خواتین کی خریدوفروخت کا معاملہ گھمبیر، سمگلنگ نہیں ہوئی تو سنسنی کیوں پھیلائی گئی؟ چیف جسٹس

خواتین کی خریدوفروخت کا معاملہ گھمبیر، سمگلنگ نہیں ہوئی تو سنسنی کیوں ...

اسلام آباد(اے این این) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ خواتین کی خریدوفروخت کامعاملہ گمبھیرہے ، اگرخواتین کی سمگلنگ نہیں ہورہی تو سنسنی کیوں پھیلائی گئی ہے؟بعض اندرونی و بیرونی عوامل پاکستان کوبدنام کرنے کے لیے ایسے معاملات اٹھاتے ہیں ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے عورتوں کی خریدوفروخت سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔ عدالت نے عاصمہ جہانگیرکو عدالتی معاون مقرر کیا ہے ۔مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ خواتین کی خریدوفروخت کے معاملے میں پولیس کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی رپورٹس ملی ہیں، اگرخواتین کی سمگلنگ ہورہی ہے تو یہ انتہائی خطرناک بات ہے، پولیس نے تو کہہ دیا کہ عورتوں کی سمگلنگ کا کوئی وجود نہیں، مگر کچھ آزادانہ رائے بھی سامنے آنی چاہئے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق مرزا نے بتایا کہ خواتین کی خریدوفروخت کے کسی گروہ کا کوئی وجود نہیں، ایک شخص مختارکوگرفتار کرکے ایف آئی آر درج کی گئی ہے، راولپنڈی کی فرزانہ اور اس کے ساتھی لوگوں کوشادی کا جھانسہ دے کر پھنساتے تھے۔ فرزانہ کی شادی ایک افغان شہری سے کرائی گئی، جو اسے معاہدے کی خلاف ورزی پر افغانستان لے گیا۔ فرزانہ کو افغانستان سے مختلف چینل استعمال کرکے واپس لایا جاسکتاہے۔چیف جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ فرزانہ کوافغانستان سے پاکستان لانے کی کوششیں کی جائیں، عدالت نے عورتوں کی خریدوفروخت سے متعلق خبر شائع کرنے والے صحافی کونوٹس جاری کرکے مقدمے کی سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...