عمران کی خوشخبری

عمران کی خوشخبری
 عمران کی خوشخبری

  


تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے قوم کو خوشخبری دی ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوریت کے ساتھ ہیں۔ ادھر پاکستان پیپلزپارٹی نے عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات کے بعد بیان جاری کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سیاستدانوں سے نہ ملا کریں۔۔۔ ہنسی تو دونوں خبروں پر آ رہی ہے، لیکن عمران خان نے جس بات کی قوم کو خوشخبری دی ہے، وہ انتہائی پُر لطف ہے۔ آرمی چیف سے ملاقات کے بعد عمران خان کا یہ بیان اپنی سابقہ کارکردگی کے لئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ وہ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر پاک فوج جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے تو وہ خود جمہوریت کوکیوں سپورٹ نہیں کرتے رہے؟ جذباتی دھرنے، وزیر اعظم سمیت پارلیمنٹ کے خلاف الٹے سیدھے بیانات اور دھمکی آمیز لہجہ، کبھی کبھار اخلاقیات سے بہت نیچے آ کر عجیب و غریب بڑھکیں ۔۔۔! کیا کیا بتائیں۔ امپائر کی انگلی سے لے کر جاوید ہاشمی کا کندھوں کی طرف اشارہ کر کے ’’بیجوں‘‘ والوں کا تذکرہ، پی ٹی وی کی عمارت اور پارلیمنٹ پر قبضے کی کوشش۔ نجانے کیا کچھ یاد آ گیا ۔ بے شک پوری قوم عمران خان کی وہ تند و تیز تقاریر نہیں بھول سکتی، جن میں کپتان دھمکی آمیز اور تحکمانہ لہجے میں وزیر اعظم پاکستان کو للکارتے ہوئے کہتے تھے کہ ’’نواز شریف استعفیٰ دو‘‘۔۔۔عوام عمران خان کے ان بیانات کو بھی نہیں بھولیں گے، جن میں وہ وفاقی وزراء اور سرکاری افسروں کو ڈراتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ’’ایک ایک کو دیکھ لوں ‘‘۔۔۔شکر ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کپتان پاکستان کو جمہوریت کے بارے میں بھرپور انداز میں سمجھایا اور وہ قوم کو خوشخبری سنانے کے قابل ہوئے۔ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت آم کا درخت ہے، سہجے سہجے جوان ہوتا ہے، لیکن جب پھل دینے پر آتا ہے تو اس کا پھل دنیا بھر کے پھلوں کا سردار کہلاتا ہے۔ ہمیں یقین تھا کہ آخر کار عمران خان جمہور اور جمہوریت کی اساس کو سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اس کی افادیت کے بارے میں دنیا کو سمجھاتے پھریں گے۔

عمران خان کا دھرنا سیاست چھوڑ کر عدالتوں کا رخ کرنا بھی نہایت اچھا شگون ہے۔ چند ’’پھٹیچر‘‘ قسم کے بیانات سے اگر عمران خان باز آ جائیں اور دھمکی آمیز، ہتک آمیز لہجہ ترک کر دیں تو آج نہیں تو کل اچھے سیاستدان ثابت ہو سکتے ہیں۔ اللہ کا لاکھ شکر کہ دھرنا سیاست کے دوران اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے حالیہ ملاقات کے بعد عمران خان کے کئی زعم ٹوٹے اور وہ جمہوریت کو نہ صرف سمجھنے لگے، بلکہ اس بات کے بھی قائل ہوئے کہ اگر پاک فوج میاں نواز شریف کی جمہوری حکومت کو سپورٹ کر رہی ہے تو ضرور جمہوریت میں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہے جس کی حمایت کرنی چاہئے۔ ورنہ عمران خان اپنے سامنے لاکھوں کا مجمع دیکھ کر آپے سے باہر ہو جاتے تھے اور جمہوریت، جمہور ، وزیر اعظم، وزراء اور بیورو کریسی کے خلاف جو جی میں آئے کہہ دیتے تھے۔ وہ یہ بھی بھول جاتے تھے کہ وزیر اعظم کروڑوں پاکستانیوں کے ووٹ سے منتخب ہوئے ہیں اور ان کروڑوں پرچیوں کا احترام ہر کسی پر لازم ہے۔ یہاں وزیر اعظم پاکستان کو داد دیئے بغیر بات نہیں بنے گی کہ انہوں نے عمران خان اور طاہر القادری کی طرف سے جعلی بحران پیدا کرنے کی کئی ’’وارداتوں‘‘ کے دوران عزت، احترام ، تحمل، برد باری اور صبر کا دامن نہ چھوڑا اور ہر طرح کے حالات، واقعات اور اوٹ پٹانگ بیانات کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ یقیناًحقیقی لیڈر وہی ہوتا ہے جو ہر طرح کے بحران کا ڈٹ کر مقابلہ کرے، پوری جرأت سے حالات کو ’’فیس‘‘ کرے اور بھنور میں پھنسی ڈگمگاتی کشتی کو پار لگا دے ۔ دیکھا جائے تو وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان نے کا ر زار سیاست میں طرح طرح کی ٹھوکریں کھائی ہیں، جا بجا پتھروں کا مقابلہ کیا ہے، تب جا کر کہیں سونا ’’کندن‘‘ بنا ہے۔ اپنی جائیدادیں ضبط کروانے کے ساتھ ساتھ ، جیلیں، استعفے، جلا وطنیوں سمیت بہت کچھ دیکھا ہے۔ عمران خان کو چاہئے کہ میاں نواز شریف سے سیکھیں، ان سے دوستی کریں، مخالفت برائے مخالفت کا راستہ چھوڑ کر ملک و قوم کی ترقی و کامرانی کے لئے نواز شریف کے موجودہ وژن کو سمجھیں، ہاتھ سے ہاتھ اور قدم سے قدم ملا کر چلیں اور بطور اپوزیشن لیڈر جہاں حکومت کوئی غلط کام کرتی نظر آئے، وہاں اسے ٹوکیں، لیکن بڑھک بازی، بے جا احتجاج اور نان ایشوز پر کھپ ڈالنا چھوڑ دیں۔

