آج ہم بھٹو صاحب کا نیا پاکستان بھگت ر ہے ہیں

آج ہم بھٹو صاحب کا نیا پاکستان بھگت ر ہے ہیں

س: صحافت کی طرف کس نے راغب کیا؟

ج: جھنگ میں ایک سینئر صحافی تھے بلال زبیری، ایک اکرام چغتائی تھے اور محمد حسین رنگین تھے جو ’’عروج‘‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ نکالتے تھے۔ وہ مجید امجد صاحب کے دوست تھے۔ انہی لوگوں میں بیٹھنے سے خبرنگاری کا شوق ہوا۔ ابتدا میں اعزازی طور پر روزنامہ ’’غریب‘‘ لائلپور کی نامہ نگاری کی ،بعدازاں نوائے وقت کی جھنگ شہر سے نامہ نگاری کی۔ اس کے بعد لائل پور آ گیا، یہاں آ کر چھوٹے چھوٹے اخباروں میں ملازمتیں کیں۔

س: جب آپ نے ادب و صحافت میں قدم رکھا تو آپ کی عمر کتنی تھی؟

ج: میں دس گیارہ سال کی عمر میں پاکستان آیا، اغلبا 51ء میں نامہ نگاری شروع کی تو اس طرح آپ حساب لگالیں چودہ پندرہ سال کی عمر میں نامہ نگاری کی ابتداء کی۔ 55ء، 56ء تک یعنی 18، 19 برس تک تو میں باقاعدہ شاعر بن چکا تھا۔

س: یعنی بیس برس سے پہلے پہلے آپ سارا کچھ کر چکے تھے؟

ج: (ہنستے ہوئے) بالکل بیس برس سے پہلے پہلے یہ سب کیا ۔53ء کی تحریک ختم نبوت میں جیل بھی کاٹ چکا تھا ۔اس زمانے میں تحریک ختم نبوت کا سب سے کم عمر قیدی بنا۔

س: اس کا مطلب ہے کہ اس وقت آپ کا مذہبی رجحان کافی تھا؟

ج: ہمارا پورا گھرانہ مذہبی تھا۔ ابا جی صرف نمازی ہی نہیں تھے باقاعدہ اللہ لوک انسان تھے۔ شب بیدار تھے، تہجد ریگولر پڑھا کرتے تھے، ہر وقت ورد کرتے رہتے تھے۔ لاحول ولاقوۃ کے ورد کی وجہ سے احباب میں ماسٹر ’’لاحول ولا‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ راتوں کو نوافل کثرت سے پڑھتے تھے، درودشریف اور اسمائے ربانی ان کے معمول کے وظائف میں شامل تھے ۔ان کے معمولات ہی روحانی نوعیت کے تھے ۔ظاہر ہے اس طرح کے روحانیت سے معمور ماحول میں رہ کے مذہب کی طرف رجحان ہونا فطری امر تھا ،سو یہ ہوا۔

