فلسطین، اسرائیل سربراہ کانفرنس کی میزبانی کا فیصلہ ، مشرق و سطٰی کے مسائل ، اوباما سے’’ مکمل طور پر مختلف ‘‘ انداز اپناؤں گا : ٹرمپ

فلسطین، اسرائیل سربراہ کانفرنس کی میزبانی کا فیصلہ ، مشرق و سطٰی کے مسائل ، ...

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ کے معاملات میں دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے رواں ہفتے کے پہلے تین دنوں میں وائٹ ہاؤس میں دو عرب سربراہوں سے الگ الگ مذاکرات کئے اور شام میں معصوم شہریوں کے خلاف مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر سخت ترین ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران وائٹ ہاؤس سے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ موسم گرما میں واشنگٹن، فلسطین اور اسرائیل کی سربراہ کانفرنس کی میزبانی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کا عنقریب باقاعدہ اعلان کردیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ سے مصری صدر عبدالفتح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے جو الگ الگ بات چیت کی ان کا ایجنڈا ایک ہی تھا کہ مشرق وسطیٰ کے تمام مسائل کے حل کیلئے متفقہ پالیسی اختیار کی جائے اور داعش کو شکست دینے کیلئے متحد ہوکر سخت کارروائیاں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ صدر ٹرمپ نے شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اسد انتظامیہ کی طرف سے معصوم شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے جو سخت ردعمل کا اظہار کیا اس سے ظاہر ہوتا ہے تھا کہ امریکہ شام کی انتظامیہ کو محض وارننگ دینے کی بجائے شاید اس کے خلاف کارروائی بھی کردے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسد انتظامیہ نے سرخ لائن کراس کردی ہے تو ان کا سخت الفاظ میں جواب یہ تھا کہ آپ سرخ لائن کی بات کرتے ہیں اس نے پتہ نہیں کتنی لائنیں کراس کردی ہیں جس کا نتیجہ اسے بھگتنا پڑے گا۔ جس کا مطلب یہ نیکلتا ہے کہ شاید امریکہ شامی حکومت کے خلاف اب فوجی کارروائی کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ شاہ اردن کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں امن کے کاز کو آگے بڑھانے کیلئے بہت سے کام کریں گے جن میں فلسطین ار اسرائیل کے درمیان تصفیہ کرانے کا معاملہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے داعش کے خلاف جنگ میں تعاون کرنے پر اردن کا شکریہ ادا کیا اور شامی اور فلسطینی پناہ گزینوں کی فراخدلی کے ساتھ میزبانی کرنے پر بھی اس کی تعریف کی۔ اس موقع پر شاہ عبداللہ نے امید کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ مشرق وسطیٰ کے متعدد مسائل کو حل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عرب لیڈر ٹرمپ کی قیادت میں فلسطینی مسئلے کے حل پر متفق ہیں ۔صدر ٹرمپ نے عرب لیڈروں کو بتایا کہ شام کی اسد انتظامیہ کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے شواہد ملنے کے بعد سابق صدر اوبامہ اس کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتے تھے لیکن انہوں نے وہ موقع گنوا دیا۔ صدر ٹرمپ نے عرب لیڈروں پر واضح کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کے حل کیلئے اپنے پیش رو صدر( اوباما) سے ’’مکمل طور پر مختلف‘‘ انداز اپنائیں گے خاص طور پر مصری صدر نے فلسطین اور اسرائیکل کے درمیان مفاہمت میں امریکہ کے کردار کی اہمیت پر زور دیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ دو ہفتے اردن میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں عرب لیڈروں نے دریائے اردن میں عرب کے مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مشرقی بیت المقدس پر مشتمل فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بدلے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ’’یو ایس اے ٹو ڈے‘‘ نے لکھا تھا کہ ’’اسرائیل اور پوری عرب دنیا کے درمیان تاریخی مفاہمت‘‘ ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے نیوز کانفرنس میں ایک بار پھر اس عہد کا اظہار کیا کہ ہم داعش کو تباہ کرکے دم لیں گے اور تہذیب کی حفاظت کریں گے۔ انہوں نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ انہوں نے شاہ اردن کے ساتھ ان اقدامات پر بات چیت کی جو اس بری آئیڈیالوجی کا مقابلہ کرنے کیلئے کرنے کی ضرورت ہے جو داعش کی تحریک کا باعث بنی ہوئی ہے جس نے پورے سیارے میں خرابی پیدا کر رکھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ اردن کی انسانی ہمدردی کی امداد میں اضافہ کر رہا ہے جسے وہ مہاجروں کی دیکھ بھال کیلئے استعمال کرے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کے قیام کی کوششوں میں کامیاب ہو جائیں گے اور شاہ اردن بھی اس کام میں ان کی مدد کریں گے کیونکہ وہ بھی مسئلے کے پرامن حل کے حامی ہیں۔

ٹرمپ۔ مشرق وسطی

مزید : علاقائی


loading...