نفاذِ اُردو اور لاہور ہائی کورٹ کا حکم!

نفاذِ اُردو اور لاہور ہائی کورٹ کا حکم!
نفاذِ اُردو اور لاہور ہائی کورٹ کا حکم!

  


14فروری2017ء کو لاہور ہائی کورٹ کے ایک فاضل جج، جسٹس عاطر محمود نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ اگلے سال سی ایس ایس کا امتحان اُردو میں کنڈکٹ کریں۔ یہ ہدایت سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ کے احکامات کی روشنی میں دی گئی تھی،جنہوں نے نفاذِ اُردو کے سلسلے میں بنیادی احکامات جاری کئے تھے۔لیکن فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے آئندہ برس سی ایس ایس امتحان کے لئے جو اشتہار جاری کیا اس میں دونوں فاضل جج صاحبان کے احکامات کے برعکس یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ یہ امتحانات انگلش میں ہوں گے یا اُردو میں۔چنانچہ یہ معاملہ ایک وکیل صاحب ہائی کورٹ میں لے گئے اور اپیل کر دی کہ کمیشن نے جو اشتہار دیا ہے اس میں زبان کا کہیں ذکر نہیں ہے کہ آیا یہ امتحان اُردو میں ہوں گے یا انگریزی میں۔

وکیل صاحب کی اس اپیل سے بھی پہلے فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی کہ جسٹس عاطر محمود کا وہ فیصلہ اس وقت تک معطل رکھا جائے جب تک اِس سلسلے میں متعلقہ ادارے تین باتوں کا فیصلہ نہیں کرتے۔ ان میں پہلی بات یہ تھی کہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کے لئے امیدوار کا گریجوایٹ ہونا ضروری ہے۔لیکن چونکہ گریجوایشن لیول پر اُردو زبان لازمی قرار نہیں دی گئی(اور صرف ایف اے تک لازمی ہے) اِس لئے سی ایس ایس کا کوئی بھی امیدوار اس شرط پر پورا نہیں اُترے گا۔ اور چونکہ کمیشن کا دائرہ تمام فیڈریشن پر محیط ہے اِس لئے مرکزی حکومت کو چاہئے کہ پہلے پورے مُلک میں اُردو زبان کو بی اے لیول تک لازمی قرار دے۔۔۔۔ اپیل میں دوسری استدعا یہ کی گئی تھی کہ ابھی تک کمیشن نے اُردو میں کسی امتحانی سلیبس کا فیصلہ نہیں کیا۔۔۔ اور تیسری یہ تھی کہ اگر یہ امتحان اُردو میں لیا جائے تو اس کے پرچے کن حضرات کو بھیجے جائیں۔ اُردو زبان کے ایسے ممتحنین کا پینل ترتیب نہیں دیا جا سکتا جو ان پرچوں کو مارک کر سکیں۔

کمیشن کی یہ تینوں عرضداشتیں جو فاضل عدالت میں پیش کی گئیں حقائق پر مبنی تھیں اِس لئے ہائی کورٹ نے اگلے روز یہ حکم جاری کر دیا کہ جب تک کمیشن کی عرضداشت میں بیان کئے گئے نکات کی تکمیل نہیں ہو جاتی تب تک سی ایس ایس کا امتحان اُردو میں کنڈکٹ کرنے کا سنگل جج بنچ کا فیصلہ معطل رہے گا۔ معطلی کا یہ تازہ فیصلہ دو ججوں کے بنچ نے صادر کیا جس کی سربراہی لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کر رہے تھے۔

جب جسٹس عاطر محمود نے CSS امتحان کو اُردو میں لینے کی ہدایات جاری کی تھیں تو مَیں نے اس پر ایک کالم لکھا تھا اور کہا تھا کہ اُردو کی ترویج کے لئے یہ فیصلہ ایک نہایت صائب اور بنیادی فیصلہ ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلے کی سپرٹ کا عکاس ہے۔ میرے علاوہ اُردو زبان کے دوسرے بہت سے نام لیواؤں اور شیدائیوں نے بھی جسٹس عاطر محمود کے حکم پر خوشی کے ’’شادیانے‘‘ بجائے تھے۔

