6 سالہ موبائل چور کی پیشی عدالت کا پولیس پر سخت اظہار برہمی

6 سالہ موبائل چور کی پیشی عدالت کا پولیس پر سخت اظہار برہمی

لاہور(نامہ نگار)ایڈیشنل سیشن جج نذیر احمد کی عدالت میں6ہزار روپے اور موبائل چوری کرنے کے مقدمہ میں ملوث 6سالہ بچے مصطفی اور آٹھویں جماعت کے دو طالب علموں کے کیس کی سماعت کے دوران برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیاپولیس نے اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں؟ ایک 6 سالہ بچے پر مقدمہ بغیر تحقیق کے ہی درج کرلیا گیا،ویسے بھی چھوٹے بچے پر مقدمہ بن ہی نہیں سکتاہے ،فاضل جج نے فوری ایف آئی آر سے بچے کا نام خارج کرنے کا حکم دیتے جبکہ دو بچے جن کی عمریں 14، 14سال تھی ان کی عبوری ضمانت قبل ازگرفتاری منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت سماعت 13اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے دونوں طالب علموں کو پولیس کے پاس شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔سماعت کے موقع پر 6 سالہ مصطفی کو اس کے تایا حمید بٹ نے عدالت میں پیش کیا جس کا کہنا تھا کہ ان کے مخالف فریق محمد علی نے بچوں پر چوری کا کیس درج کرایا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...