پرانی پولیس نئی وردی۔۔۔عوامی توقعات؟

پرانی پولیس نئی وردی۔۔۔عوامی توقعات؟
 پرانی پولیس نئی وردی۔۔۔عوامی توقعات؟

  


خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف گزشتہ 9سال سے تھانہ کلچر تبدیل کرنے کے لئے سرگرم ہیں اس کے لئے انہوں نے مختلف پروگرام اخلاص سے متعارف کرائے ہیں۔ عوام کی شکایات دور کرنے کے لئے میری معلومات کے مطابق ایک درجن کے قریب مختلف طریقے آزمائے جا چکے ہیں۔ خادم اعلیٰ کے گزشتہ حکومت کے پانچ سال اور موجودہ 4سال میں عوامی خدمت ،عوامی شکایات کے ازالے اور ایف آئی آر کے اندراج سمیت عوام کی شکایات ان کے دروازے پر دور کرنے کے منصوبے شامل رہے ہیں۔

ایف آئی آر بغیر سفارش کے درج نہیں ہوتی تھی اس کے لئے آن لائن نظام متعارف کرایا گیا۔ ماڈل تھانہ بنا کر اس میں جدید انداز طریقہ کار نافذ کیا گیا پولیس والوں کی طرف سے کم تنخواہوں کی شکایت دور کرتے ہوئے ان کی تنخواہیں ڈبل کر دی گئیں۔ایف آئی آر دباؤ کے بغیر یقینی بنایا گیا ہے۔ تھانہ میں غریب افراد کی شنوائی کے لئے خواتین کو استقبالیہ دیا گیا۔ خواتین کو تھانوں میں ذمہ داریاں دی گئیں رشوت کے بغیر ایف آئی آر ممکن نہیں تھی۔ ایف آئی آر سمیت گمشدگی کی رپورٹ کے لئے سیاسی دباؤ یا نذرانہ دینے کا کلچر ختم کرانے کے لئے اقدامات خادم اعلیٰ نے متعارف کرائے، مگر نتیجہ صفر رہا۔ نہ ماڈل تھانے کام دکھا سکے نہ خواتین کی تعیناتی تھانہ کلچر تبدیل کر سکی اور نہ رپورٹ اور ایف آئی آر نذرانہ اور سفارش کے بغیر درج ہونے کی تواقعات پوری ہو سکی۔ خادم اعلیٰ اور ان کی ٹیم کی کوئی کوشش بارآور نہ ہو سکی جو کالی وردی پر لگے بدنامی کے داغ دھو سکے خادم اعلیٰ کے پے درپے اقدامات سے بہتری کم ہوئی مزید خرابیاں آنا شروع ہو گئیں حالانکہ ایک بڑے حلقے اور دانشور حضرات کا کہنا تھا پولیس کلچر کی تبدیلی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پولیس افسران اور اہلکاروں کی ضروریات زندگی کا خیال نہیں کیا جائے گا۔ تنخواہیں کم ہیں، رشوت، نذرانہ اس لئے لیتے ہیں ان کے اخراجات زیادہ ہیں اور تنخواہیں کم۔

اہل دانش کا یہ سروے بھی اس وقت غلط ثابت ہو گیا۔ جب پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں ڈبل کر دی گئیں اور پھر اضافی الاؤنس بھی ملنا شروع ہو گئے۔ عوامی شکایات دور کرنے کے لئے تھانوں کو نئی گاڑیاں نیا اسلحہ اور 1122 کی طرح کی سروس اور اب ڈولفن پولیس کا آغاز سب بے سود ثابت ہو رہا ہے۔ بہت سے حلقوں نے کالی وردی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ تھانہ کلچر کو تبدیل کرنے کے خواہاں خادم اعلیٰ نے بعض بڑوں کی سفارش پر اب انتہائی اقدام کرتے ہوئے پولیس کا پرانا روپ تبدیل کرنے کے لئے نیا رنگ متعارف کرایا ہے۔ آغاز لاہور سے کیا گیا ہے59 سال بعد پولیس کی کالی وردی جو دہشت کی علامت کے ساتھ ساتھ کاکا سپاہی کے نام سے مشہور تھی یکسر تبدیل کرکے نئی وردی فراہم کر دی گئی ہے۔ لاہور کی 32ہزار فورس کو 42ہزار کے قریب وردیاں فراہم کر دی گئیں۔

آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جی لاہور نے کالی وردی سے نجات اور نئے رنگ کی وردی کی تعارفی تقریب کے موقع پر پولیس اہلکاروں کو عوامی خدمت کا درس دیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ نئی وردی رویوں کی تبدیلی اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کا باعث بنے گی۔ کالی وردی کی جگہ زیتون رنگ کی وردی نے لے لی ہے۔خادم اعلیٰ کی اہل دانش کے مشورے پر وردی کی تبدیلی پولیس کے رویوں اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کا باعث بنتی ہے یا نہیں۔ یہ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوگا۔ پولیس اہلکاروں کے دلچسپ تبصرے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں جن کا کہنا ہے زیتون کلر کی وردی میں رعب و دبدبہ نہیں ہے۔ 59سال کی کالی وردی کی وجہ سے کالے ہونے والے دل اور سنگدل ہونے والے رویئے یقیناًفوری نہیں بدل سکتے۔

