یہ لطیفے ہیں یا المیے؟

یہ لطیفے ہیں یا المیے؟
 یہ لطیفے ہیں یا المیے؟

  


یہ ہماری سیاست ہے یا لطیفے ہی لطیفے ہیں، مسخرے ہی مسخرے ہیں، دوجوں کی بھد اڑاتے ہیں تو اپنی ہی اڑجاتی ہے مگرمجال ہے کہ شرم آتی ہو، سمجھ آتی ہو اور اگرشرم اور سمجھ آبھی جائے تو یہ فیصلہ کون سا آسان ہے کہ ان لطیفوں پر ہنسنا ہے یا رونا ہے اور کیا یہ واقعی لطیفے ہیں یا المیے ہیں، سانحے ہیں۔ جب سرقہ ہی روایت ٹھہرا تو پھر مجھ جیسے طالب علم کو اس ہنر میں مہارت سے روکنے کا کیا جواز ہے مگر پھر بھی بتاتا چلوں کہ یہ الفاظ میرے نہیں کہ میری عزت تو میرے اپنے ہی ہاتھ ہے۔ کہا گیا، وطن عزیز کا سچا واقعہ۔ ایک بذلہ سنج نوجوان حکومت آ رہی ہے، حکومت جار ہی ہے جیسے تجزئیے سن کربھنا گیا اور اس نے ہمارے جیسے معروف تجزیہ نگاروں کی بھد اڑانے کے لئے ایک طنزیہ مضمون لکھا جس میں وہ سازش سے سازش نکالتے ہوئے ایک ایسے عالم لایقینی میں چلا گیا کہ میرے جیسے سنکی بھی مسکرا اٹھے۔مضمون کے آخر میں مصنف نے احتیاطاً یہ بھی لکھ دیا کہ بھائی اسے سنجیدگی سے پڑھنے کی کوشش مت کریں۔گذشتہ ہفتے ایک بزرگ مدیر نے اسے انٹرنیٹ سے اٹھا کے اپنے کالم کے طور پر چھاپ دیا۔ لیکن اس کے بعد پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے اس مضمون نما لطیفے کو صحیفے کے طور پر پیش کرتے ہوئے الزام لگا دیا کہ دیکھا ہمیں ( یعنی پی ٹی آئی کو) الیکشن سعودی عرب، امریکہ اور جنرل کیانی نے مل کر ہروایا۔