س: تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے کا خیال کیسے آیا؟

ج: اس کا محرک تو نوجوانی کا جوش و جذبہ بنا۔ شہر میں جلسے جلوس نکلتے دیکھ کر ان میں شریک ہونے لگا۔ جب گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تو باقاعدہ منظم انداز میں گرفتاریاں پیش کی جانے لگیں۔ اس ضمن میں جتنے بھی سالار بنے سب اسیر ہوئے ۔ایک بار قرعہ فال میرے نام پڑا، مجھے سالار بنا دیا گیا۔ میں شہر میں سے لوگ اکٹھے کر کے مرکزی مقام تک لاتا جلوس نکالتے، تقریریں کرتے اور گرفتاریوں کے وقت میں چپکے سے وہاں سے کھسک جاتا۔ دراصل شہر کا ایس ایچ او چودھری خوشی محمد ابا جی کا دوست تھا ۔وہ دانستہ طور پر مجھے نکل جانے کا موقع دے دیتا تھا۔ اس نے پولیس والوں کو ہدایت کر رکھی تھی کہ مجھے نہیں پکڑنا۔ ہفتہ دس دن تو یہ سلسلہ چلا، پھر ایک دن اس نے ابا جی سے کہا کہ ناجی کو جلوس میں نہ جانے دینا یا اسے کہنا کہ آرام سے گرفتاری دے دے وگرنہ ہم خود اسے دبوچ لیں گے۔ ابا جی نے مجھے کہا کہ اول تو جلوس میں جاؤ ہی مت اگر جانا ہے تو جا کر گرفتاری پیش کر دینا۔ میں جلوس لے کر گیا اور مسجد میں جا کر تقریر کر کے گرفتاری پیش کر دی۔ میں چونکہ لیڈروں کی صف میں شمار ہونے لگا تھا سو مجھے جیل مینوئل کے مطابق بی کلاس ملنا تھی ۔یہ سہولت اس وقت تک صرف لاہور کی بورسٹل جیل جو اب کیمپ جیل کہلاتی ہے، اسی میں تھی۔ پنجاب بھر سے اس کیٹیگری کے سبھی قیدی لاہور اسی جیل میں لا کر رکھے جاتے تھے۔ اس کے لئے اس کا الگ سے ایک حصے میں بیرکیں خالی کرا کے سبھی کو ان میں رکھ دیا گیا۔ ہم کوئی 600 کے قریب لوگ تھے۔ پہلے تو سبھی لوگ ایک ہی جگہ تھے لیکن جوں جوں علمائے کرام کو جیل مینوئل کا پتہ چلتا گیا وہ اپنے حقوق مانگنے لگے۔ اس زمانے میں بی کلاس قیدی کو ایک خدمت گار ملتا تھا اور ایک مخصوص رقم بھی دی جاتی تھی جسے وہ اپنی مرضی سے خرچ کر سکتا تھا۔ بس پھر کیا تھا پہلے رقم کے حصول کی تگ و دو شروع ہوئی۔ پھر جہاں اکٹھے کھانا پکتا اور تقسیم ہوتا تھا وہاں اپنے اپنے طور پر انتظام شروع ہوا تو علاقائی تقسیم درآئی کوئی ملتان گروپ بنا، کوئی جھنگ گروپ غرضیکہ ہر شہرو ضلع کے لوگوں کے گروہ بن گئے۔ رفتہ رفتہ فرقہ واریت در آئی اور شیعہ، سنی، وہابی کے علیحدہ علیحدہ گروپ بن گئے۔ ان میں بھی فروعی اختلافات نے خلیج ڈالنا شروع کی تو رفتہ رفتہ یہ 600 لوگ دس دس پندرہ پندرہ کی ٹولیوں میں بٹ کر رہ گئے۔ اسی دوران رمضان المبارک آ گیا۔ عبادت و ریاضت کے اس مہینے میں نماز و قرآن و نوافل کی بجائے سحر و افطار میں جب ان مذہبی اجارہ داروں کی بوٹی اور پلاؤ پر لڑائیاں دیکھیں یہاں تک کہ چمچوں اور کڑچھوں کے ساتھ گتکا کھیلنے کے مناظر دیکھے تو آپ جان سکتے ہیں کہ ایک ایسے نوجوان کی کیا حالت ہوئی ہو گی جو ایک خاص رومانس کے تحت اپنے پیارے نبیؐ کی محبت میں ایک مشن پر نکلا تھا۔بوٹیوں پہ لڑنے والوں کی حالت دیکھ کر ایک عجیب سی اکتاہٹ ہو گئی۔ اسلام سے نہیں، اسلام کا کاروبار کرنے والوں سے۔ ان مذہبی اجارہ داروں سے جی اچاٹ ہو گیا دین پر عمل کرنے کی بجائے اسے منفعت بخش کاروبار بنانے والوں سے دل گریزاں ہو گیا۔ ظاہر ہے نوجوان کے اپنے تصورات ہوتے ہیں، آئیڈیلز ہوتے ہیں، خواب ہوتے ہیں وہ سارے بکھر کے رہ گئے۔پہلے پہل تو مذہب سے بھی بیزاری ہوئی، بدظن ہو گیا مگر جب آہستہ آہستہ مطالعہ وسیع ہوا تو کھلا کہ دین کی روح تو کچھ اور ہوتی ہے جس کا ان مذہبی ٹھیکیداروں اور اجارہ داروں سے کوئی تعلق نہیں۔