میرے قارئین جانتے ہیں کہ عاشقانِ اُردو کی فہرست میں، مَیں بھی شامل ہوں۔ میں ربع صدی سے اُردو کی محبت میں گرفتار ہوں اور چاہتا ہوں کہ جس طرح دوسری زبانوں میں حدیثِ دفاع کو پذیرائی حاصل ہے اُسی طرح اُردو کو بھی مل جانی چاہیے کہ اس کا اپنا لغوی مفہوم ہی ’’لشکر کی زبان‘‘ ہے۔لیکن اس کا کیا علاج کہ مجھے اس میدان میں سخت ناکامی اور شدید مایوسی کا سامنا ہوا ہے۔ آج کتنے کالم نگار ہیں جو ملٹری موضوعات پر لکھتے ہیں؟ انگریزی میں اس موضوع پر لکھنا ہماری قومی نقالی کی روایات کا حصہ ہے۔ بہت سے قارئین کو شائد یہ معلوم نہ ہوکہ فوج میں ہر سال کسی پروفیشنل موضوع پر مضامین لکھوانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کے لئے باقاعدہ انعامات کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔لیکن مجھے ذاتی طور پر معلوم ہے کہ یہ ایکسرسائز محض ایک نمائشی مقابلہ ہوتا ہے۔ ہر یونٹ اور فارمیشن اِدھر اُدھر سے نقل کر کے ایک ’’بہتر آرٹیکل‘‘ منتخب کرتی ہے اور افسرانِ بالا کو بھیج دیتی ہے اور بس۔۔۔ ہمارے جرنیلوں کو بھی چونکہ دعوتِ تحریر دی جاتی ہے اس لئے وہ بھی خامہ فرسائی کا تکلف گوارا فرما لیتے ہیں۔لیکن یہ تکلف ان کے کسی سٹاف آفیسر کے ذمے لگا دیا جاتا ہے۔یعنی وہی بات جو پنجابی محاورے میں کہی گئی ہے کہ :’’ناواں لکھوّ دا، تے تھیوا بکھوّ دا۔‘‘۔۔۔ یعنی کاوش کسی اور کی ہوتی ہے اور نام کسی اور کا۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ فوجیوں کو لکھنا نہیں آتا۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے محض تضیعِ اوقات سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ ایک افسوناک صورتِ حال ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کل افسروں کے کاندھوں پر دوسرے بہت سے نان پروفیشنل بوجھ لاد دیئے گئے ہیں۔ صبح سے شام تک ان کو کاروبار ہائے عسکری کے علاوہ دوسرے کئی غیر عسکری یا نیم عسکری فرائض بھگتانے پڑتے ہیں۔ مثلاً آئے روز فوج کو کسی نہ کسی آپریشن میں جانا پڑتا ہے۔ گزرے برسوں میں اگر راہِ نجات تھا تو گزرے کل میں ضربِ عضب آ گیا اور موجودہ آج میں ردّالفساد سامنے ہے۔ اب آنے والے کل یا پرسوں میں اسی طرح کے اور فرائض فوج کے ذمے لگا دیئے جائیں گے۔۔۔۔ اور تو اور میٹر ریڈنگ، بجلی چوری، الیکشن، مردم شماری اور اس طرح کے ایسے درجنوں فرائض فوج کے سر تھوپ دیئے جاتے ہیں جو بنیادی طور پر فوج کی ذمہ داریوں میں نہیں آتے۔ ایسے میں ’’مضمون نگاری‘‘ کون کرے؟ کس کو اتنی فرصت ہے کہ سر کھجائے، سوچے، کاغذ قلم سنبھالے اور کسی پروفیشنل موضوع پر فکر بھی کرے اور خامہ فرسا بھی ہو۔۔۔۔ اور جہاں تک اُردو زبان کا تعلق ہے تو یہ ایک اور ’’مصیبت‘‘ ہے!