لیں جناب اس کے ساتھ میرا یہ سرقہ ختم اور دوسرا شروع، یکم اپریل کو جو لطیفہ شائع کیا گیا اس میں کہہ دیا گیا کہ اس تحریر کے مندرجات کو قانونی طور پر پرکھنے کی بجائے ایک عامل صحافی کی باطنی صلاحیتوں پر محمول کریں۔ کالم کے واقعات کو حقیقی سمجھنے کی بجائے مضمون کے رنگ سے لطف اندوز ہوں۔ یہاں دوسرا سرقہ بھی اس افسوس کے ساتھ ختم کہ آپ عامل صحافی ہوتے ہوئے بھی سوشل میڈیا کی خرافات کو اپنے کالموں کی رونق بنا سکتے ہیں۔ میری مانیئے تو قصور اس کا جانئیے جس نے وہ بلاگ لکھا ۔ اسے علم ہونا چاہئے تھا کہ کالم لکھنا کوئی آسان کام نہیں، اس کے لئے موضوع تلاش کرناپڑتا ہے، تاریخ سے خوشہ چینی کرنی پڑتی ہے، حالات کا جائزہ لینا پڑتا ہے، مستقبل کے امکانات کو نظر میں رکھنا پڑتا ہے، تحریر ہی نہیں بلکہ اپنے جذبات کو بھی ایک حد میں رکھتے ہوئے صفحے کالے کرنا پڑتے ہیں اور بعض اوقات مصروفیات کے باعث یہ سب نہیں ہوپاتاتو پھر بہت سارے عامل صحافی مخصوص مقاصد کے لئے اپنی باطنی صلاحیتوں سے ہی کام لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ بلاگ کی یہ چوری ہرگز نہ پکڑی جاتی اگر پی ٹی آئی کے ترجمان ایک زیادہ دیکھے جانے والے ٹی وی چینل پر اس مزاحیہ بلاگ کو سنجیدہ اطلاع کے طور پر نہ لیتے۔ ویسے مجھے یہاں کالم نگار ہی نہیں پی ٹی آئی کے ترجمان کی بھی صفائی دینی ہے اسے کیا اندازہ تھا کہ یہ سارا فسانہ کسی کے تخیل کے شاہکار کی نقل ہے،وہ بے چارہ اسے سچ ہی سمجھا ہو گا جیسے وہ اور اس کے بھائی بند آج تک اپنے مخالفین بارے سنی سنائی باتوں کو سچ ہی سمجھتے آ ئے چاہے وہ آر اوز کے الیکشن ہوں یا پینتیس پنکچر جیسی آلتو فالتو باتیں۔ اب نعیم الحق کے پاس بھی اتنا وقت کہاں ہو گا کہ وہ سچ کو تلاشتے پھریں، حقائق کو ڈھونڈتے پھریں لہذا غلطی نعیم الحق کی بھی نہیں ہے کیونکہ کامن سینس واقعی ایک ایسی سینس ہے جو کامن لوگوں میں کامن نہیں ہوتی۔ یہاں نعیم بھائی مجھ پر توہین عزت کا مقدمہ کر سکتے ہیں کہ میں نے انہیں کامن مین کیوں سمجھا۔ ویسے اس سیاسی جماعت کو بھی ترجمان چننے میں کمال حاصل ہے، کہتے ہیں کہ نادان دوست سے دانا دشمن بھلا ہوتا ہے مگر یہ بات کوئی خان صاحب کو کیسے سمجھائے۔ پی ٹی آئی وطن عزیزکی واحد سیاسی جماعت ہے جسے دوسرے ممالک کی ایسی تیسی کے لئے صرف ایک وجہ درکار ہوتی ہے کہ وہ ممالک پاکستان کے دوست ہیں ۔مجھے اڈا پلاٹ رائے ونڈ روڈکا جلسہ یاد آ گیا، شور مچایا گیا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو سخت ترین پیغام دیا جائے گا مگر موصوف ایسے لیٹے کہ جیسے کوئی دوسرا کیا لیٹا ہو گا۔ بات ترجمانوں کی ہو رہی ہے ،ایک ترجمان نے یہ گل کھلایا تو دوسرے ترجمان نے ایک ٹی وی چینل پر بطور میزبان پروگرام کرتے ہوئے ائیر فورس پر الزام دھر دیا۔ یہ بھی خوب ہے کہ وہ صاحب تحریک انصاف کے ترجمان بھی ہوتے ہیں، وہ ایک ٹی وی چینل کے اینکر بھی ہوتے ہیں اور انہیں وکیل ہونے شرف بھی حاصل ہے۔ ان کے ہاتھ ایک مقدمہ لگا جس میں ان کے کلائنٹ نے ائیرفورس ، جی ہاں ہماری اپنی ائیر فورس پراغوا کا ایک الزام دھرا، پی ٹی آئی والوں کو ویسے بھی حکومت اور ریاست کا فرق سمجھ نہیں آتا۔اپنے موکل کو اپنے ہی پروگرام میں بٹھایا اور ائیر فورس کے خلاف اپنا طبلہ بجایا اور سمجھا یہ کہ وہ حکومت کی ایسی تیسی کر رہے ہیں۔ اس پر پیمرا نے نوٹس لے لیا اور نوٹس دے دیا کہ کیوں نہ اس پروگرام پر دس لاکھ روپے جرمانہ کر دیا جائے یا اسے بند کر دیا جائے اور سب سے بڑھ کر پہلے کی طرح کیوں نہ دس روز کے لئے اس چینل کا لائسنس ہی معطل کر دیا جائے۔ یقینی طورپرقوانین ہوں یا اخلاقیات، یہ پرانے پاکستان کی فرسودہ روایات ہیں، ان کا نئے پاکستان والوں سے کیا لینا دینا؟