س: یعنی کہ جب آپ جیل سے نکلے تو ایک بدلے ہوئے نوجوان تھے؟

ج: بالکل میرا اعتقاد اٹھ چکا تھا۔

س: صحافت سے باقاعدہ رشتہ کیسے جڑا اور کہاں؟

ج: ابا جی کے ایک بزنس مین دوست تھے حمید اختر نجید جو پاکستان ٹائمز کے نمائندے تھے اور لائلپور سے اپنا ایک ویکلی اخبار نکالا کرتے تھے شروع وہاں سے کیا، اخبار کے دفتر میں ہی رہائش رکھی تھی۔ اس کے بعد ڈیلی بزنس رپورٹ میں گیا۔ آہستہ آہستہ اس کا چیف رپورٹر بن گیا۔

س: لاہور مراجعت کیسے ہوئی؟

ج: اخبار جہاں سے نکلا تو حریت میں چلا گیا، انہوں نے اپنا نمائندہ بنا کے لاہور بھیج دیا۔ کچھ عرصہ یہاں حریت کی نامہ نگاری کی پھر کچھ فلمی دنیا کے لوگ مل گئے انہوں نے فلم کی کہانیاں اور گانے لکھنے کا کہا اس میں مصروف ہوگیا، اسی دوران ایک فلمی رسالہ ’’مصور‘‘ کا اجرا ہوا تو میں اس سے منسلک ہو گیا اور فلمی فیچرز لکھنے لگا۔ وہ بھی اللہ کے فضل سے بڑا کامیاب ہو گیا۔ مولانا کوثر نیازی سے کراچی میں ہی ملاقات ہو گئی تھی وہ مشرق کے بانی عنایت اللہ مرحوم کے ساتھ پیلس ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے ۔ہم بھی وہاں گپ شپ کے لئے جایا کرتے تھے ۔یوں مولانا کوثر نیازی سے تعلق قائم ہو گیا۔مصور کے دور میں مولانا کوثر نیازی نے ایک ملاقات میں بتایا کہ وہ باقاعدہ سیاست میں آ رہے ہیں ۔ان کا ایک رسالہ تھا ہفت روزہ ’’شہاب‘‘۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ اسے نکال سکتے ہیں تو نکال لیں مگر پیسہ ویسہ میرے پاس نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ اللہ مالک ہے شروع کر دیتے ہیں۔

ہاشمی صاحب کی اورینٹ ایڈورٹائزنگ ایجنسی تھی ۔میری ان سے بھی کراچی سے ہی یاد اللہ ہو گئی تھی ۔میں ان کے پاس گیا اور کہا کہ میں اس طرح ایک سیاسی ہفت روزہ نکالنے جا رہا ہوں، آپ اس کی اشتہار بازی کا ذمہ لیں میں اس کی ادائیگی تو نہیں کر سکوں گا مگر آپ اس کے عوض میں اپنے اشتہارات لگوا کے حساب برابر کر لیجئے گا۔ ہاشمی صاحب بہت ہی مہربان شخصیت تھے، علی کی شادی میں چوہان روڈ گھر بھی آ گئے تھے، جب بھی لاہور آتے ضرور ملاقات کا شرف بخشتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بے فکر ہو جائیں، اشتہار دیں ۔ہم نے انہیں اشتہار دیاتو اخبارات میں اشتہار چھپتے ہی ایجنٹ آ گئے۔ ایجنٹوں سے پیشگیاں لیں اور اللہ کا نام لے کر ’’شہاب‘‘ شائع کر دیا۔ ’’شہاب‘‘ نکلا تو بھٹو مخالف حلقوں پر شہاب ثاقب بن کے گرا۔