ایں ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

اُردو ہماری قومی زبان ہے۔ ساری قوم اپنی مختلف مادری زبانوں کے باوصف اُردو بولتی، لکھتی، پڑھتی اور سمجھتی ہے۔لیکن جہاں تک تحریر کا تعلق ہے تو ماسوائے چند موضوعات کے(جن میں شعر و ادب، مذہب اور سیاست پیش پیش ہیں) کسی سنجیدہ موضوع پر لکھنا کسی کو بھی گوارا نہیں۔ ہمارے 90فیصد پی ایچ ڈی (Ph.Ds) ایسے موضوعات پر ڈاکٹریٹ کرتے ہیں جن کی قوم کو ہر گز کوئی ضرورت نہیں۔ ایک ایک تعلیمی ادارے (کالج اور یونیورسٹیوں) میں کئی کئی ڈاکٹر خواتین اور حضرات پائے جاتے ہیں۔۔۔۔ لیکن کن موضوعات اور علوم و فنون میں؟

سی ایس ایس کے امتحانات اُردو میں منعقد کرنے کی راہ میں حائل پبلک سروس کمیشن نے جن درجِ بالا دشواریوں کا ذکر کیا ہے وہ سب کی سب برحق ہیں۔ یعنی بی اے تک اُردو زبان کو لازمی قرار دو، مقابلے کے امتحان کا نصاب(اُردو میں) مقرر کرو اور ایسے اساتذ اور نگران پیدا کرو جو اس امتحان کے امیدواروں کے پرچے مارک کر سکیں۔۔۔ مجھے پاکستان میں مستقبل قریب یا بعید میں ان تینوں شرائط کے پورا ہونے کے کوئی امکانات نظر نہیں آتے۔ دوسرے لفظوں میں نفاذِ اُردو کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔۔۔ یعنی نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی!

جو حضرات یا ادارے اُردو سے محبت کا دم بھرتے ہیں ان کا فرض اولین ہے کہ وہ پہلے ایسا تحریری سرمایۂ کتب تخلیق کریں یا کروائیں جو بالائی سطوح پر نفاذِ اُردو کے لئے لازم ہے۔ مثلاً مختلف علوم و فنون کی لغاتیں، فنی اصطلاعات کے تراجم و تشریحات، مختلف جدید و قدیم موضوعاتِ ادب و سائنس کی کتب کے ترجمے وغیرہ۔۔۔ الگ اور آزاد تصنیفات کو تو چھوڑیں ایسے کالم نگاروں کی ایک فہرست تو مرتب کر کے دکھائیں جو ٹیکنیکل اور فنی موضوعات پر خامہ فرسائی کے اہل ہوں! ہر اُردو اخبار میں دس دس، پندرہ پندرہ کالم روزانہ پڑھنے کو ملتے ہیں۔لیکن ان کے موضوحات کیا ہوتے ہیں؟کن امور و معاملات اور مضامین پر کالم لکھے جاتے ہیں؟ فنی موضوعات پر بازار میں کون سی ڈکشنریاں ملتی ہیں؟۔۔۔ ہاں مقتدرہ قومی زبان نے اس شعبے میں بعض ابتدائی کام ضرور کئے ہیں۔ لیکن اس کو مزید ڈویلپ نہیں کیا گیا۔ کسی زمانے میں اُردو سائنس بورڈ بھی ہوتا تھا۔ اس نے بھی بعض کتب کے تراجم کئے اور بعض ڈکشنریاں شائع کیں۔لیکن ان کو قبولِ عام کی سند حاصل نہ ہو سکی۔ یہ بھی دیکھیں کہ صوبائی حکومتیں اور مرکزی حکومت فروغ و ترویجِ اُردو کے سلسلے میں کتنا بجٹ مختص کر رہی ہیں؟ مختلف علوم و فنون کے لکھاریوں اور ترجمہ کرنے والوں کی فہرست کن کن اداروں کے پاس ہے اور ان کے ٹارگٹ کیا ہیں؟