بات امریکہ ، سعودی عرب اور کیانی کی تھی، اب تو ایسی باتیں وہ تھڑے باز بھی نہیں کرتے کہ پاکستان میں وہی کچھ ہوتا ہے جو امریکہ چاہتا ہے کہ جمہوری ادوار میں تو ایسا نہیں ہوتا،مجھے پورا یقین ہے کہ اگر امریکہ کے بس میں ہوتا تو پاکستان کبھی ایٹمی طاقت نہ ہوتا اور اگر اسٹیبلشمنٹ کے پاس میرے رب جیسی طاقت ہوتی تو جنرل پرویز مشرف کو کبھی دم دبا کر نہ بھاگنا پڑتا۔ رہ گیا بے چارہ سعودی عرب ، اس کا قصور یہ ہے کہ اس نے پاکستان کے منتخب وزیراعظم کی جان اس وقت کے آمر سے بچا لی تھی، ایک ایسے ملک کے آمر سے جس ملک کا ایک آمر پہلے ہی ایک منتخب وزیراعظم کو عدالت کے ذریعے کامیابی سے قتل کر واچکا تھا۔ اگر ترجمان بھائی اس مضحکہ خیز تخیلاتی کہانی کو اٹھاتے اور سناتے ہوئے دماغ، کان اور آنکھیں کھلی رکھتے تو انہیں علم ہوتا کہ جنرل کیانی کو مدت ملازمت میں آصف زرداری نے توسیع دی تھی اور میاں محمد نواز شریف نے اس کی مخالفت کی تھی مگر ہمارے کچھ رہنماوں کو دماغ کی بجائے صرف زبان کھلی رکھنے کی عادت ہے۔

لطیفوں سے یاد آیا کہ مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے درمیان محاذ لگا تو اسے نورا کشتی قرار دیا گیا، آہ، اگر آئینہ دکھائیں گے تو وہ برا مان جائیں گے، بھائی، کوئی انہیں بتائے کہ یہی کشتی اصل کشتی ہے کہ انتخابات کا میدان سجنے والا ہے۔ وہ جو خود کو بہت ہی عقل مند سمجھتے ہیں وہ انتخابی میدان کی تمام تر توانائیاں دھرنوں میں ضائع کر چکے ہیں، اپنے کارکنوں اور عہدے داروں کو جسمانی اور سیاسی ہی نہیں بلکہ مالی طور پر بھی بری طرح تھکا چکے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کوئی پہلوان لڑائی سے پہلے ہی ہزاروں پش اپس لگائے اور جوڑ جوڑ میں درد لے کر بیٹھ جائے،جب اصل میدان لگنے والا ہو تو ا س سے ایک قدم اٹھانا بھی دشوار ہو رہا ہو۔ پیپلزپارٹی نے کم از کم اپنی توانائیاں اس وقت ضائع نہیں کیں جب کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ آصف علی زرداری نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ چار برس تک خاموش رہیں گے اور وہ چار برس اب گزررہے ہیں۔ اب اصل میدان لگنا ہے، اب اصل کشتی ہونی ہے اور اسی کشتی کے نتیجے میں انتخابات کی سیٹیں نکلنی ہیں۔ کیا دلچسپ بات ہے کہ دھرنوں میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے والے اب پاناما سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ انہیں کسی نے ابھی تک نہیں بتایا کہ اقتدار اسٹیبلشمنٹ نے نہیں بلکہ عوام نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے دینا ہے۔مجھے پوری امید ہے کہ جوں جوں انتخابات قریب آتے چلے جائیں گے، ایسے لطیفوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا کہ انہیں اگلے انتخابات ہارنے کا جواز بھی تو دینا ہے۔

مزید : کالم


loading...