تخت لاہور کے مضبوط پائے

تخت لاہور کے مضبوط پائے
 تخت لاہور کے مضبوط پائے

  


یہ تو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی کا ورثہ آصف علی زرداری کی جھولی میں آن گرا، پارٹی کی قیادت بھی مل گئی اور مملکت خداداد کی صدارت کا راستہ بھی ہموار ہوا، ورنہ کون نہیں جانتا کہ جنرل پرویز مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان جو این آر او ہوا تھا، اس میں صدارت کا فیصلہ کچھ اور تھا۔ اب کہا تو یہی جاتا ہے کہ ہم نے جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے علیحدہ کیا۔ ایسا ہی ہوگا ،لیکن یہ سوال بھی تو ابھی تک جواب طلب ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو تمام تر اعزاز اور پروٹوکول کے ساتھ کس کی حکومت میں روانہ کیا گیا تھا۔۔۔ اور پھر اپنے دامن پر کیا کیا داغ نہیں تھے کہ جنہیں نظرانداز کیا گیا ۔ یہ پرانی باتیں ہیں، لیکن عوام کا حافظہ اتنا بھی تو کمزور نہیں، پھر بھی یہ کل کی باتیں ہیں۔ ایان علی کے وکیل کا پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا تعلق تھا اور اب بھی ہے، اس کی رہائی کیسے ہوئی اور اس کو بیرون ملک سدھارنے کا موقع کیسے ملا ؟پھر ڈاکٹر عاصم کی 19مہینے بعد 479ارب روپے کی کرپشن کے بدترین الزام میں ضمانت ہوئی اور انہیں رہائی بھی ملی۔یہ صحیح ہے کہ عدالت کے فیصلے ہیں اور اس ضمن میں فیصلے پر تنقید توہین عدالت کے مترادف ہے۔ ایسا ہی ایک اور فیصلہ حج کرپشن کے الزام میں سزا پانے والے حامد کاظمی کا بھی ہے ،جسے ’’دیرآید درست آید‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کئی سال پس دیوار زنداں رہنے کے بعد ان کی بے گناہی ثابت ہوئی ہے، لیکن اصل سوال تو ٹائمنگ کا ہے۔ یہ سب کچھ عین اس موقع پر ہوا ہے، جب پاناما کیس کے فیصلے کی آمد فضاؤں میں گونج رہی ہے اور تحریک انصاف کی طرح پیپلزپارٹی بھی صبح و شام اس کا انتظار کر رہی ہے تاکہ آئندہ کی حکمت عملی بنائی جائے اور ایک سال بعد ہونے والے انتخابات کی صف بندی کو حتمی شکل دی جائے۔

یہی وہ پس منظر ہے جس میں پیپلز پارٹی کے خودساختہ شریک چیئرمین اور چیئرمین (باپ بیٹا) لاہور کو سیاست کا مرکز بنائے ہوئے ہیں۔جوڑ توڑ اور سیاسی رابطوں میں مصروف ہیں، ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں اور ٹیلیفون کے سلسلے بھی بحال ہو رہے ہیں۔ ناراض کارکنوں کو منانے اور کامیاب ہونے والے انتخابی امیدواروں کی واپسی کے لئے دروازے بھی کھولے جا رہے ہیں۔ سیاسی ہنگامہ آرائی کے ساتھ ماحول کو مزید گرم کرنے کے لئے تندو تلخ بیانات بھی جاری کئے جا رہے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا، جب پنجاب پر حملہ آور ہونے کی نوید نہیں سنائی جاتی اور پنجاب حکومت خصوصاً میاں شہباز شریف جو دن رات عوام کی خدمت میں مصروف ہیں، انہیں چیلنج نہیں کیا جاتا۔۔۔ خواہش بس اتنی ہے کہ پنجاب کو دوبارہ اپنی سیاسی ریاست کا حصہ بنا لیا جائے۔ان بیانات، سیاسی ہنگامہ آرائیوں کا بنیادی مقصد پیپلز پارٹی کے جیالوں کو متحرک کرنا ہے، لیکن اسے کیا کیجئے کہ وقت بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ پلوں کے نیچے سے بہت ساراپانی گزر چکا ہے۔ نئی نسل میدان میں آ چکی ہے، جس کو علم بھی ہے اور سیاسی شعور بھی۔ وہ اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے، وہ جانتی ہے کہ کون اس کا ہمدرد ہے اور کس نے عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنایاہوا ہے، کس کے دامن پر سیاہ داغ ہیں اور کس کا دامن شفاف ہے؟ نئی نسل اندھی تقلید پر نہیں، کارکردگی پر یقین رکھتی ہے۔ وہ کھلی آنکھوں سے سب کجھ دیکھتی ہے، چنانچہ اس کا یہ سوال بھی حق بجانب ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے عرصہء اقتدار میں پیپلزپارٹی نے پنجاب کے عوام کے لئے کیا کیا۔ اس کا جواب وہ گزشتہ انتخاب میں دے بھی چکے ہیں۔

پیپلز پارٹی محض سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے، لیکن نئی نسل یہ بھی پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ سندھ میں تو اس کی گزشتہ نو سال سے حکومت ہے۔ سندھ کے عوام کو کیا حاصل ہوا ہے؟ کراچی جیسا صنعتی شہر جو پاکستان کی معیشت میں حب کی حیثیت رکھتا ہے، اس کو کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں کے سوا کیا ملا ہے؟ ایسے میں پنجاب کو فتح کرنے اور تخت لاہور پر قبضہ جمانے کی خواہش کس بنا پر ہو رہی ہے۔ خواب دیکھنا ہر کسی کا حق ہے، اس میں کوئی ہرج بھی نہیں، لیکن حقائق پر بھی تو نظر ہونی چاہئے۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لینے والا سیاستدان ہی کامیابیوں سے ہمکنار ہوتا ہے۔ یہ وہی غلطی ہے جو تحریک انصاف اور اس کی قیادت نے کی۔ وہ تو نومولود ہیں، ان میں کج فہمی اور کوتاہ اندیشی بھی ہے۔ پیپلز پارٹی تو ایک تجربہ کار اورکہنہ مشق جماعت ہے، اسے حالات کا تجزیہ کرنے میں کسی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ اسے یہ تسلیم کر کے آگے بڑھنا چاہئے کہ نہ تو وہ پرانا پنجاب ہے اور نہ ہی پنجاب کی قیادت، یہ تخت لاہور نہیں خدمت مرکز ہے۔ اس تخت پر وہی براجمان ہوگا، جس کی جھولی میں خدمات ہوں گی اور بازوؤں میں طاقت، ذہن میں جوش اور جذبہ۔۔۔اس لئے اب وقت باتوں اور بیانوں کا نہیں، کام اور کارکردگی کا ہے۔ یہی تخت لاہور کے پائے ہیں جو تصور سے زیادہ مضبوط ہیں، انہیں توڑنا بچوں کا کام نہیں۔

مزید : کالم


loading...