بیماریوں کا بوجھ اور محفوظ خوراک

بیماریوں کا بوجھ اور محفوظ خوراک
 بیماریوں کا بوجھ اور محفوظ خوراک

  


برطانیہ میں غیرمعیاری خوراک کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں جیسا کہ فوڈ پوائزننگ وغیرہ کی ادویات کی مفت فراہمی کی بندش حیران کن خبر بن گئی۔ یہ بات باعث حیرت ہے کہ جس مُلک میں بنیادی حقوق کی فراہمی پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے،جہاں صحت کی بنیادی سہولتیں بالکل مفت ہیں ، وہاں ایسی سخت پابندی اور عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم کیوں کیا گیا ہے؟ خبر کا تعلق ایسے شعبہ سے تھا،جس سے میں کسی صورت منسلک ہوں اور تجسس سے مجبور ہو کر اس خبر کے حوالے سے جب اپنے برطانوی ہم عصر سے اس پابندی کا سبب دریافت کیا تو اس کا جواب بہت ہی مختصر، مگر گہرا تھا۔ اس کا کہناتھا کہ خوراک سے منسلک تمام بیماریوں ، خاص طور پرفوڈ پوائزنگ سے بچنا انسانی دائرہ کارمیں ہے اورایسی بیماریاں صرف لاپرواہی کا نتیجتاً ہوتی ہیں۔اگر خوراک کا مناسب خیال رکھا جائے توایسی بیماریوں سے بچنا ممکن ہے میں اس کے جواب سے تو مطمئن ہو گیا تاہم اس پہلو کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی کہ جب تک معاشرے کی ضرورت کے مطابق قوانین مرتب کر کے ان پر سختی سے عمل درآمد نہ کروایا جائے اور ان قوانین کی روشنی میں ہر فرد کوایسے چیلنجز کے لئے تیا ر نہ کیا جائے تب تک کسی بھی برائی یا بیماری پر مکمل قابو نہیں پایا جایا سکتا۔جہاں افراد کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک کی فراہمی کا یقین ہو وہاں کے ادارے اپنے عوام سے ایسے ذمہ دار رویئے کی توقعات کر سکتے ہیں، ایسی پابندیاں لگا سکتے ہیں اور ایسے دعوئے کر سکتے ہیں،کیونکہ وہاں ادارے قائم ہیں اور قوانین مستحکم ہیں۔خوارک محفوظ ہے اور عوام میں شعور و آگاہی اپنے بہترین درجے پر ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قیام کا مقصد بھی ایسے ہی چیلنجز سے نبرد آزما ہونا ہے اورقوانین کی روشنی میں صحت مند خوراک کی فراہمی اور عوامی آگاہی کو یقینی بنا کر ایسے معاشرے کی تشکیل دینا ہے جس میں ہر فرد کو مکمل اعتماد ہو کہ وہ جو خوراک کھا رہا ہے وہ حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہے اور کون سی خوراک کھا کر وہ صحت مند زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ خوراک سے منسلک بیماریوں سے محفوظ رہ کر بیماریوں کے بوجھ سے بچ سکتا ہے۔ 

