آئین پر عمل نہ ہوا تو آنے والا دور مارشل لا سے بدتر ہو گا : چیئرمین سینیٹ

آئین پر عمل نہ ہوا تو آنے والا دور مارشل لا سے بدتر ہو گا : چیئرمین سینیٹ

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک / آن لائن)چیئر مین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ جہاں انصاف ٹکڑوں میں ہو بٹا ہوا ہو وہاں پر بے چارا قانون کیا کر سکے گا؟،پاکستان میں دولت مند ہی طاقتور ہے اور کچھ بھی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام طبقات کے حقوق کو تحفظ دینا ہے جس کی بدولت پارلیمنٹ ہے، پارلیمنٹ کا تشخص اسی صورت برقرار رہ سکتا ہے۔ جب جمہوریت ڈلیور کرے گی اور پارلیمنٹ عوامی امنگوں کی ترجمانی کرے گی تو عوام بھی اس کے تحفظ کیلئے سمندر کی مانند نکلیں گے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پی ایف یو جے کے زیر اہتمام پہلے یوم شہدائے صحافت کے انعقاد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں قانون کو نافذ کرنے کے لیے پانچ معیار ہیں، دیکھ لیں اگر آرٹیکل چھ بنتا ہے،یہاں تو عدالت ملزم کو بلاتی ہے مگر وہی ملزم عدالت آنے کی بجائے بیرون ملک چلا جاتا ہے۔ کیا ہمارا معاشرہ اور قوم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے جارہے ہیں؟انہوں نے کہا گر آئین پر عمل نہ ہوا تو آنے والا دور مارشل لا سے بھی بد تر ہو گا۔ مارشل لاکے دور میں لوگ حق کا نعرہ لگانے سے پیچھے نہیں ہٹے اس دور میں عوام نے کوڑے بھی کھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اکبر بگٹی کے قتل کا مقدمہ درج ہوتا ہے، وزیرداخلہ عدالت جاتے ہیں اور وہ بری ہوجاتے ہیں۔جس جگہ انصاف ہی ٹکڑوں میں ہوگا وہاں قانون بے چارا کیا کرسکتا ہے؟،یہ معاشرہ ایسا ہے جہاں پر انصاف 4یا 5ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے پاکستان میں صحافیوں نے جتنی قربانیاں دیں اس کی مثال نہیں ملتی جمہوریت کی جدوجہد بھی صحافیوں کی مرہون منت ہے۔ رضا ربانی نے کہا کہ جمہوریت کی بحالی کیلئے صحافی برادری کی قربانیاں بے مثال ہیں، پارلیمنٹ کو جمہوریت بحالی تحریک میں شریک صحافیوں، مزدوروں اور طلبا کیلئے ڈھال بننا ہو گا اور ان کے حقوق اور مفادات کو تحفظ دینا ہو گا۔ یوم شہدائے صحافت کی تقریب میں شرکت میرے لئے باعث فخر ہے۔ بطور سیاسی کارکن اس تقریب میں شرکت باعث فخر ہے۔ حامد میر کو شہدا صحافیوں کیلئے انڈوومنٹ فنڈ کے قیام کی سوچ کو عملی جامہ پہنانے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ تحفظ کا قانون تیار ہو رہا ہے، وہ منظور بھی ہو جائے گا لیکن اصل مسئلہ قانون کے اطلاق کا ہے جہاں معاشرہ میں قانون کے اطلاق کے مختلف معیار ہوں وہاں بے چارہ اکیلا قانون کیا کر سکتا ہے اس لئے ہمیں اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہے۔صحافیوں اور معاشرہ کے تمام طبقات کیلئے یکساں قانونی اطلاق کیلئے کردار ادا کرنا ہے چاہے کوئی بھی قربانی دینا پڑے۔ رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی ہر چیز پر مقدم ہے، قانون سب کے لئے برابر ہونا چاہئے، غریب اور طاقتور کے لئے الگ الگ قوانین معاشرے میں محرومیاں پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ تقریب سے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ، این پی سی کے صدر شکیل انجم، سینئر صحافی حامد میر، جاوید چوہدری، نصرت جاوید، رانا جواد، مظہر برلاس، عاصمہ شیرازی، ناصر زیدی، اقبال جعفری، اقبال خٹک، ناصر ملک، قائم مقام صدر آر آئی یو جے ناصر ہاشمی، جنرل سیکرٹری علی رضا علوی نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں شمالی وزیرستان، لاڑکانہ اور دیگر علاقوں میں شہید ہونے والے صحافیوں کے خاندانوں نے شرکت کی۔ حامد میر کی طرف سے پانچ شہداء کے خانوادوں میں پندرہ لاکھ روپے کے چیک تقسیم کئے گئے۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ جدوجہد نہ کی گئی تو مستقبل تاریک ہونے کا امکان ہے، صحافیوں، سیاستدانوں اور سماج سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو مل کر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ پاکستانی میڈیا دہشت گردی کا شکار ہے۔ قاتل آزاد پھر رہے ہیں، صحافیوں کا معاشی قتل بھی جاری ہے، ان کی زندگی اور ملازمت کے تحفظ کیلئے مناسب قانون سازی نہ کی گئی تو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے۔ حامد میر نے کہا کہ ملک بھر میں 120 سے زائد صحافی شہید ہو چکے ہیں، لیکن بدقسمتی سے جزا و سزا کے ناقص نظام کے باعث قاتلوں کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکی۔ یہ ہماری طرف سے شہید صحافیوں کی خدمات کے اعتراف میں ادنیٰ سے کاوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان صحافیوں کے لئے بدترین ملک بن چکا ہے۔۔ جاوید چوہدری نے کہا کہ ہم اگر زندہ لوگوں کا فرق نہیں مٹا سکتے تو کم از کم شہیدوں میں فرق مٹا دینا چاہئے، یہاں عام شہید اور خاص شہید کا فرق خوفناک صورت اختیار کر چکا ہے، میڈیا ورکرز کے لئے قائم انڈولمنٹ فنڈ کے حوالے سے ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہوں۔

مزید : صفحہ اول


loading...