امریکہ کے پاس پاکستان کے حقانی نیٹ ورک کی سپورٹ ٹھوس ثبوت نہیں

امریکہ کے پاس پاکستان کے حقانی نیٹ ورک کی سپورٹ ٹھوس ثبوت نہیں

اسلام آباد(آن لائن) آمریکی تھنک ٹینک ولسن سینٹر کے ڈائریکٹر مائیکل کگلمان نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس پاکستان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو سپورٹ کرنے کے ٹھوس ثبوت نہیں۔ امریکہ کا پاکستان سے کہناہے کہ پاکستان طالبان کے خلاف موثر اقدامات نہیں کرتا، پاکستان اور امریکہ کے درمیان غیر سرکاری طور پر دو روزہ دوطرفہ مکالمہ کے اختتام کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مائیکل کگلمان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کو امریکہ میں سراہا جاتا ہے اور پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں70ہزار سے زائد جانیں قربان کی ہیں۔ امریکہ کے پاس پاکستان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو سپورٹ کرنے کے ٹھوس ثبوت تو نہیں لیکن پاکستان کی جانب سے طالبان کے خلاف خصوصاً کوئٹہ شوریٰی کے خلاف موثر اقدامات نہیں اٹھائے،مریکہ پاکستان کو غیر نیٹو اتحادی سمجھتا ہے،سابق صدر اوباما اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ذاتی نوعیت کے تعلقات استوار ہو چکے تھے، امریکہ کی جانب سے پاکستان کی معاشی مدد کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس میں کچھ کمی ضرور ہوئی ہے، پاکستان کو معاشی مدد کے ساتھ توانائی، صحت، تعلیم اور صاف پینے کے پانی کی ضرورت ہے، روس کی جانب سے رواں ماہ افغانستان میں کانفرنس بلانے کے اقدامات پر مائیکل کگلمان نے کہا کہ روس طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔ کانفرنس میں پاکستان، چین اور دیگر ممالک کو اس میں شرکت کی دعوت دی ہے موجودہ امریکی انتظامیہ کو پاکستان اور بھارت کے حوالے سے کوئی پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کیا کرے، لیکن امریکہ کو پاک بھارت کشیدگی پر شدید تشویش بھی ہے کیونکہ دونوں ایٹمی قوتیں ہیں، کانفرنس کے منتظم اور ریجنل پیس انسٹیٹیوٹ کے سربراہ رؤف حسن نے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ پاکستان غیر ریاستی اداروں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے، پاکستان کو بنیاد پرستی کی وجہ سے شدید نقصان ہو رہا ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے، انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی۔

امریکی تھنک ٹینک۔

مزید : علاقائی


loading...