پولیس کے آئی جی صاحبان فٹ بال کیوں؟ (1)

پولیس کے آئی جی صاحبان فٹ بال کیوں؟ (1)
 پولیس کے آئی جی صاحبان فٹ بال کیوں؟ (1)

  


جنرل ضیاء الحق کے 1988ء میں ہوائی حادثہ میں جاں بحق ہونے کے بعد پاکستان میں جمہوری دوربحال ہوا تو مرکز میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومتیں بن گئیں، بے نظیر بھٹو وزیر اعظم پاکستان اور میاں نواز شریف وزیر اعلی پنجاب، لیکن جلد ہی دونوں میں محاذ آرائی شروع ہو گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر گئی، ایک دوسرے کا نام سنتے ہی دونوں کا خون کھول اٹھتا اور ہر وقت تصادم کی کیفیت رہتی۔ چوہدری اعتزاز احسن وزیر داخلہ تھے، ان کا خیال تھا کہ وزیر اعلی پنجاب کو مرکز کے خلاف ابھارنے میں ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ سردار محمد چوہدری کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کو مشورہ دیا کہ سردار محمد چوہدری چونکہ وفاق کے افسر ہیں اس لئے انہیں واپس بلا لیا جائے ، چنانچہ وفاق نے پنجاب سے انہیں واپس مانگ لیا، لیکن ہوا یوں کہ وزیراعلی نواز شریف نے سردار محمد چوہدری کو واپس کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر معاملہ بڑھتے بڑھتے لاہور ہائی کورٹ تک جا پہنچا، پہلے جسٹس خلیل الرحمان رمدے کا سنگل بنچ بنا لیکن معاملے کی حساسیت کی وجہ سے جلد ہی ڈویژن بنچ بن گیا جس کی سربراہی جسٹس خلیل الرحمان خان کررہے تھے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے ایس ایم ظفر بطور وکیل پیش ہوئے، ان کا موقف تھا کہ وفاق اور صوبوں کی لڑائی میں افسران فٹ بال بن گئے ہیں۔ اس مقدمہ کا فیصلہ پنجاب حکومت کے حق میں ہوا اور یوں پنجاب نے سردار محمد چوہدری کو اپنے پاس ہی برقرار رکھا اور وفاق کو واپس نہیں کیا۔ 1989ء میں جسٹس خلیل الرحمان خان کے فیصلہ میں لکھے گئے الفاظ کی اہمیت آج 28 سال بعد جوں کی توں ہے کہ وفاق اور صوبوں کی لڑائی میں افسران کو فٹ بال بنایا ہوا ہے۔

میں نے کچھ دن پہلے ہی لکھاتھا کہ اگر افسروں کے تقرر میں میرٹ اور قابلیت کی بجائے سیاسی وفاداریوں کو مد نظر رکھا گیا تو بحرانی کیفیت پیدا ہو جائے گی جس کا نقصان اس صوبہ کے عوام کو پہنچے گا اور پولیس فورس کا مورال گر جائے گا۔ بد قسمتی سے کچھ دنوں میں ہی دو صوبوں سندھ اور خیبر پختون خوا میں آئی جی صاحبان کی تقرری کے معاملات لڑائی جھگڑے کی صورت اختیار کرکے عدالتوں تک پہنچ گئے ہیں۔سندھ کے تو رنگ ہی نرالے ہیں، ابھی کچھ دن پہلے ہی میں نے ذکر کیا تھا کہ جب سے پیپلز پارٹی کے پاس سندھ کا اقتدار دوبارہ آیا ہے، 9 سال میں 12 آئی جی تبدیل ہو چکے ہیں، اس کے بعد بمشکل دو دن ہی گذرے تھے کہ سندھ حکومت نے ایک اور سیاسی واردات کر ڈالی اور آئی جی سندھ اے ڈی کھوجہ کو ایک بار پھر ہٹا کر عبدالمجید دستی کو نیا آئی جی بنا دیا ۔ یہ نہ صرف سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی تھی بلکہ پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی انتہائی بھونڈی کوشش بھی تھی۔ یہاں معاملہ بڑھ گیا، نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ عوام کے ہر طبقہ نے یہ فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ عوام، میڈیا، سوشل میڈیا، غرض ہر طبقہ جس طرح سے اے ڈی کھوجہ کی پشت پر کھڑا ہو گیا ہے اس سے چیف جسٹس بحالی تحریک کی یاد تازہ ہو گئی ہے۔