س: اس سے پہلے تو مساوات اور آزاد نہیں نکلے تھے؟

ج: مساوات اور آزاد کے لئے تو ہم نے شہاب کے ذریعے چندے اکٹھے کئے تھے۔ اس وقت تو ایک ہفت روزہ نصرت تھا جو حنیف رامے کا تھا اس کی سرکولیشن بہت محدود تھی مگر شہاب تو بہت پاپولر اخبار تھا۔

س:بھٹو صاحب سے کب پہلی ملاقات ہوئی آپ کی؟

ج: بھٹو صاحب سے پہلی ملاقات کے وقت تو میں انجام میں تھا۔

س: یہ ملاقات انٹرویو کے سلسلے میں تھی یا کسی خبر کے لئے؟

ج: بھٹو صاحب سے پہلی ملاقات ایک ریسٹورنٹ کی لفٹ میں ہوئی ۔یہ ریسٹورنٹ رات گئے تک کھلا رہتا تھا ۔اس کی کھلی چھت پر دیر گئے تک سروس دی جاتی تھی جہاں ڈانس وغیرہ بھی ہوتا تھا۔ میں لفٹ میں سوار ہوا تو ان سے ملاقات ہو گئی۔ علیک سلیک کے بعد میں نے اپنا تعارف بطور صحافی کروایا۔ بھٹو صاحب فرانس کے صدر کے اعزاز میں استقبالیہ کے سلسلے میں مصروف تھے ،انہوں نے مجھے اس میں آنے کی دعوت دی۔ میں اگلے روز چلا گیا۔ اس زمانے میں سکیورٹی وغیرہ کے یہ مسائل نہیں تھے جو آج کل ہیں۔ استقبالیہ تقریب میں بطور ایک صحافی شرکت کی، بھٹو صاحب نے مجھے کہا کہ کسی دن گھر آئیے۔

یاد آیا آپ جس انٹرویو کی طرف اشارہ کر رہے ہیں وہ بھٹو صاحب کا نہیں بیگم نصرت بھٹو کا تھا جو اخبار خواتین کے لئے کیا گیا تھا۔ اس کی روداد بڑی دلچسپ ہے۔ ہوا یوں کہ فرہاد زیدی ہمارے ایگزیکٹو ایڈیٹر تھے۔ میں نے انٹرویو کے لئے بیگم بھٹو سے وقت طے کیا مقررہ تاریخ کو حسب پروگرام جانے لگا تو فرہاد زیدی کی بیگم مسرت جبیں جو ہمارے ساتھ ہی کام کرتی تھیں، فرہاد زیدی نے میرے ساتھ کر دیں کہ انہیں بھی لے جائیے۔ میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان لوگوں کے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔ میں انٹرویو کرنے انہیں ساتھ لے گیا، یاد رہے کہ مسرت جبیں، فرہاد زیدی صاحب کی اہلیہ تھیں۔ جب انٹرویو اشاعت پذیر ہوا تو اس پر میرا نہیں بلکہ مسرت جبیں کا نام تھا۔۔۔ بعد میں ان دونوں میاں بیوی نے اس انٹرویو کو جی بھر کے کیش کروایا۔

