اے ڈی خواجہ

اے ڈی خواجہ
 اے ڈی خواجہ

  


یہ گزشتہ جمعہ (31 مارچ) کی بات ہے۔ اے ڈی خواجہ سندھ پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے حیدرآباد آئے تھے۔ ایک تھانہ میں وہ ایک ایسے مرکز کا افتتاح کرنے آئے تھے جہاں سے لوگوں کو ان کی پولیس سے متعلق ہر قسم کی مدد اور ضرورت کو پورا کیا جاسکے گا۔ ہشاش بشاش آئی جی نے چاق و چوبند پولیس دستے سے سلامی لی۔ سامعین کی اکثریت سے فردا فردا ہاتھ ملایا، خیریت دریافت کی ۔ حیدرآباد کے بہت سارے شہریوں کے ساتھ ان کی ذاتی جان پہچان ہے۔ وہ حیدرآباد میں ایس ایس پی کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ تقریر کی، ذرائع ابلاغ سے گفتگو کی اور رخصت ہوئے۔ جمعہ کی شام کو جب سوشل میڈیا پر ان کی تبدیلی کا نوٹی فیکیشن گردش کر رہا تھا تو میں نے تقریب میں ان کے ساتھ موجود ایک ایس ایس پی سے پوچھا کہ کیا انہیں یہ علم تھا کہ انہیں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نوٹی فیکیشن جمعہ کے روز جاری کیا گیا۔ ایس ایس پی نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ آئی جی صاحب کے علم میں نہیں تھا اور ان کی کسی بات سے یہ تاثر بھی نہیں مل رہا تھا۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ آئی جی پولیس کو بھی سوشل میڈیا سے ان کی تبدیلی کے بارے میں معلوم ہوا تھا۔ یہ ہے ہمارا طرز حکمرانی۔ کسی بھی صوبے کا آئی جی پولیس پورے صوبے کے نظم و نسق کا ذمہ دار ہوتا ہے، اس کے ماتحت فورس کو صوبہ کے اہم افراد کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے، اسے امن و امان کی دیکھ بھال کرنا ہوتی ہے، لیکن صورت حال یہ ہے کہ آئی جی کے علم میں نہیں تھا کہ انہیں ہٹایا جارہا ہے۔ اس ملک میں ایسا ہی ہوتا رہتا ہے۔ صوبہ کے سابق چیف سیکرٹری محمد صدیق میمن کو بھی ایک ماہ قبل اچانک تبدیل کی گیا اور رضوان میمن کو مقرر کیا گیا حالانکہ ابھی ان کی مدت ملازمت میں وقت باقی تھا۔

اے ڈی خواجہ کی اس سے قبل ہونے والی تبدیلی پر کراچی شہر کی بعض نامور شخصیات نے عدالت سے رجوع کیا تھا ، عدالت نے ان کی تبدیلی کو روک دیا تھا۔ ناظم حاجی ، کئی عشروں سے شہر کی خرابی پر آواز اٹھاتے رہے ہیں، کرامت علی محنت کشوں کی تعلیم و تربیت کی تنظیم پائلر چلاتے ہیں، مہناز رحمان صحافی اور عور ت فاؤنڈیشن کی انتظامی سربراہ ہیں اور دیگر کئی افراد درخواست دہندگان میں شا مل تھے۔ معروف گلوکار شہزاد رائے بھی ایک درخواست کنندہ تھے۔ تمام درخواست کنندگان کا اے ڈی خواجہ سے ذاتی تعلق نہیں رہا ہے اور نہ ہی یہ لوگ ان لوگوں میں شامل ہیں جو پولیس سے تعلق داری رکھ کر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے پھریں ۔ یہ تو شہر کراچی کے دکھوں اور دھکوں کے مارے ہوئے لوگ ہیں جو پر امن حالات اور بہتر امن وامان دیکھنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ انہیں اس کے سوا کوئی غرض نہیں کہ کون حاکم ہے اور کون انتظامی افسر ۔

اے ڈی خواجہ اپنے رویہ، لگی لپٹی بات نہ کرنے اور قانون پر عمل در آمد کی وجہ سے نیک نام شہرت بنا چکے ہیں۔ وہ سندھ کے ان افسران میں شمار ہوتے ہیں جن کی جب اے ایس پی یا ایس ایس پی کی حیثیت سے تقرری میں تبدیلی ہوا کرتی تھی تو شہری ہڑتال کر دیا کرتے تھے۔ سندھ کے اکثر شہروں میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ نیک نام اور قانون پر عمل در آمد کرنے والے اور رشوت سے فاصلہ رکھنے و الے افسران کی تبدیلی پر شہری ہڑتال کرتے رہے ہیں۔ سندھ میں جب 2008 میں پیپلز پارٹی نے حکومت قائم کی تھی تو اس وقت کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے اچھی شہرت رکھنے والے پولیس افسران کو مختلف اضلاع میں مقرر کرایا تھا، تاکہ اس وقت کی امن و امان کی انتہائی خستہ صورت حال کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس افسران کی تقرری کی وجہ سے حالات بہتر ہو ئے تھے ، لیکن بعد میں انوار راؤ جیسے خوشامدی اور چاپلوس افسران حاوی ہوگئے تھے اور ان کا سکہ چلنے لگا تھا۔