یادش بخیر1970ء اور1980ء کے عشروں میں فوج میں اُردو نافذ کرنے کا ڈول ڈالا گیا تھا۔ آرمی ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے بہت سی کلاسیکل انگلش ملٹری ہسٹریوں کے تراجم کروائے گئے۔خود مجھے کہا گیا کہ ایک مبسوط اُردو۔ انگلش ملٹری ڈکشنری ترتیب دوں اور ملٹری اصطلاحات کی اُردو میں تشریحات پر بھی کام کروں۔ (میں نے یہ دونوں کام پایۂ تکمیل کو پہنچائے) کیونکہ یہ حکم چیف آف سٹاف اور صدرِ پاکستان(جنرل ضیا الحق) کی طرف سے تھا اس لئے اس پر بڑی تیزی سے کام آگے بڑھایا گیا۔ اسی دور میں، میں نے بھی تین چار معروف پروفیشنل کلاسیک کے انگریزی سے اُردو میں تراجم کئے جسے جی ایچ کیو نے چھاپا،لیکن پھر یہ ہوا کہ اس دور کے صوبہ سرحد کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل فضل حق نے کسی کانفرنس میں آرمی چیف کو بتایا کہ ’’یہ کام اتنا آسان نہیں کہ صرف 15برسوں میں مکمل ہو جائے۔ اس کے لئے طویل انتظار کرنا پڑے گا۔ اس مشن کی تکمیل کے لئے ایک ارتقائی پروگرام ترتیب دیں۔ پہلے ٹروپس کی سطح پر مختصر اور آسان پروفیشنل پمفلٹوں کو اُردو میں ترجمہ کروائیں، بعد میں مختلف سکولوں میں افسروں کے لیول پر یہی کام کریں۔(ان سکولوں میں سکول آف انفنٹری، سکول آف آرمر، سکول آف آرٹلری، سکول آف سگنلز اور سکول آف انجینئرز وغیرہ شامل ہیں) اس کے بعد افسروں کی سطح کے تدریسی اداروں اور پھر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے نصاب کو اُردو میں لکھوائیں، انسٹرکشنل سٹاف (اساتذہ) کا بندوبست کریں، دفتری خط کتابت کا سارا کام کاج اُردو میں منتقل کریں، اُردو کی ٹائپ مشینوں کو عام کریں (اس دور میں کمپیوٹر ابھی نہیں آئے تھے) اور اس کے علاوہ ایک ایسا نیا ڈائریکٹوریٹ بھی قائم کریں جو اِن سارے امور کی نگرانی کرے اور آپ کو براہِ راست جواب دہ ہو۔ اور بجٹ ڈائریکٹوریٹ کو ہدایت جاری کریں کہ وہ ایک خطیر رقم ہر سال ڈیفنس بجٹ سے اس مد کے لئے بھی مختص کرے۔۔۔‘‘

کور کمانڈرز اور گورنروں کی کانفرنس میں جب جنرل فضل حق نے یہ تجاویز پیش کی تو جنرل ضیا نے اپنے گزشتہ احکامات کو معطل کر دیا اور کہا کہ اس پربعد میں مزید غور و خوض کیا جائے۔

میرا خیال ہے، سپریم کورٹ کو بھی ایک ایسا ہی حکم جاری کرنا چاہئے جیسا کہ فوج میں1980ء کے عشرے کے اوائل میں جاری کیا گیا تھا۔لیکن جیسا کہ فوج نے اس تعطل کے بعد اِس مسئلے کو طاقِ نسیاں پر رکھ دیا تھا، اس سے احتراز کیا جائے۔۔۔۔ اُردو کی محبت میں دودھ پینے والے مجنوں بہت ہیں، خون دینے والا کوئی نہیں۔۔۔۔ یہ ایک مسلسل اور طویل پراسس ہے جس کے لئے ایک مدت درکار ہے۔ کم از کم 2030ء کو سالِ تکمیل قرار دیا جائے۔لیکن درمیان کے13برسوں کو کاہلی میں ضائع کرنے کی بجائے اس پر جیٹ سپیڈ سے ریس لگائی جائے۔۔۔۔ ہائی کورٹ میں اس مقدمے کی آئندہ سماعت 20 اپریل 2017ء کو ہے دیکھیں کیا فیصلہ کیا جاتا ہے!

مزید : کالم


loading...