ترقیاتی فنڈز میں 10ارب کی کرپشن کرنیوالوں کو بچانے کیلئے سرتوڑ کوششیں جاری

ترقیاتی فنڈز میں 10ارب کی کرپشن کرنیوالوں کو بچانے کیلئے سرتوڑ کوششیں جاری

لاہور( ارشد محمود گھمن//سپیشل رپورٹر) حکومت کی طرف سے 2015۔2016 ء میں ترقیاتی کاموں کے لئے جاری کئے گئے فنڈز میں سے 10ارب روپے کرپشن کے انکشاف پراینٹی کرپشن ٹیکنیکل ہیڈ کوارٹرمیں صوبائی اداروں پنجاب ہائی وے ،اری گیشن وغیرہ کے 5ایس ای ،12ایکسیئن، 16 ایس ڈی اور 26سب انجینئرزکے خلاف اربوں روپے کرپشن کی نذر کرنے کے خلاف انکوائریوں کو سرد خانے ڈالنے اورمذکورہ افسران کے عزیز و اوقارب کے نام مختلف ناموں سے درجن سے زائد جعلی فرمیں بنا کر اور کاغذوں میں کام’ شو‘ کرکے محکمے سے اربوں کی رقم وصول کر نے کاالزام تھا ۔اس ضمن میں سابق ڈائریکٹر ٹیکنیکل پنجاب آفتاب غنی کی جانب سے ان مذکورہ افسران کو انکوائریوں میں تحفظ فراہم کرنے پرڈی جی اینٹی کرپشن نے مذکورہ ڈائریکٹر ٹیکنیکل کے خلاف انکوائری موجودہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن آفتاب تارڑ کو دی لیکن وہ بھی انہیں بچانے کے لئے متحرک ہوگئے ہیں ،واضح رہے کہ مذکورہ افسر کو پہلے زیرحراست رکھا گیالیکن بعدازاں سیاسی شخصیات کے دباؤ کے پیش نظر چھوڑدیا گیا اور اب ان کے خلاف کاغذی انکوائری کی جاری ہے جبکہ انہیں ان کے محکمہ میں بھی دوبارہ بھجوادیا گیا ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ آفتاب غنی کو کرپشن میں ملوث ہونے کے باوجود بچانے کے لئے اہم سیاسی شخصیات کے دباؤ کے تحت بے گناہ کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔پنجاب ہائی وے مکینکل مشینری (بلڈنگز،روڈز )پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ ،محکمہ اری گیشن ،سی اینڈ ڈبلیو ،لوکل گورنمنٹ کو صوبائی دارلحکومت سمیت پنجاب بھر راولپنڈی ‘لاہور‘ ملتان ‘گوجرانوالہ ‘فیصل آباد‘ ساہیوال ‘رحیم یار خان ‘نارووال ‘سیالکوٹ میں جاری ترقیاتی و دیہی پروگرام سڑکوں اور روڈز سائن بورڈز’ کیٹ آئیز‘ لائن مارکنگ ‘سڑکوں کی مرمت کے لئے جاری اربوں روپے کے منصوبوں میں 10 ارب روپے کی کرپشن کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے خلاف ان ڈوثیرن کے 5ایس ای ،12ایکسیئن نفا ست رضا، ناصر جنجوعہ،نوید اشرف، مرزا وقاص بیگ اورریاض احمدوغیرہ، 16ایس ڈی او میں فواد منیر،طلعت محمود،معظم جعفری ،رانا محمد اقبال سہولت رضاوغیرہ اور 26سب انجینئرزعبدالشکور، ، اور محمد رمضان وغیرہ نے ترقیاتی کاموں میں اربوں روپے کرپشن کی نذر کرکے قیمتی اثاثے ‘بنگلے ‘پلاٹ ‘بینک بیلنس بنا رکھے ہیں ۔علاوہ ازیں ان افسران نے کروڑوں روپے کی قیمتی لگثری گاڑیاں اوپن ڈ یڈپر حاصل کررکھی ہیں جو ان کے زیر استعمال پائی جاتی ہیں وزیراعلی پنجاب کے دیہی روڈزپروگرام میں سڑکوں ‘روڈزاور سڑکوں کی مرمت کے لئے جاری کئے گئے فنڈز اورترقیاتی منصوبوں میں رائے ونڈ روڈ ،علی اکبر ملتان روڈ ،سمبڑیال ڈسکہ روڈوغیرہ میں بھی ناقص میٹریل کا استعمال کرکے کروڑوں روپے خورد برد کر لئے ۔ان افسران کے خلاف قومی خزانہ کو نقصان پہنچانے کی بابت محکمہ اینٹی کرپشن ٹیکنیکل ہیڈ کوارٹر سابق ڈائریکٹر آفتاب غنی جن کی کرپشن کے خلاف حالیہ دنوں ڈی جی اینٹی کرپشن مظفر حسین رانجھا کے حکم پر ایکشن لیتے ہوئے انہیں زیر حراست لے لیا گیا ،بعدازاں اہم شخصیت کی مداخلت پر انہیں چھوڑ دیا گیا اور انہیں دوبارہ ان کے محکمہ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں بجھوا دیا گیا اور ان کے خلاف صرف محکمانہ انکوائری شروع کردی گئی ہے اور اس مذکورہ انکوائری میں بھی ان کے خلاف صرف کاغذی کارروائی کی حد تک کارروائی کی جاری ہے ،واضح رہے کہ مذکورہ سابق ڈائریکٹر اپنے اثر ورسوخ کے باعث اپنے خلاف چلنے والی انکوائری میں بھی پیش نہیں ہورہا ہے ۔اس بابت موقف دریافت کرنے کے لئے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن اینٹی کرپشن (انوسیٹی گیشن آفیسر)آفتاب تارڑسے رابطہ کیا گیاتو انہوں نے اس حوالے سے جواب دینے سے انکار کردیاتاہم ڈی جی اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...