س: بھٹو صاحب سے سیاسی رفاقت کا سفر کیسے شروع ہوا؟

ج: کراچی میں بھٹو صاحب سے تو ملاقاتیں ان کے وزارت خارجہ کے زمانے میں تھیں۔ وہ جب سیاسی سفر کا آغاز کرنے جا رہے تھے تو سب سے پہلے ممتاز دولتانہ صاحب سے ملے یہ بات خود ممتاز دولتانہ نے مجھے بتائی تھی کہ بھٹو ان سے آ کر ملے اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ سیاست کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔وہ ان کی مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کر دیں گے بشرطیکہ دولتانہ صاحب انہیں اپنی جماعت کا سیکرٹری جنرل بنا لیں، اس پر دولتانہ صاحب نے انہیں آگاہ کیا کہ اس طرح عہدے نہیں بانٹے جاتے ،آپ آئیں کام کریں اور اپنی جگہ بنائیں۔ یہ بات بھٹو صاحب کے مزاج کے خلاف تھی۔ وہ دولتانہ صاحب سے رخصت ہوئے اور پھر اپنی الگ سے جماعت بنانے کا ارادہ کیا۔ اس دوران ان کے ساتھ رابطے میں رہنے کا مسلسل موقع ملا، پارٹی کے سلسلے میں جو مشاورت ہوئی تھی اس میں بھی شریک رہا جب پیپلزپارٹی قائم ہوئی تو اس وقت بھٹو صاحب کی خبر تک کوئی اخبار چھاپنے کو تیار نہیں تھا، کسی کونے کھدرے میں انہیں جگہ ملتی تھی مگر ’’شہاب‘‘ ان کا بھرپور ترجمان بن کے سامنے آیا۔ یہ ہفت روزہ اخباروں میں تہلکہ خیزثابت ہوا۔

س: ’’مساوات‘‘ سے بھی تو آپ بطور ایڈیٹر وابستہ رہے ؟

ج: پہلے تو ظاہر ہے ہماری کوششوں سے ہی اخبار منظر عام پر آیا تھا اس میں ’’نئیں ریساں شہر لاہور دیاں‘‘ کے زیرعنوان کالم لکھنے شروع کئے جب حکومت بن گئی تو اس کے ایڈیٹر حنیف رامے صوبائی وزیر بن گئے، بھٹو صاحب لاہور آئے تو ملاقات ہونے پر مجھ سے پوچھا کیا کرنا چاہو گے ۔میں نے کہا مجھے صحافی ہی رہنے دیجئے، انہوں نے مساوات کی ایڈیٹری سونپ دی۔ حکومتی ترجمان اخبار کو چلانا بہت مشکل کام ہوتا ہے مگر بحمداللہ میں نے اس کی اشاعت گرنے نہیں دی، سنبھالے رکھا، پھر اسے بھی چھوڑ دیا۔

س: مساوات چھوڑنے کی وجہ؟

ج: جب کوئی پارٹی ترجمان اخبار ’’حکومتی پارٹی‘‘ کا ترجمان بن جاتا ہے تو پھر وہاں خرابیاں بھی پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں ،ایسا ہی کچھ مساوات میں ہوا۔ کچھ مفاد پرست عناصر نے حسب عادت سازشیں شروع کر دیں۔ میں اس طرح کے ماحول میں کام نہیں کر سکتا۔۔۔ اسلام آباد گیا، وہاں بھٹو صاحب کے ایک محدود سرکل کی میٹنگ میں مجھے شرکت کرنا تھی جس میں مساوات کے پھیلاؤ کے حوالے سے مشورے ہو رہے تھے، مجھے پوچھا گیا کہ آپ کیا تجاویز لائے ہیں تو میں نے جیب سے استعفیٰ نکال کے سامنے رکھ دیا کہ جناب میں تو اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے منفی رویے کے جواب میں یہ لایا ہوں۔

