ٹریفک کے گو نا گوں مسائل

ٹریفک کے گو نا گوں مسائل
 ٹریفک کے گو نا گوں مسائل

  


پاکستان کے دِل اور پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بالخصوص اور صوبے بھر میں بالعموم ٹریفک کی صورتِ حال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک کا اژدہام اِس قدر ہے کہ پیدل چلنا بھی دشوار ہے، لاہور میں تو ترقیاتی کام ٹریفک کی روانی میں مسلسل رکاوٹ بن رہے ہیں، جابجا کھدائی کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں قوم کا قیمتی وقت ضائع کر رہی ہیں تو دوسری جانب شہری ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور دفاتر میںآمدورفت میں تاخیر معمول بن گئی ہے جسے دیکھو ٹریفک کو رکاوٹ قرار دے کر لیٹ آتا اور جاتارہا ہے۔ ٹریفک خراب ہونے کی کئی وجوہات ہیں، بڑی وجہ تو یہ ہے کہ ٹریفک کنٹرول کرنے پرمامور پولیس اہلکار اپنے فرائضِ منصبی دیانتداری اور محنت سے انجام نہیں دے رہے یا نہیں دے پا رہے ہیں۔

لاہور کی بیشتر سڑکوں پر ٹریفک کے مسائل موٹر سائیکل سواروں یا چنگ چی رکشاؤں کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں۔ ٹریفک وارڈنز ہر چوراہے پر موٹر سائیکل سواروں کو روک کر بحث و تکرار میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، اِس کے باوجود موٹر سائیکل کی وجہ سے پیدا ہونے والے ٹریفک مسائل ختم نہیں ہو رہے۔ کئی سڑکوں پر موٹر سائیکل سوار گاڑی سے بھی تیز رفتار بائیک رائیڈنگ کر کے ٹریفک میں خلل کا باعث بن رہے ہیں تو اکثر مقامات پر حادثات کی وجہ بھی یہی ہے۔ روڈ ایکسیڈنٹ کی تفصیلات پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران زیادہ تر حادثات بائیک رائیڈرز کے ہی ہوئے ہیں۔ ان میں کئی موٹر سائیکل سوار جان کی بازی بھی ہار گئے،جبکہ کئی دوسروں کی جان لینے کا باعث بھی بنے۔ ٹریفک سگنلز توڑنا تو اکثر موٹر سائیکل سوار اپنا فرضِ اولین سمجھتے ہیں، کئی تو ٹریفک پولیس والوں پر آوازے کسنا ضروری سمجھتے ہیں اور شاید اُنہیں اِس کے بغیر چین بھی نہیں آتا۔ لین اور لائن کا خیال تو موٹر سائیکل سوار رکھتے ہی نہیں، رانگ سائیڈ پر آنا بھی معمول ہے۔ مخالف سمت سے آنے والے موٹر سائیکل سوار کے دو بدو کھڑے ہو کر گفتگو بھی کی جاتی ہے اور ٹریفک اہلکار منع کرے تو نوبت جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔اکثر موٹر سائیکل سوار اپنی بائیک کو لوڈر وہیکل سمجھتے ہیں اور اِس قدر سامان لاد کر جا رہے ہوتے ہیں کہ پک اَپ کا گماں ہوتا ہے۔ بعض وارڈنز بھی اِس حوالے سے ذرا نرم دِل واقع ہوتے ہیں اور وہ موٹر سائیکل سواروں پر زیادہ سختی نہیں کرتے، کار سوار سیٹ بیلٹ نہ باندھے تو چالان سے بچ نہیں پاتا، لیکن موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہننے کی پابندی ہوا میں اڑا رہا ہو تو کوئی نہیں پوچھتا۔ اکثر ٹریفک وارڈنز ٹریفک کنٹرول کرنے کی بجائے قانون کی خلاف ورزی کر کے آنے والوں کے خلاف کارروائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اُنہیں شاید اِس بات کا علم نہیں کہ اُن کا بنیادی کام ٹریفک ریگولیٹ کرنا ہے نہ کہ اشارہ توڑ کے آنے والے کا چالان کرنا۔

ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ایک اور اہم مسئلہ ہے ٹریفک وارڈنز کا چُھپ کر کھڑا ہونا ہے، جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ کوئی شخص ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرے تو اُس سے معاملات طے کئے جائیں۔ قانون نافذ کرنے والوں کو بھی قانون سکھانے اور اُس پر عملدرآمد کا پابند بنانے کی ضرورت ہے تب ہی ٹریفک بہتر طور پر رواں رکھی جا سکتی ہے وگرنہ جس تیزی سے گاڑیوں کی لیزنگ ہو رہی ہے آئندہ دو چار سال میں لاہور کی سڑکوں پر پیدل چلنا بھی محال ہو گا۔ریلوے حکام نے کنٹونمنٹ کے ایریا میں آنے والی ریلوے لائن کے اردگرد فصیل کھڑی کر دی ہے خوش آئند اقدام ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ پختہ دکانیں بھی بنائی جا رہی ہیں یہ بھی ٹریفک میں ایک بڑی رکاوٹ ہے اِس کا سدِ باب بھی نہایت ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے لاہور کو کشادہ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بڑا خوش آئند ہے،لیکن تجاوزات کی شکل میں جو دکانیں قائم کی جا رہی ہیں وہ وزیراعلیٰ کے اِس منصوبے کو ناکام بنا دیں گی، ضرورت اِس امر کی ہے کہ ٹریفک کے بہاؤ کو درست کرنے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں، جن پر عملدرآمد نہ کرنے والا مستوجبِ سزا ٹہرے تب ہی کام چلے گا۔

مزید : کالم


loading...