بیماریوں کا بوجھ سے مراد یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص چھوٹی چھوٹی بیماریوں خاص طورپر خوراک سے منسلک بیماریوں کے علاج پر نا صرف سرکاری ہسپتالوں کے وسائل کا ایک بڑا حصہ لگتا ہے،بلکہ عام آدمی ذاتی جیب سے ہر ماہ بہت سارا خرچ ان بیماریوں کے علاج پر کرتے ہیں۔بچوں کے گلے خراب ہونے سے لے کر بڑوں میں بدہضمی اور فوڈ پوائزنگ جیسی بیماریاں اکثر لوگوں کی جیب پر بھاری پڑتی ہیں اور ماہانہ آمدن کا بڑا حصہ خرچ کروا دیتی ہیں۔پیسوں کے علاوہ ان کا قیمتی وقت بھی اس میں صرف ہوتا ہے اور ذہنی پریشانی کے سبب اپنے کام پر بھی مکمل توجہ نہیں دے پاتے۔ اگر حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق محفوظ خوراک کی فراہمی اوراس حوالے سے شعور اور آگاہی یقینی بنالی جائے توعام آدمی کی ماہانہ آمدن ان بیماریوں کے علاج پر خرچ ہونے کی بجائے زندگی کی دوسری ضروریات پوری کرنے اور حکومت پنجاب کے صحت کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ بچا کر نئے ہسپتالوں کی تعمیر اور صحت کے دیگر پیچیدہ مسائل حل کرنے پر لگایا جا سکتا ہے۔کہنے اور سننے کی حد تک تو یہ بات بہت خوب لگتی ہے تاہم جب اس کے عملی پہلوؤں پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ سفر اتنا آسان،منظم اور مختصر نہیں ہے۔ قوم کے لئے الگ مُلک کا وجود تو1947ء میں عمل میں آیا تاہم صحت مند خوراک کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات کا آغاز 65سال بعد کیا گیا اور فوڈ اتھارٹی جیسے ادارہ کا قائم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس کا تمام تر کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے صحت مند پنجاب پروگرام ویژن کو جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب ایک دور رس نظر رکھنے والی شخصیت ہیں اور ان کو اس بات کامکمل ادراک ہے کہ اگر صحت مند خوراک کی فراہمی یقینی بنا لی جائے تو ترقی یافتہ ممالک کی طرح یہاں بھی بیماریوں کا بوجھ کم کیا جا سکتا ہے اور عوام سے ذمہ دار رویے کی توقع کی جا سکتی ہے۔تاہم 70برسوں کا سفر پانچ سال میں طے کرنے کے لئے پنجاب فوڈ اتھارٹی اپنی پوری رفتار سے کام کر رہی ہے اور اس حوالے سے حکومت پنجاب کی طرف سے انتظامی تعاون مثالی ہے۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی صحت مند پنجاب پروگرام ویژن کے تحت جدید دنیا میں رائج طریقہ کار کے عین مطابق عوام کو معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے قوانین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور عوامی ضروریات اور مسائل کے عین مطابق بنانے اور ان پر عمل درآمد کروانے میں مصروف عمل ہے۔ اس سلسلے میں خوراک سے منسلک تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی مشاورت سے نئے قوانین لانے کے ساتھ ساتھ موجودہ قوانین میں ترامیم اوراضافہ کیا جا تا ہے تاکہ محفوظ خوراک کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے خوراک سے منسلک کاروبارمتاثر نہ ہوں۔ایک عمومی اندازے کے مطابق ہمارے ہاں فوڈ پوائزنگ کی سب سے بڑی وجہ شادیوں اور تقریبات کا کھانا بھی ہے۔ یہ کھانا نا صرف غیرمعیاری ہوتا ہے،بلکہ کھانے والوں کو اکثر اس کی غذائیت اور مقدار کے متعلق علم نہیں ہوتا،جس کی وجہ سے اکثر لوگ تقریبات کے بعدبیمار پڑ جاتے ہیں۔ابتدائی طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی شادی ہالوں میں کھانے کے معیا ر کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق بنانے پر کا م کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ کھانے کی غذائیت اور مقدار کے حوالے سے آگاہی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔

گزشتہ ماہ مختلف شہرو ں میں شادی ہالوں اور کیٹرنگ کمپنیوں سے سلسلہ وار مشاورت کے بعد تمام شادی ہالوں اور کیٹرنگ کمپنیوں کو لائسنس کے حصول کے لئے وقت دیا گیا تھا ۔مقررہ وقت گزرنے کے بعد اب پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے شادی ہالوں اور کیٹرنگ کمپنیوں کوآخری وارننگ جاری کر دی گئی ہے اور لائسنس حاصل کرنے کے لئے 15روز کی حتمی مہلت دی گئی ہے۔ یہ مہلت 20اپریل کو ختم ہو گی۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی خوراک سے منسلک تمام شعبوں کو قوانین کی حدود میں لانے پر کام کر رہی ہے تاکہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق روزانہ لاکھوں افراد مختلف تقریبات اور شادی بیاہ میں کھانا کھاتے ہیں۔ ہم اس امر کو یقینی بنا رہے ہیں کہ شادی ہالوں میں کھانا صرف پنجاب فوڈ اتھارٹی کی منظور شدہ کیٹرنگ کمپنیاں ہی مہیا کر سکیں اورشادی ہالوں کے کھانے کی تیاری میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے منظور شدہ آئل ، گھی، مصالحہ جات اور دیگراجزاء استعمال کئے جا ئیں۔علاوہ ازیں شادی ہالوں میں غیر معیاری اجزاء اوراستعمال شدہ خوردنی تیل کی متعدد شکایات سامنے آئی ہیں، جن پر پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکشن بھی لے چکی ہے اور اس حوالے سے قوانین کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔دیگر ہوٹلوں ، ریسٹورانوں کی طرح اب شادی ہالوں اور کیٹرنگ کمپنیوں کو پابند کیا جا رہاہے کہ کھانے کی تیاری میں میعاری اجزا کے استعمال کے ساتھ ساتھ استعمال شدہ تیل بھی دوبارہ کھانے پینے کے مقصد میں نہ لایا جائے۔استعمال شدہ خوردنی تیل صرف منظور شدہ بائیو ڈیزل بنانے والی کمپنیوں کو ہی فروخت کیے جا نے کی اجازت ہے۔ غیر منظور شدہ کیٹرنگ کمپنیاں حفظان صحت کے اصولوں سے ناواقفیت کی وجہ سے غذائی پہلوؤں کی مکمل سمجھ نہیں رکھتیں، جس کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں۔ ہوٹلوں، ریسٹورانوں ، خاص طور پر شادی ہالوں اور کیٹرنگ کمپنیوں میں لوہے، تانبے، سلور کے برتن ، دیگیں اور پلاسٹک کے برتن استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ایسے برتنوں کے استعمال سے دھات، پلاسٹک کے ذرات اور رنگ کھانے میں شامل ہو کر کینسر اور دیگر بیماریوں کا باعث بنتے ہیں ۔

مزید : کالم


loading...