بے شک آرمی چیف سمیت پاک فوج اور دیگر ریاستی اداروں کا موقف ہے کہ پاک سر زمین پر بہت ساری دھینگا مشتی ہو چکی، چوہے بلی کا بڑا کھیل ہو چکا، اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ ہمارے تمام مسائل کا حل جمہوریت میں ہی پنہاں ہے، سو!جمہوریت کو ترقی و ترویج دی جائے، اس کی جڑیں مضبوط کی جائیں، اس کی آبیاری کے لئے کسی بھی قسم کی سستی و کاہلی سے باز رہا جائے، ہر طرح کی محلاتی سازشوں سے باہر نکلا جائے۔ وزیر اعظم کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں، جمہوری حکومت کے منصوبے کی تکمیل میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا جائے، ہر طرح کی الزام تراشی، سکینڈلز اور خود غرضیوں پر خاک ڈال کر مسائل میں الجھے عوام کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔۔۔ عمران خان اور ان کی پی ٹی آئی کو بھی چاہئے کہ ریاستی اداروں کی نئی ’’سائیکی‘‘ کو سمجھیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے بہت قریب ہے۔صرف 13ماہ بعد موجودہ جمہوری حکومت کی آئینی مدت پوری ہو جائے گی، ملک میں موجود تمام قوتوں کا فرض بنتا ہے کہ یہ 13ماہ چپکے سے گزرنے دیں، نئی تاریخ رقم کریں کہ ہمارے ہاں مدت پوری نہ کرنے والی کمزور حکومتوں اور مارشل لاؤں کا رواج ختم ہو چکا ہے، اب نئے دور کا آغاز ہے، ہر جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے۔ کوئی سیاسی جماعت یا ادارہ منتخب حکومتوں کی ٹانگیں نہیں کھینچتا، اپوزیشن اپنا درست کردار ادا کرتی ہے اور حکومت اپنی ذات سے زیادہ ملک و قوم کے لئے سوچتی ہے۔ یقیناًاب ہمیں یہ رواج ہر صورت میں ڈالنا ہو گا، جمہوریت مضبوط کئے بغیر ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں، کمزور حکومتیں کسی طرح بھی ’’افورڈ ایبل‘‘ نہیں۔ اقتدار میں موجود جماعتوں سے زیادہ اپوزیشن کا فرض ہوتا ہے کہ وہ حکومت کو کسی بھی صورت میں گرنے نہ دے، سیدھی راہ پر رکھے اور جہاں حکمران ملک و قوم کے منافی کام کریں، انہیں ٹوک دے۔ عمران خان کا فرض بنتا ہے کہ جہاں انہوں نے قوم کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ پاک فوج اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوریت کے ساتھ ہیں، وہاں وہ حقیقی اپوزیشن کی خوشخبری بھی عوام کو سنائیں۔ ایسی اپوزیشن جو صرف جمہوریت کی مضبوطی کی جنگ لڑے، عوامی مسائل کی نشاندہی کے لئے سرگرم رہے اور قوم کو کسی ’’امپائر کی انگلی‘‘ کا چکما نہ دے۔

مزید : کالم


loading...