گولڈ برگ نے بھی ریسلنگ کی دنیا کو خیرباد کہہ دیا

گولڈ برگ نے بھی ریسلنگ کی دنیا کو خیرباد کہہ دیا
 گولڈ برگ نے بھی ریسلنگ کی دنیا کو خیرباد کہہ دیا

  


واشنگٹن (نیٹ نیوز)ریسلنگ کے سب سے بڑے ایونٹ ریسل مینیا 33 میں معروف ریسلر انڈرٹیکر کی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک اور لیجنڈ ریسلر گولڈ برگ نے بھی اس دنیا کو خیرآباد کہنے کا فیصلہ کرلیا۔سابق ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن گولڈ برگ نے گزشتہ برس اپنے سابق حریف بروک لیسنرز کا چیلنج قبول کرتے ہوئے 13 سال بعد ریسلنگ کی دنیا میں واپسی کی اور تاریخی میچ میں اپنے حریف ریسلر بروک لیسنر کو محض 86 سیکنڈ میں شکست دے کر سب کو حیران کردیا جس کے بعد امید ظاہر کی جارہی تھی کہ وہ اس چیلنج کے بعد دوبارہ کبھی رنگ میں دکھائی نہیں دیں گے لیکن حیران کن طور پر انہوں نے بروک لیسنر کو شکست دینے کے بعد بھی ریسلنگ کیرئیر جاری رکھا۔گزشتہ روز ریسلنگ کے سب سے بڑے ایونٹ ریسل مینیا 33 میں بروک لیسنر نے گولڈ برگ کو شکست دے کر نہ صرف اپنا بدلا لیا بلکہ یونیورسل چیمپئن شپ پر بھی قبضہ کرلیا۔ میچ کے بعد گولڈ برگ نے اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ڈبلیو ای میں 13 سال بعد واپسی کا موقع دینے کے لیے میں سب کا شکرگزار ہوں، مجھے موقع دیا گیا کہ میں وہ سب کچھ دوبارہ کرسکوں جو پہلے کیا کرتا تھا جب کہ میری رنگ میں واپسی کے بعد سے گزشتہ چند ماہ میرے لیے ناقابل یقین رہے ہیں اور میں خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا ہوں کہ مجھے واپسی کا موقع ملا۔گولڈ برگ نے کہا کہ میں اب بھی وہی لڑکا ہوں لیکن اب میری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اور میری ساری توجہ میری فیملی کی طرف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے مداح ممکنہ طور پر آخری بار مجھے رنگ میں دیکھ رہے ہیں لیکن اگلے ہی لمحے گولڈ برگ نے یہ بھی کہا کہ شاید ایسا نہ بھی ہو کیوں کہ زندگی میں کچھ بھی ممکن ہوسکتا ہے، کیا پتہ مجھے مستقبل قریب ڈبلیو ڈبلیو ای میں دوبارہ واپسی کا موقع ملے۔واضح رہے کہ 23 بار ریسل مینیا جیتنے والے لیجنڈ ریسلر انڈرٹیکر نے بھی چند دن پہلے ریسلنگ کیرئیر کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...