اے ڈی خواجہ کو بحیثیت آئی جی تبدیل کرنے کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب ان کا انور مجید نامی اہم کارباری شخصیت سے ٹکراؤ ہوا۔ انور مجید اومنی گروپ کے کرتا دھرتا ہیں۔ اومنی گروپ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی مظفر ٹپی نے قائم کیا تھا۔ اس گروپ کے پاس سندھ میں شکر تیار کرنے کے سترہ کارخانوں کی ملکیت ہے۔ اس کے علاوہ یہی وہ گروپ ہے جس نے سندھ خصوصا تھرپارکر میں نمکین یا کھارے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرنے کے آر او پلانٹ نصب کئے ہیں۔ ایک بڑے پلانٹ کا افتتاح تو اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری نے خود کیا تھا۔ حال ہی میں ایک انٹر ویو میں خود آصف علی نے اعتراف کیا کہ آر او پلانٹ کی تنصیب بہتر حل نہیں تھا، لیکن ان کا یہ اعتراف اب کس کام کا؟ جب اربوں روپے آر او پلانٹ کی تنصیب پر لٹا دئے گئے۔

انور مجید بمقابلہ اے ڈی خواجہ اس وقت ہو ئے جب انور مجید یہ چاہتے تھے کہ جن جن علاقوں میں ان کے کارخانے موجود ہیں، گنا صرف ان کے کارخانوں کو ہی ملے، دیگر کسی کو نہ ملے۔ پھر انہوں نے پولیس کے ذریعہ ٹنڈو محمد خان میں واقع دو شکر کے کارخانوں کو خریدنے کی کوشش کی ۔ جب مالکان نے انکار کیا تو پولیس کی مدد سے انہیں بے دست و پا کر دیا گیا۔ ان کے کارخانوں پر قبضہ کر لیا گیا۔ مالکان نے عدالتوں کی مدد سے اپنے کارخانوں کو پولیس سے خالی کرایا۔ کراچی کے صنعتکار تابانی خاندان کے لوگ زیادہ تفصیل سے روشنی ڈال سکتے ہیں کہ انہیں کس طرح بڑے مالی خسارے سے دوچار ہونا پڑا۔ آئی جی پولیس اپنی فورس کے کسی فرد کے کہنے پر استعمال کے خلاف تھے انہوں نے مزاحمت کی۔ وہ خود بار بار اس بات کا تذکرہ کرتے رہے ہیں کہ پولیس والوں کو سیاسی رہنماؤں کا ذاتی ملازم نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے تو ایک بار اس بات پر بھی اعتراض کیا تھا کہ کسی کی سیکیورٹی ڈیوٹی میں پولیس والے جس طرح گاڑی میں لٹک کر جاتے ہیں وہ باعث افسوس ہے۔ انہوں نے تمام سیاست دانوں اور وزراء کی ہر ناجائز خواہش پر عمل کرنے سے انکار کیا ۔ انہوں نے ایس ایس پی کی تقرری میں کسی کی خواہش کو مد نظر نہیں رکھا۔ ایس ایس پی کو ہدایت تھی کہ وہ تھانہ دار کسی کی خواہش پر نہ لگائیں، بلکہ اہل اور ذمہ دار افسر کی تقرری کریں۔ بھلا یہ ساری باتیں سیاست دانوں اور وزراء کو کیوں بھلی لگیں گی۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ تھانہ دار، اور ایس ایس پی ان کی مرضی کے شخص کی تقرری ہو۔ ایس ایس پی اپنی مرضی کا لگتا ہے تو تھانہ دار پورے اضلاع میں اپنی اپنی مرضی کے لگائے جاتے ہیں اور پھر پولیس سپاہی بھی اپنی مرضی سے مقرر کرائے جاتے ہیں۔ ایک ایسا نظام وضع کر دیا گیا ہے جو عموماً بادشاہت میں ہوتا ہے۔ یہاں سب ہی بادشاہ بنے ہوئے ہیں۔

حال ہی میں ایک انٹر ویو میں پنجاب کے آئی جی مشتاق سکھیرا نے کھل کر کہا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں پولیس کے معاملات میں بہت زیادہ سیاسی مداخلت ہے۔ حکومت سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کیا کر سکتے ہیں۔ انہیں بہت کچھ اپنی مرضی کے علاوہ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ آئی جی اے ڈی خواجہ کی تبدیلی بھی ایک ایسا ہی عمل ہے۔ حد تو یہ ہے کہ سندھ کابینہ کا بدھ کے روز ہونے والا اجلاس صرف اے ڈی خواجہ کے مسلہ پر بلایا گیا۔ وزراء کو تاکید کی گئی کہ اجلاس میں شریک ہوں۔ ملک کے اہم انگریزی زبان کے اخبار ڈان نے کابینہ کے اجلاس کی جو خبر شائع کی اس کی سرخی تھی "Sindh cabinet rubber-stamps decision to remove IG"( سندھ کی کابینہ نے آئی جی کو ہٹانے کے فیصلے پر اپنی مہر ثبت کردی) کابینہ کا یہ اجلاس بتاتا ہے کہ وزراء ہز ماسٹرز وائس سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ اس تماش گاہ میں آئی جی کی تقرری خواہ وفاق کرے یا وزیراعلیٰ کریں، صوبہ سندھ میں ماحول اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے اہمیت اس بات کی ہے کہ قانون کے مطابق کام کرنے والے کھرے شخص کی تقرری ہو اور کھوٹے لوگوں سے فاصلہ رکھا جائے اور محکمہ پولیس کو پسند اور نا پسند کی بنیاد پر تقسیم ہونے سے بچایا جائے۔

مزید : کالم


loading...