فرق اتنا ہے کہ افتخار محمد چوہدری کو ایک فوجی آمر نے ہٹایا تھا اور اے ڈی کھوجہ کو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی ایک جمہوری حکومت نے نشانہ بنایا ہے، حکومتیں مختلف ضرور ہیں لیکن طرز عمل دونوں کا آمرانہ اور خلافِ قانون ہے۔ فوجی آمر چاہتا تھا کہ عدلیہ موم کی ناک ہو ، جس طرف چاہا موڑ لیا اور اپنے آپ کو جمہوری کہلانے والی پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت چاہتی ہے آئی جی سندھ مٹی کا ایسا مادھو ہو کہ پیپلز پارٹی اپنی مرضی کے تھانیدار اور دوسرے پولیس افسران لگائے اور مخالفین کو جوتے کی نوک پر رکھے۔ وفاقی حکومت کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے آئی جی سندھ کے بارے میں دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی وفاق کی مرضی کے برخلاف نہیں لگائے جا سکتے، خاص طور پر ان صورتوں میں جب صوبے کی سیاسی بدنیتی کھلم کھلا عیاں ہو۔ سندھ ہائی کورٹ نے بھی صوبائی حکومت کی طرف سے کی گئی تقرری کے خلاف حکم امتناع دیتے ہوئے عبدالمجید دستی کو چارج چھوڑنے اور اے ڈی کھوجہ کو چارج دوبارہ سنبھالنے کا حکم دیا، صرف یہی نہیں بلکہ قواعد و ضوابط کے خلاف چارج لینے والے آئی جی عبدالمجید دستی کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس بھی جاری کر دیا۔(جاری ہے)

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک عام آدمی کو اے ڈی کھوجہ سے کیا لینادینا، لیکن قانون کی حکمرانی ایک ایسا خواب ہے جو ہر پاکستانی دیکھتا ضرور ہے۔ابھی سندھ ہائی کورٹ کی وجہ سے چارج دوبارہ اے ڈی کھوجہ کے پاس ہی ہے کیونکہ ہائی کورٹ نے حکم دے رکھا ہے کہ آئندہ سماعت تک انہیں نہ ہٹایا جائے۔ اگلی سماعت پر کیا ہوتا ہے، وفاق اور اسٹیبلشمنٹ اپنے شاٹ کیسے کھیلتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سندھ کی صوبائی حکومت قانون اور آئین کی عملداری میں کتنی مخلص ہے اس کا پتہ اگلے چند روز میں چل جائے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ عبدالمجید دستی نے چارج تو چھوڑ دیا ہے لیکن جاتے ہوئے اے ڈی کھوجہ کی کرسی وہ اپنے ساتھ ہی لے گئے ہیں، بہر حال جہاں تک سینیارٹی کا تعلق ہے تو اس میں شک نہیں کہ دونوں میں عبدالمجید دستی سینئیر ہیں، یہ ایک فٹ بال میچ ہی تو ہے جو سندھ میں جاری ہے۔