س: اس کے بعد بھٹو صاحب نے آپ کو او ایس ڈی بنا دیا؟

ج: نہیں نہیں، بھٹو صاحب نے مجھے ریڈیو پاکستان میں اسکرپٹ ایڈوائزر کی آسامی کی پیشکش کی تھی جو میں نے کچھ عرصہ تک کی۔ اس دوران مغربی پاکستان میں گیا بعد میں اپنا اخبار ’’حیات‘‘ نکالا لیکن یہاں بھی کچھ مہربانوں کی عنایات کی وجہ سے حالات ایسے بنے کہ اخبار تو چل گیا مگر میں بیٹھ گیا کیونکہ اس دوران بھٹو صاحب کی حکومت برطرف ہو چکی تھی۔ ضیاء نے مارشل لاء نافذ کر رکھا تھا۔ سنسر شپ کی خلاف ورزیوں پر جیل بھی ہوئی۔ اس عرصے میں جن لوگوں کے سپرد کر کے گیا تھا انہوں نے سب کھا پی لیا واپس آیا تو اخبار مقروض ہو چکا تھا۔

س: ناجی صاحب آپ کی زندگی اتنی سادہ تو نہیں تھی کہ جتنی آسانی سے آپ نے بیان کر دی آپ کی تو زندگی باقاعدہ ’’کارزار حیات‘‘ ہے اس کارزار میں کتنی جنگیں لڑیں، کتنے الیکشن لڑے اور لڑوائے؟

ج: الیکشن تو میں نے کبھی لڑا نہیں اگرچہ بھٹو صاحب نے مجھے بھی کہا تھا مگر میں نے معذرت کر لی تھی۔

س: مگر لڑوائے تو تھے آپ 70ء کے الیکشن میں چند ایک لوگوں کے الیکشن ایجنٹ بھی تو بنے تھے؟

ج: مولانا کوثر نیازی کا الیکشن ایجنٹ بنا تھا مگر اس سے پہلے ہی بھٹو صاحب میرے الیکشن لڑنے سے انکار پر میری ذمہ داری لگا چکے تھے کہ پنجاب سے جتنے لوگ جیلوں میں ہیں ان کی انتخابی مہم کی نگرانی کروں۔ مولانا کوثر نیازی کی نامزدگی کا قصہ بڑا دلچسپ ہے۔ انہیں پسرور کے حلقے سے ٹکٹ دیا گیا تھا۔ جب اس فیصلے سے مجھے آگاہ کیا گیا کہ میں مولانا کے ساتھ باقی قیدی امیدواروں کی بھی الیکشن مہم چلاؤں گا تو سب سے پہلا مرحلہ مولانا کوثر نیازی کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا تھا، اس کے لئے تین چارسیٹ تیار کرنا ہوتے ہیں، حلقے کے ووٹرز میں سے بھی چند ایک کی تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کے طور پر ضرورت ہوتی ہے، میں تو وہاں کسی کو جانتا نہیں تھا۔ جس دن کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا آخری دن تھا اس سے ایک شام قبل بھٹو صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے ان سارے معاملات پر بات چیت چل رہی تھی وہیں ڈاکٹر مبشر بیٹھے تھے وہ مجھے اٹھا کر دوسرے کمرے میں لے گئے اور کہا کہ تمہیں ہوشیاری دکھانا ہو گی۔ تمہیں مولانا کے کاغذات جمع کروانے میں چوکنے ہو کر کام کرنا ہو گا۔ دیکھنا ہو گا کہ کوئی اور شخص پیپلزپارٹی کی طرف سے کاغذات جمع نہ کروا رہا ہو، میں فوراً مولانا کوثر نیازی سے ملنے جیل گیا انہوں نے مجھے کسی مولوی ظہور کے بارے میں بتایا کہ جا کر اسے ملو۔ میں رات ہی رات میں پسرور پہنچا مولوی ظہور سے ملا، کاغذات یہاں لاہور سے میں تیار کروا کے لے گیا تھا، مولوی ظہور نے بندے تیار کر رکھے تھے ہم ساری تیاری کر کے الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے۔ آخری وقت سے کوئی پانچ منٹ پہلے مولانا کا نام پکارا گیا تو میں نے ان کی طرف سے جاری کیا گیا الیکشن ایجنٹ کا خط دکھا کر ان کے کاغذات جمع کروائے اور یوں مولانا کوثر نیازی کا ٹکٹ کنفرم ہو گیا، اگر میں بروقت کاغذات جمع نہ کروا پاتا تو جو دوسرے صاحب گھات لگائے بیٹھے تھے ان کا ٹکٹ ازخود کنفرم ہو جانا تھا۔

