدمت کی ہے،اس لئے ان کی خدمت گزاری کا فرض میں خو دانجام دوں گا ۔

بیوہ اورمسکین کے سا تھ چل کر ان کا کام کر دینے میں رسولؐ کو کوئی عا رمحسوس نہیں ہوتا تھا ۔خد مت خلق کا منشا ء یہ ہے، کہ انسان میں تکبر وغردر پیدا نہ ہو اور ہر شخص دوسرے شخص کی عزت کر ے ‘اسلام میں خد مت خلق ایک شر یفا نہ جذبہ کانام ہے‘آنحضرتؓنے فرمایا جو شخص خدمت خلق کرتا ہے اﷲاس کے مراتب بلند کرتا ہے‘اس سے معلوم ہوا کہ خد مت خلق سے معاشرتی زندگی میں خو شگوار تعلقات پیدا ہوتے ہیں ‘ اخلاقی اور معا شرتی حیثیت سے جذ بہ خد مت کے جو ثمرات ظا ہر ہو تے ہیں ‘ان کا کوئی شما رنہیں‘ مثلا جو شخص خا دم ہوتا ہے ‘ وہ لوگوں کے ساتھ اٹھنا ‘بیٹھنا کھانا پینا ‘ بات چیت کرنے میں اپنی کسر شان تصورنہیں کرتا ‘ وہ جب لوگوں سے ملتا ہے‘ تو سب سے پہلے سلام کرتا ہے‘ وہ مجلسوں میں صد ربننے کی شش نہیں کرتا اور نہ نمو دو نما ئش کا خواہش مند ہوتاہے اور نہ لوگوں پر علم وفضل کی بر تر ی ظا ہر کرتا ہے ‘ غرض خد مت خلق کے ثمر ات ونتا ئج بہت سی صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں ‘ جہاں تک خدمت خلق کا تعلق ہے‘ تو اس کے بہت سے طر یقے ہیں۔ مثلا لوگوں کے لئے خیراتی ہسپتا ل قائم کرنا ‘بیو اؤں اور یتیمو ں کی خد مت اور دیکھ بھال کرنا یتیم لڑ کی کی شادی کرنا‘ اپنے چھوٹے بھائیوں کو ز یو رعلم سے آراستہ کرنا ‘ نادار طلبہ کو وظائف دینا ‘سلائی اور دستکا ری کے سینڑز قائم کرنا شامل ہے‘ محلے کی خدمت ستائشی وصف ہے‘ ایک خد مت اولادکی ہوتی ہے اور ایک ملک وقوم کی ‘ ملک وقوم کی خد مت کا رتبہ بڑا ہے ‘ جو شخص دین کی تبلیغ اور دینی علوم کی تد ریس کی خد مت انجا م ویتا ہے‘اﷲاس پر جنت کے دراوزے کھول دیتا ہے۔ اہلیت وفضیلت کا معیا رجذ بہ خد مت ہے‘ اپنے ملک پاکستان یا دنیا کے کسی بھی خطہ میں دین اسلام کی خد مت انجا م دے کر بھی انسا ن مدارج عالیہ پر فائز ہوسکتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...