اسلامی فوجی اتحاد کسی ایک کا حمایتی یا مخالف نہیں دہشتگردی کیخلاف ہے : پاکستان

اسلامی فوجی اتحاد کسی ایک کا حمایتی یا مخالف نہیں دہشتگردی کیخلاف ہے : ...

اسلام آباد(آن لائن،این این آئی)ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی فوجی اتحاد کسی ایک ملک کا حمایتی یا مخالف نہیں بلکہ دہشت گردی کیخلاف ہے،سعودی عرب اور ایران دونوں مسلم برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات ہیں،پاکستان امریکا کی جانب سے پاک بھارت مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں،بھارت لائن آف کنٹرول پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور عالمی برادری اس کا نوٹس لے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار دفتر خارجہ میں گزشتہ روز میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔نفیس زکریا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد نہ کسی کے حق میں ہے اور نہ ہی کسی مسلم ملک کے خلاف ہے،پاکستان کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں،ابھی تک اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کے شرائط طے نہیں ہوئے،اس حوالے سے مزید معلومات کیلئے وزارت دفاع سے رابطہ کیا جائے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ میں امریکی مستقل مندوب کی جانب سے پاک بھارت میں ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ایران کی جانب سے پاک بھارت مذاکرات میں ثالثی کی پیشکش کا بھی خیرمقدم کیا۔پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرتا ہے،لیکن بھارت ہمیشہ دہشتگردی کا جواز بنا کر مذاکرات سے فرار چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھارت دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان کی جانب سے بھارتی جاسوسی ادارے کے اہلکار گلبھوشن یادیو کو پکڑنے سے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزی کرتا ہے اور یہ عمل دونوں ممالک کے درمیان2003ء کے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، عالمی برادری کو بھارتی جارحیت کا نوٹس لینا چاہئے۔نفیس زکریا نے کہا کہ بھارت نے حالیہ دنوں میں100سے زائد کشمیریوں کو زخمی کیا ہے جس میں پیلٹ گنزکے ذریعے آنکھوں کے زخمی بھی شامل ہیں۔انہوں نے بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر مسئلہ کا ایک ہی حل ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے قرارداد کے تحت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے اور ان کے سوا کوئی اور حل نہیں۔ترجمان نے کہا کہبھارت کے جنگی عزائم خطے کی سلامتی کیلئے خطرناک ہیں ،بھارت کی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی ڈاکٹرائن جھوٹ پرمبنی ہے ،پاکستان نے ہمیشہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی بات کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں ،پاکستان کی تجویزکردہ سٹریٹیجک ریسٹرین رجیم ایٹمی تصادم سے بچنے کی بہترین حکمت عملی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی باہمی اعتماد اور مفاد پر مبنی ہے ،ہم ہمسایہ ممالک سمیت پوری دنیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں اور بالخصوص افغانستان میں ہر قسم کی پراکسی وارکی پرزور مذمت اور مخالفت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پاک افغان سرحد کو اپنی سائیڈ پر باڑ لگانے کا کام شروع کرے گا تاکہ غیر قانونی طور پر لوگ سرحد کو پار نہ کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے،پاکستان اپنے طرف سے ان اقدامات کو اٹھایا ہے۔ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے افغان حکومت کے ساتھ پاکستانیوں کو افغانستان کیلئے ویزا کے اجراء میں مشکلات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے حوالے سے ادارہ کی جانب سے افعان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی پروگرام کے تحت واپس جانے والوں کی رقم400 ڈالر سے کم کرنے کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امید ہے کہ اقوام متحدہ اس رقم کو دوبارہ 400ڈالر کرے گا۔حال ہی میں برطانیہ کے پارلیمنٹ کے وفد کے پاکستان کے دورے کے دوران الطاف حسین کو رعایت دینے کے مطالبہ کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ان کو اس حوالے سے معلومات نہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کے روک کے معاہدے کا پابند ہے اور شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتا ہے۔انہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہونے والی افغانستان کے حوالے سے کانفرنس میں شرکت کرے گا۔کانفرنس میں اس مرتبہ وسطی ایشیائی ممالک اور دیگر کو بھی روس نے دعوت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ کی جانب سے گلگت بلتستان کے حوالے سے دئے گئے بیان کو نہیں دیکھا لہٰذا اس پر کوئی موقف نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیائی خطے میں امن چاہتا ہے ۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاراچنار اور لاہور میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت اور دونوں سانحات میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں فرض کی ادائیگی کے دوران جان کی قربانی دینے والے شہادت کے اعلیٰ درجات پر فائز ہیں۔

پاکستان

۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی باہمی اعتماد اور مفاد پر مبنی ہے ٗ ہم ہمسایہ ممالک سمیت پوری دنیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں اور بالخصوص افغانستان میں ہر قسم کی پراکسی وارکی پرزور مذمت اور مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خدشات کے پیش نظر پاک افغان بارڈر پر اپنی سرحد کے اندر باڑ لگارہے ہیں ٗباڑ لگانے کی وجہ واضح ہے ہم افغانستان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرچکے ہیں ٗتجارتی اور دیگر قانونی مقاصد کے لئے ویزہ رکھنے والے افغان شہریوں کو پاکستان آنے کی اجازت ہے اور گزشتہ ہفتے بھی افغانستان سمیت دیگر ممالک کے سیاسی و تجارتی وفود نے پاکستان کو دورہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں موجود پاکستانیوں کو ویزہ کی توسیع کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے ٗہم ان مسائل سے پوری طرح آگاہ ہیں اور افغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ اسلامی فوجی اتحاد کسی ایک ملک کیلئے یا ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارہ چنار اور لاہور میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی مذمت اور دونوں سانحات میں شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں فرض کی ادائیگی کے دوران جان کی قربانی دینے والے شہادت کے اعلیٰ درجات پر فائز ہیں۔ ایک سوال پر ترجمان نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ اور یو این سیکرٹیری جنرل کی ثالثی کا خیر مقدم کیا اب بھی امریکی ثالثی کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افغان امن کیلئے اس ماہ کے وسط میں ماسکو مذاکرات میں پاکستان شرکت کریگا،شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...