س: بڑی مزے کی بات ہے کہ مولانا کوثر نیازی تو شاید ایک بار بھی اپنے حلقہ نیابت میں نہیں گئے تھے؟

ج: انہوں نے کبھی پسرور دیکھا بھی نہیں تھا اس وقت کے مغربی پاکستان میں قومی اسمبلی کے امیدواروں میں سے سب سے زیادہ ووٹ لے کر جیتے تھے۔

س: شہاب کے زمانے میں آپ کی شورش کاشمیری کے ساتھ چٹان کے حوالے سے آویزش بھی چلی تھی؟

ج: شورش کاشمیری صاحب کے ساتھ میرے بڑے نیاز مندانہ مراسم تھے۔ یہ جب کراچی آتے تھے تو مجھے ضرور ملتے تھے، میں جب لاہور آتا تو ان سے ملاقات کے لئے ان کے گھر پر جایا کرتا تھا جہاں بڑے بڑے لوگ شریک محفل ہوتے تھے، میری خان عبدالغفار خاں کے ساتھ پہلی ملاقات شورش صاحب کے گھر پر ہوئی تھی۔ شورش صاحب بڑے مجلسی آدمی تھے، یار باش شخص تھے، میں بہت جونیئر تھا سو ان کے ساتھ کافی ہاؤس وغیرہ میں ایک نیازمند کے طور پر ہی ملا کرتا تھا۔۔۔ جب شہاب شروع ہوا تو شورش صاحب اور مولانا کوثر نیازی کی کوئی پرانی آویزش چلی آ رہی تھی۔ ان کی پہلے سے ہی کہیں چپقلش چل رہی تھی۔ شورش اپنے رسالے میں مولانا کے جو لتے لیتے تھے اس کے جواب میں مولانا کوثر نیازی اپنے دوست ظہور الحسن ڈار سے جواب دینے کو کہتے جو ایک ہفت روزہ افریشیا نکالتے تھے یہ ایک ڈمی کے برابر کا رسالہ تھا وہ شورش کے پائے کا جواب تو نہیں لکھ سکتے تھے ان کی تحریر میں وہ کاٹ نہیں تھی جو شورش کی نشتر کا طرۂ امتیاز تھا۔ جب شہاب نکلا تو شورش صاحب نے چٹان کی توپوں کا رخ بھٹو صاحب کی طرف کر دیا۔ جس کے میں نے جواب لکھنے شروع کئے تو خود شورش صاحب توبہ توبہ کر اٹھے۔

