آخر سیکیورٹی انتظامات میں کمی کہاں ہے؟

آخر سیکیورٹی انتظامات میں کمی کہاں ہے؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مردم شماری جاری رہے گی اور کام ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا، مردم شماری کا انعقاد قومی ذمے داری ہے اور سول و فوجی حکام و اہلکاروں کی جانب سے قیمتی جانوں کی قربانی یقیناًبہت بڑی قربانی ہے۔ یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید پختہ کریں گی اور پوری قوم کے تعاون سے ہم مُلک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کریں گے۔انہوں نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ دِلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ڈیوٹی کے دوران اپنی جانیں قربان کرنے والے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ آرمی چیف کا یہ بیان لاہور میں مردم شماری ٹیم پر خود کش حملے کے بعد آیا ہے، جس میں چار فوجیوں سمیت 7افراد شہید اور22 زخمی ہو گئے تھے۔ بدھ کی صبح سویرے بیدیاں روڈ پر حملہ آور نے مردم شماری ٹیم کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔فوج کے جوان اور محکمہ تعلیم کے عملے کے ارکان مردم شماری کے لئے جا رہے تھے۔ کمشنر مردم شماری پنجاب عارف انور بلوچ نے کہا ہے کہ خانہ و مردم شماری قومی فریضہ ہے جسے ہر قیمت پر پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ ایوب سٹیڈیم میں شہدا کی نمازِ جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمارے حوصلے بلند ہیں۔

مردم شماری پہلے ہی نو سال کی تاخیر سے شروع ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ میں حکومت نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ سیکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے مردم شماری فوری طور پر شروع نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اِس مقصد کے لئے فوج کی خدمات حاصل کرنی ہیں، جس کی بعض دوسری اہم تر مصروفیات ہیں اِس لئے جونہی فوج کی خدمات دستیاب ہوں گی مردم شماری شروع کر دی جائے گی۔ تاہم عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران یہ رائے بھی سامنے آتی رہی کہ سارے کام فوج کے سپرد نہیں کئے جا سکتے اِس لئے مردم شماری ہر صورت شروع کر دی جائے۔ مردم شماری کی ٹیموں پر مختلف شہروں میں ہونے والے حملوں اور اب لاہور میں خونیں خود کش حملے کے بعد یہ خدشہ پایۂ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ مردم شماری کی ٹیموں پر حملوں کا امکان تھا اور غالباً اِسی وجہ سے فوج کی خدمات دستیاب ہونے تک اس میں تاخیر کی جا رہی تھی، چونکہ دہشت گردوں کی سرگرمیاں جاری ہیں اور وہ کسی نہ کسی انداز میں جہاں موقعہ پاتے ہی خود کش حملے سے گریز نہیں کرتے، جس کی پہلے سے باقاعدہ تیاری اور ریکی کی جاتی ہے۔لاہور کا حملہ بھی اِسی طرح منصوبہ بندی کے بعد کیا گیا، جس میں فوجیوں سمیت قیمتی جانیں ضائع ہوئیں تاہم اب مردم شماری کا کام تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے اور حالات جو بھی ہوں اِسے ہر حالت میں اور ہر صورت تکمیل تک پہنچانا ہو گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے اِس عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ کسی دہشت گرد گروہ کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ عملے پر حملوں سے اِس کام کو روکنا ممکن ہو گا تاہم یہ بہت ضروری ہے کہ عملے کی سیکیورٹی کی منصوبہ بندی دوبارہ کر لی جائے اور اگر کہیں کسی جگہ کوئی کمی ہے تو وہ دور کر لی جائے۔

ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ نیکٹا نے حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا اور29مارچ کو تھریٹ الرٹ جاری ہوا تھا اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر پنجاب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کیا تھا، تقریباً ایک ہفتے کے وقفے کے بعد یہ واقعہ ہو گیا، جس سے اب یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ہمارے اداروں کو انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر جو تھریٹ الرٹ جاری کئے جاتے ہیں اُن پر کماحقہ، توجہ نہیں دی جاتی یا پھر یہ سمجھ کر انہیں نظر اندازکر دیا جاتا ہے کہ سیکیورٹی کے انتظامات تو موجود ہیں، اِس لئے ایسا کچھ نہیں ہو گا،لیکن معلوم ہوتا ہے دہشت گرد اپنی منصوبہ بندی میں اِس بات کو اہمیت دیتے ہیں کہ انہیں جہاں کہیں سیکیورٹی میں کوئی رخنہ نظر آئے وہ اِس سے فائدہ اٹھا لیں،موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور نے گاڑی کے قریب جا کر خود کو اڑایا، اِس لئے اب ضروری یہ ہے کہ اِس پہلو کو پیشِ نظر رکھ کر سیکیورٹی پلان کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور اس میں جو کمی رہ گئی ہے وہ دور کی جائے۔ اہم تر بات یہ بھی ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کار معاشرے کے اندر موجود ہیں جن کا سراغ آسانی سے نہیں مل پا رہا،انٹیلی جنس اداروں کو یہ جائزہ بھی لینا ہے کہ آخر خرابی کہاں ہے، تھریٹ الرٹ جاری ہو جاتا ہے اور پھر ہفتے کے بعد خود کش حملہ آور کارروائی میں کامیاب بھی ہوتا ہے تو دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کیا انٹیلی جنس اور اطلاعات کا نظام مربوط نہیں ہے یا کہیں سُستی اور کوتاہی ہے کہ ایسی اطلاعات کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا جاتا یا پھر ضرورت سے زیادہ پُراعتمادی ہے کہ خطرے کی اطلاعات کو بہادری سے رد کر دیا جاتا ہے اور یہ سوچا جاتا ہے جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ کہیں کوئی کمی تو ہو گی جس کی وجہ سے نقصان ہو جاتا ہے۔

