شام میں جنگی جرائم کا ارتکاب ابھی تک جاری ہے: اقوام متحدہ

شام میں جنگی جرائم کا ارتکاب ابھی تک جاری ہے: اقوام متحدہ

برسلز (این این آئی)اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گیٹرس نے خان شیخون میں بشار الاسد کے زہریلی گیس کے ذریعے حملے کو خوف ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں جنگی جرائم کا ارتکاب ابھی تک جاری ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق گیٹرس نے یہ بات برسلز پہنچنے کے بعد کہی جہاں ان کی آمد شام کے مستقبل کے حوالے سے ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں ہوئی ۔ انہوں باور کرایا کہ اس ملک میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ادھر یورپی یونین میں سکیورٹی اور امور خاجہ کی پالیسی کی اعلی نمائندہ فیڈریکا موگرینی نے باور کرایا کہ شام کے بحران کے حوالے سے جنیوا بات چیت کو عبوری مرحلے کی طرف بڑھانے کی ضرورت ہے اور شام میں امن و استحکام واپس لانے کے لیے شامیوں کی مدد کی جانی چاہیے۔شام کے حوالے سے برسلز کانفرنس میں موگرینی کا کہنا تھا کہ ہمیں شامیوں کے لیے امداد اور شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کی سپورٹ جاری رکھنے کو یقینی بنانا ہو گا اس سلسلے میں لبنان اور اردن کو پیش کی جانے والی امداد کے حجم میں اضافے کی ضرورت ہے۔برسلز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اردن کے وزیر اعظم ہانی الملقی نے مطالبہ کیا کہ ان کے ملک میں ترقیاتی منصوبوں کو سپورٹ کیا جائے تاکہ پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد کی میزبانی کے باعث مالیاتی بجٹ میں درپیش خسارے کو پورا کیا جا سکے۔ الملقی کے مطابق شامی پناہ گزینوں کی میزبانی پر اب تک 10 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے جا چکے ہیں اور پناہ گزینوں کی آمد کے بعد اردن میں غربت اور بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اس موقع پر کویت کے وزیر خارجہ صباح خالد الحمد الصباح نے کہا کہ شام کے بحران کے حل کا واحد راستہ سیاسی حل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کویت امداد پیش کرنے کے حوالے سے اپنے ارادوں کا پابندی ہے اور وہ شامیوں کی میزبانی کرنے والے ممالک میں سرمایہ کاری کے لیے 11.6 کروڑ ڈالر پیش کرے گا۔ الصباح نے مطالبہ کیا کہ خان شیخون میں کیمیائی گیس کے ذریعے قتل عام کے ذمے داروں کو عالمی عدالت میں پیش کیے جانے کی ضرورت ہے۔لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے اپنے خطاب میں کہا کہ شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کے سبب ان کے ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت کرنے کے لیے لبنان کو سپورٹ پیش کی جائے۔

مزید : عالمی منظر


loading...