دوسری طرف خیبر پختون خوا کا منظر نامہ بھی دلچسپ ہے۔ 16 مارچ کو آئی جی خیبر پختون خوا ناصر درانی ریٹائر ہوئے تو آئی جی کا عارضی چارج سینئیر ایڈیشنل آئی جی اختر علی شاہ کو دیا گیااور پھر کچھ دنوں بعد مستقل آئی جی کے طور پر صلاح الدین محسود کی تقرری کر دی گئی۔ یہ ایک غلط فیصلہ تھا جسے نہ عوام نے تسلیم کرنا تھا اور نہ ہی پولیس فورس نے۔ یہ کتنی نا مناسب بات ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں 21 گریڈ کے چھ ایڈیشنل آئی جی افسران کی موجودگی میں 20 گریڈ کے افسر کی تقرری کر دی جائے۔ اختر علی شاہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی زنجیرِ عدل ہلا چکے ہیں یہ دیکھنے کے لئے کہ عدالت عالیہ ان کی رٹ پٹیشن پر کیا فیصلہ دیتی ہے، اس پر کچھ دنوں انتظار کرنا ہوگا۔ خیبر پختون خوا میں آئی جی کی تقرری میں وفاقی حکومت کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ صوبے سے جو تین نام پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے وزیر اعظم ہاؤس کو بھجوائے تھے ان میں صلاح الدین محسود کا نام پہلے نمبر پر تھا،وفاقی حکومت نے پہلے نام کو ہی منظور کر لیا۔ خیبر پختون خوا میں ہونے والے میرٹ کا یہ قتل عام اس پارٹی کی طرف سے کیا گیا ہے جو پچھلے تین چار سال سے شفافیت کا علم اٹھائے شہر شہر احتجاج کرتی پھرتی ہے، کبھی دھرنے دیتی ہے اور کبھی وفاقی دارالحکومت کو لاک ڈاؤن کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ عمران خان اور ان کے وزیر اعلی پرویز خٹک کو پتہ ہی نہیں ہے کہ 20 گریڈ کا افسر ڈی آئی جی سے اوپر نہیں لگ سکتا،ان دونوں لیڈروں کے لئے عرض ہے کہ صوبے کا آئی جی 22 ویں گریڈ کا ہوتا ہے یا پھر 21ویں گریڈ کا سینئیر افسر۔ میں نے اختر علی شاہ کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ پٹیشن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا ہے ، جس طرح انہوں نے سپریم کورٹ کی طرف سے دئیے گئے فیصلوں کے حوالہ جات دئیے ہیں، مجھے لگتا ہے عدالت عالیہ پی ٹی آئی کی طرف سے لگائے گئے ایک انتہائی جونئیر افسر کی تقرری کو منسوخ کر دے گی۔ بہر حال خیبر پختون خوا میں آئی جی کی تقرری پر ہونے والا فٹ بال کا آخری سکور کیا ہوتا ہے اس کا بھی آئندہ کچھ دنوں میں پتہ چل جائے گا۔

اگلے ہفتہ پنجاب نے بھی اپنا نیا آئی جی لگانا ہے۔ میرا گمان ہے کہ سندھ اور خیبر پختون خوامیں برپا ہونے والے عدالتی معرکوں اور میڈیا میں اٹھنے والے طوفان کی وجہ سے میرٹ کے مطابق کسی سینئیر افسر کو ہی آئی جی پنجاب بنانا ہو گا۔ کون سا افسر میرٹ کے مطابق سب سے زیادہ کوالیفائی کرتا ہے اس کا علم ہر ایک کو ہے اور تمام نگاہیں بھی اسی بات کی منتظر ہیں کہ کب شہباز شریف پنجاب کا نیا آئی جی مقرر کرتے ہیں۔کسی کو فٹ بال کا میچ دیکھنے کا شوق ہو تو تینوں صوبوں میں پولیس کے اعلی افسران کا حال دیکھ لے۔ آئی جی صاحبان کی تقرریوں میں میرٹ اور قانون سے زیادہ صوبائی حکومتوں کی اپنی اپنی سیاسی مصلحتیں واضح طور پر نمایاں ہیں۔ چونکہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے تو ان تقرریوں میں سیاسی مفادات کا عمل دخل بھی اس تناسب سے بڑھ رہا ہے جس کا نقصان عوام کو ہو رہا ہے ۔جسٹس خلیل الرحمان خان نے یہ بات 1989ء میں کہی تھی اور ہم آج تک اس بات کو نہ صرف سینے سے لگائے بیٹھے ہیں بلکہ حتی المقدور کوشش بھی کرتے ہیں کہ ان سینئیر افسران کو واقعی فٹ بال بنا کر رکھیں۔

مزید : کالم


loading...