جب ہم سیکیورٹی کے نظام کا سر سری طور پر ایک عمومی زاویئے سے جائزہ لیتے ہیں تو سیکیورٹی کے بعض نقائص نظر آ رہے ہوتے ہیں،لیکن ہم اِن سے خوفزدہ نہیں ہوتے اور اپنا کام کرتے رہتے ہیں،لیکن لگتا ہے دہشت گرد سیکیورٹی کے اِن نقائص پر نظر رکھتے ہیں اور اُسی جگہ دھماکہ کرتے ہیں جہاں اُنہیں آسانی ہوتی ہے، ویسے بھی جو آدمی گھر سے اپنی جان دینے اور دوسروں کی جان لینے کے لئے نکل کھڑا ہوا ہے اور اُس نے خود کش جیکٹ پہن لی ہے اس نے تو کہیں نہ کہیں کارروائی کر ہی دینی ہے،اِس لئے ہمارے سیکیورٹی ماہرین کو جدید ترین ٹیکنیکس کی روشنی میں ان سب امور کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور ایسے سیکیورٹی انتظامات کرنے ہوں گے جن میں تھریٹ الرٹ کو نظر انداز کرنے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔

مردم شماری کا کام تو ابھی جاری ہے اور اگر پہلے کی طرح ہی ہو گا تو پھر خدشہ ہے کہ ٹیموں پر مزید حملے بھی ہو سکتے ہیں اور زیادہ خدشہ ہے کہ ایسے حملے اُن علاقوں میں ہوں گے،جہاں سیکیورٹی ٹیمیں بظاہر حفاظتی انتظامات کے بغیر جا رہی ہوں گی۔ مردم شماری کی ٹیموں کے ساتھ جو مسلح سپاہی ہوتے ہیں وہ ٹیم پر کھلے حملے کا اچھی طرح مقابلہ کر سکتے ہیں، اِس لئے ٹیموں پر بظاہر مسلح حملے کا کوئی خدشہ موجود نہیں، البتہ خود کش حملے کا توڑ ضروری ہے،اِس لئے سیکیورٹی اداروں کو مزید فعال اور انتظامات کو مزید بہتر کرنا ہو گا یہ بھی سنجیدہ معاملہ ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے باوجود حملہ ہو گیا۔

آپریشن ردّالفساد جاری ہے عین ممکن ہے کہ اِس آپریشن سے کسی نہ کسی طرح بچ نکلنے والے دہشت گرد مایوسی کے عالم میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں۔ایک اور پہلو بھی مدنظر رکھنا ہو گا،داعش کو شام میں ناکامیوں کا سامنا ہو رہا ہے، اُن کے بچے کھچے عناصر اگر اِس خطے کے ممالک کا رُخ کر رہے ہوں تو اُن پر بھی نظر رکھنا ہو گی۔ افغانستان میں داعش کی موجودگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،اِس وقت پاکستان میں دہشت گردی کی جو کارروائیاں ہو رہی ہیں اُن کے دہشت گرد بھی افغان سرحد کے راستے ہی پاکستان میں آتے ہیں۔ یہ تو تحقیق کے بعد پتہ چلے گا کہ لاہور میں دہشت گردی کے اس تازہ واقعہ میں ملوث ملزم کا تعلق کس مُلک سے ہے تاہم اتنا امکان تو ضرور ہے کہ دہشت گرد نے پاکستان میں داخلے کے لئے طور خم یا چمن کا راستہ استعمال کیا ہو، اِس واقعہ کے بعد پاک افغان سرحد کی مینجمنٹ کی ضرورت اور افادیت اور بڑھ گئی ہے۔سرحد پر جو باڑ لگائی جا رہی ہے اس کا کام بھی تیز کرنے کی ضرورت ہے اور سیکیورٹی انٹیلی جنس کے پورے نظام کو بھی اوور ہال کرنا ہو گا، سیکیورٹی خلا کو ہر جگہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ


loading...