اورنج لائن ٹرین کیس ، ماس ٹرانسپورٹ نظام پر کوئی جھگڑا نہیں ، قومی ورثہ کے تحفظ پر سمجھوتہ ناممکن ہے : سپریم کورٹ

اورنج لائن ٹرین کیس ، ماس ٹرانسپورٹ نظام پر کوئی جھگڑا نہیں ، قومی ورثہ کے ...

اسلام آباد (آن لائن )سپریم کورٹ میں لاہور ا ورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جھگڑے والی بات نہیں سب ماس ٹرانسپورٹ نظام کے حق میں ہیں، لیکن قومی ورثے کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ،تاریخی عمارتوں کی وجہ سے کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے،صرف اس بنیاد پر ماہرین کی رپورٹ مسترد کر دینا قابل قبول نہیں کہ انہو ں نے پاکستان کی نمائندگی کی ہے ،ایسا ہے تو پھرنریندر مودی سے ہی ماہرانہ رائے لے لیتے کیونکہ بھارتی اور اسرائیلی پاسپورٹ والوں نے ہی کبھی پاکستان کی نمائندگی نہیں کی ہوگی۔ سول سوسائٹی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کیس کی تیاری کیلئے ایک ماہ کی مہلت مانگی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے مزید سماعت پیر تک ملتوی کردیجمعرات کو کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید ، جسٹس مقبول باقر ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی ،دوران سماعت جسٹس اعجاز فضل نے ایل ڈی اے کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا ٹپسا ماہرین رپورٹ میں ارتعاش کو جذب کرنے کیلئے کچھ نیا بتایا گیا؟ اس پر خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا سپریم کورٹ نے ماہرین کو صرف نیسپاک رپورٹ کے جائزے کیلئے کہا تھا،جس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہناتھا ضرورت ہوئی تو عدالت تکنیکی ماہرین کو بریفنگ کیلئے بلائے گی، اس پر وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا ٹپسا ماہرین رپورٹ میں نیسپاک رپورٹ کے علاوہ تفصیل بھی ہے، جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا ماہرین نے زمین اور موقع کا معائنہ کیا یا صرف کمپیوٹر پر جائزہ لیا؟خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ زمین کی سطح اور مٹی کے نمونے پہلے ہی لیے جا چکے تھے، ماہرین نے انہی نمونوں کی رپورٹس دیکھیں اس پر جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ نے ڈاکٹر اپل کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا؟ اس پر خواجہ حارث کا کہناتھا ہائیکورٹ نے ڈاکٹر اپل کی رپورٹ جائزہ لیے بغیر مسترد کی، جسٹس اعجاز افضل نے کہا بظاہر ہائیکورٹ نے ڈاکٹر اپل رپورٹ کا میرٹ پر جائزہ نہیں لیا، ایل ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا یونیسف کی ماہر پامیلا راجرز کی رپورٹ مسترد کی گئی، پامیلا راجر کے بارے میں کہا گیا کہ وہ پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں ، اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ صرف اس وجہ سے رپورٹ مسترد کرنا ناقابل قبول ہے، ایسا ہے تو نریندر مودی سے ماہرانہ رائے لے لیتے کیونکہ بھارتی اور اسرائیلی پاسپورٹ والوں نے ہی کبھی پاکستان کی نمائندگی نہیں کی ہوگی، خواجہ حارث نے کہا ماہرین کی رپورٹ پر عمومی اعتراض کیا گیا ، رپورٹ میں غلطیوں کی نشاندہی نہیں کی گئی، جبکہ نیسپاک کے وکیل شاہد حامد کا کہناتھا یہ جمہوری اور عوامی حکومت کا منصوبہ ہے، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا تاریخی عمارتوں کی وجہ سے کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتے جبکہ سول سوسائٹی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے کہا پبلک ٹرانسپورٹ کیخلاف نہیں، منصوبے کیخلاف عدالت آنیوالے عام شہری ہیں،پنجاب حکومت من مرضی پر تلی ہوئی تھی،ہم بھی ترقی چاہتے ہیں مگر قومی ورثہ تباہ نہ کیا جائے، اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے جھگڑے والی با ت نہیں سب ماس ٹرانسپورٹ نظام کے حق میں ہیں، لیکن قومی ورثے کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول


loading...