پنجاب پولیس کی سیاہ شرٹ اور خاکی پینٹ کا 59سال تک چڑھنے والا رنگ اترنے میں وقت تو لگے گا۔ خوش آئند بات ہے نئی وردی کو پولیس افسران اور پولیس اہلکاروں نے خوش دلی سے قبول کیا ہے۔ پولیس اہلکار کالی شرٹ کی جگہ زیتون کلر کی خوبصورت شرٹ کے ساتھ کچھ نئے نئے لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ پولیس اہلکار نئی وردی کو تبدیلی کا نام دے رہے ہیں۔ عوام وردی کی تبدیلی سے زیادہ توقعات وابستہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے پولیس کی کالی شرٹ کے ساتھ کی مٹھی گرم کرنے کی پہچان ختم کرنے کے لئے بھی خادم اعلیٰ کو کچھ کرنا پڑے گا۔ پولیس اہلکاروں کا جسم کالی شرٹ میں ہو یا سبز شرٹ میں، جب تک ان کا دل صاف اور شفاف ہو کر عوام کے لئے نہیں چمکے گا تبدیلی ممکن نہیں۔اس کے لئے کہا جا رہا ہے کہ عوام کو حقیقی ریلیف دینے اور ان کے گھروں کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کے لئے پولیس افسران سے معمولی سپاہی تک کی برین واشنگ اور ان کے حقیقی فرائض سے آگاہی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ دس دس اور پندرہ پندرہ سال سے ایک ہی تھانے میں ڈیوٹی دیتے ہوئے سپاہی اور حوالدار حضرات کے رویے معمول بدلنے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ تھانے کا SHO لگنے کے لئے بھاری نذرانوں اور تگڑی سفارشوں کے کلچر کی تبدیلی کے بغیر نئی وردی تبدیلی کا باعث نہیں بن سکے گی۔ ایلیٹ فورس سے ڈولفن تک اگر انصاف کرنے میں ناکام رہی ہے تو پھر ہمیں تھانوں اور اس سے وابستہ ضروریات زندگی اور دیگر لوازمات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔

کرائے کی بلڈنگ میں موجود تھانے کے ذمہ دار تھانے دار کو جب تک تھانے کی عمارت کے کرائے کی فکر رہے گی۔ تھانے کی گاڑیوں کے پٹرول کی فکر رہے گی تھانے میں ذمہ داری لینے کے لئے ادا کئے گئے نذرانے کی واپسی کی فکر رہے گی، تھانے میں رہنے والے پولیس اہلکاروں اور دیگر ذمہ داران کو ناشتے اور دوپہر کے کھانے کی فکر ستاتی رہے گی اس وقت تک تبدیلی ممکن نہیں ہے جس پولیس والے کی 15سال سے روٹین ہے۔ اس نے صبح کا ناشتہ خود مفت کرنا ہے اور تھانے کے دیگر عملے کے لئے لانا بھی ہے۔ تھانے کے انچارج کو پتہ ہے۔50لاکھ دیئے ہیں پتہ نہیں کب تبدیل کر دیا جاؤں گا اس کو عوام سے زیادہ 50لاکھ اکٹھا کرنے کی فکر ہوگی اس کے لئے میری تجویز ہے تھانوں کے انچارج حضرات سے اہداف کے حصول کے لئے اگر پوچھنا ہے اس کے سر سے معمولی غلطی سے تبدیلی کی تلوار ہٹانا ہوگی تھانہ کلچر کو اخلاقی قدروں کی آماجگاہ بنانے کے لئے ہر اہلکار کو نئے سرے سے ریفرشر کورس سے گزارنا ہوگا۔ تھانوں میں عوامی ماحول پیدا کرنے کے لئے تھانہ میں سیاسی مداخلت بند کرنا ہوگی۔ فرینڈلی ماحول کے لئے مانیٹرنگ کے نظام میں عوام کو شامل کرنا ہوگا۔کالی وردی کا 59سالہ بدنامی کا باعث بننے والا داغ دھونے کے لئے خادم اعلیٰ پنجاب کو اپنے ارکان اسمبلی اور وزراء سے بھی تھانوں میں مداخلت سے باز رکھنے کا حلف لینا ہوگا۔ پھر امیدکی جا سکتی ہے کالی کی جگہ زیتون رنگ کی وردی تبدیلی لائے گی۔ ورنہ تجربے تو گزشتہ 9سال سے ہو رہے ہیں ایک تجربہ اور سہی۔

مزید : کالم


loading...