راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلئے ابھی این او سی جاری نہیں کیا: خواجہ آصف

راحیل شریف کو اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کیلئے ابھی این او سی جاری نہیں ...

اسلام آباد ( ما نیٹر نگ ڈیسک) وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ خواہش ہے کہ پاکستان کے افغانستان سے تعلقات بہتر ہوں، مگر افغانستان سے تعلقات کی بہتری میں بڑی رکاوٹ بھارت ہے، کراس بارڈر دہشتگردی کا مسئلہ پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے،جنرل(ر) راحیل شریف کو اسلا می فوجی اتحاد کی سربراہی کے لیے ابھی تک این او سی جاری نہیں کیا ، تاہم انہیں این او سی دینے کا اصولی فیصلہ ہی کیا گیا ہے ، رسمی کاروائی ابھی باقی ہے۔ نجی ٹی وی چینل ’’92نیوز‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں خواجہ محمد آصف نے کہا کہ سعودی عرب نے جنرل (ر)راحیل شریف کی خدمات کے لیے درخواست کی تھی ، جس پر ہم نے رضا مندی ظاہر کی ، ہم راحیل شریف کو بھیجنے کے لیے تیار ہیں ، راحیل شریف کب جائیں گے ؟یہ فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے،سعودی فوجی اتحاد کی سربراہی کے لیے ابھی تک حکومت نے این او سی جاری نہیں کیا ، تاہم انہیں این او سی دینے کا اصولی فیصلہ ہی کیا گیا ہے ، رسمی کاروائی ابھی باقی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کا اندرونی مسئلہ ایسا ہے کہ وہاں 16سال سے بیٹھے 16ممالک بھی حل نہیں کر سکے ، پاکستان نے اپنے ہر علاقے میں کنٹرول کر لیا ہے مگر افغانستان میں ایسی صورتحال نہیں ہے، پاک فوج کے جوان ملکی دفاع کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں وہ ہماری تاریخ کا روشن باب ہے ، ہمارے سیکیورٹی اداروں میں انٹلیجنس شیئرنگ ہو رہی ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کسی قسم کی دورائے نہیں ہے، پاکستان کی فوج ہر محاذ پر قربانی دے رہی ہے ، افواج پاکستان مردم شماری میں بھی مدد کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشتگردوں اور اس کی سوچ کو ختم کرنا ہے، دہشتگردوں کی سوچ ایک ہے، چاہے نام جو مرضی رکھ لیں ، پاکستان دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے ،ہم نے دہشتگردی کے خلاف 2لاکھ اہلکار مقرر کر رکھے ہیں، اتنے کسی ملک نے مقرر نہیں کیے ، ہم نے پچھلے دو ڈھائی سال میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں ، دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور دنیا کی کوششوں میں کوئی مقابلہ نہیں ، سویلین قیادت کو فوج کا مورال بڑھانے کے لیے جنگی محاذوں کا دورہ کرنا چاہیے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکی ثالثی کی کوشش پرانی ہے ، ہم نے کلنٹن سے بھی کہا اور صدر اوبامہ سے بھی کہا کہ وہ ثالثی کے لیے کردار ادا کریں مگر بھارت اس سے انکاری ہے ، بھارت یہ سمجھتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جتنا عالمی سطح پر اجاگر ہو گا اتنا ہی اسے نقصان ہو گا، وہ ثالثی قبول نہیں کررہا جبکہ یہ مسئلہ ہماری خارجہ پارلیسی کیلئے بڑی بنیادی حیثیت رکھتا ہے ، جب تک کشمیرکا مسئلہ حل نہیں ہوتا خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی پاکستان کیلئے سود مند ہے ، بھارت مسئلہ کشمیر کی وجہ سے مذاکرات نہیں چاہتا مگر ہمارے لیے یہ ممکن نہیں کہ کشمیریوں کو پس پشت ڈال کر حالات معمول کے مطابق بنا لیں ، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر بہتر کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...