س: شہاب میں آپ نے ’’مولانا انورا‘‘ کے نام سے ایک تصویر بھی تو شائع کی تھی؟

ج: وہ میری پہل نہیں تھی، وہ جواب تھا چٹان میں چھپنے والی ان قابل اعتراض تصاویر کا جو شورش صاحب شائع کیا کرتے تھے کبھی کسی مخالف سیاست دان کی تصویر کبھی کسی کی۔ مولانا کوثر نیازی اور بھٹو صاحب کے سر بھی مختلف نازیبا تصاویر پر لگا کر شائع کئے جاتے تھے۔ میں نے سوچا کہ ان کو جواب دیا جائے سو ان دنوں ایکٹرس نغمہ کی ایک ڈانسنگ پوز میں تصویر فلمی اشتہار میں چھپتی تھی جو اس زمانے کی اخلاقیات کے تناظر میں واہیات پوز سمجھا جاتا تھا میں نے اس پر مولانا مودودی کا سر لگا کر چھاپ دی۔ اس زمانے میں کوئی اس قسم کی حرکت کی جرأت بھی نہیں کر سکتا تھا کہ جماعت اسلامی کی دہشت ہی بہت زیادہ تھی۔ تصویر کا چھپنا تھا کہ اخبار مارکیٹ میں آتے ہی چھینا جھپٹی شروع ہو گئی۔۔۔ تین دن تک مسلسل اخبار چھپتا رہا اور ہم ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہے تھے۔ لیکن بہرحال میں نے وہ ردعمل میں کیا تھا جس پر میں بعد میں نادم بھی ہوا کئی بار اظہار ندامت کر بھی چکا ہوں۔ آج بھی کرتا ہوں۔ مولانا کا یہ مقام نہیں تھا وہ بہت اعلیٰ پائے کے بلند درجہ عالم دین تھے مگر یہ ایک طرح سے شاید مجبوری بن گئی تھی کیونکہ شورش صاحب چٹان میں ہر مخالف سیاست دان کے نہایت گھٹیا اور پست درجے کے کارٹون، تصاویر وغیرہ شائع کر کے سبھی کی تضحیک کیا کرتے تھے یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا تھا سو ہم نے یہ کیا تو پھر سارے معززین کو ہوش آیا، وہ چونکے اور حرکت میں آ گئے ایک اجلاس میں طے پایا کہ باہمی آویزش میں لڑائی اتنی پست درجے تک نہیں جائے گی۔ سو یہ سلسلہ تھم گیا شورش صاحب نے بھی احتیاط کی ہم نے بھی کی۔

س: آپ کی یحییٰ خان کے وزیر اطلاعات نوابزادہ شیر علی خاں سے بھی تو خاصی لڑائی چلی تھی؟ ذرا اس کے بارے میں کچھ بتائیں گے؟

ج: یہ جرنیل تو باقاعدہ ایک امریکی ایجنڈے پر کام کرنے کے لئے آگے لایا گیا تھا۔ امریکہ نے پچاس کی دہائی میں ایک پالیسی وضع کی تھی کہ وہ روس اور چین کی مخالفت میں ترقی پسند نظریات کے حامل سیاسی جماعتوں اور دانشوروں، سیاستدانوں کے خلاف حرکت میں آیا تھا۔ پاکستان اس کا خاص نشانہ تھا۔ جب بھٹو صاحب نے سوشلزم کا نعرہ لگایا تو جنرل شیر علی خاں جس کے جماعت اسلامی کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے اس نے بھٹو صاحب کے استرداد میں جماعت اسلامی کی طرف سے ان پر کفر کے فتوے لگوا دیئے یوں پاکستان میں سیاسی نعرہ جو محض انتخابی مہم کے طور پر لگایا جا رہا تھا اسے کفر و اسلام کی جنگ میں بدل دیا، ہم کل بھی کہتے تھے اور آج یہ چیز ثابت بھی ہو چکی ہے کہ ہمارے ملک میں کسی کے کوئی نظریات نہیں تھے، نہ ہیں یہ ساری مفادات کی جنگ ہے کوئی دایاں بایاں بازو نہیں ہے۔

شیر علی خان نے امریکی ایجنڈے کے تحت چن چن کر ترقی پسندوں کو سرکاری نوکریوں خاص طور پر سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور اخبارات سے نکلوایا۔ امریکیوں نے اپنے ایجنڈے کے تحت نام نہاد اسلام پسندوں کو سکالر شپ پر اپنے ہاں بلوا کر ڈگریاں دیں، انہیں تعلیمی اداروں میں گھسایا اور آج تک ان ترقی پسند، لبرل لوگوں کی جگہ پر نہیں ہو سکی جو اس وقت نکالے گئے لوگوں سے خالی ہوئی تھی جس پر جماعت اسلامی کے لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا اور آج تک انہی کی اجارہ داری قائم ہے۔

نوابزادہ شیر علی خاں نے بطور وزیر اطلاعات ریڈیو، ٹی وی اور ٹرسٹ کے اخبارات سے باقاعدہ چھانٹی کر کے ترقی پسند و لبرل لوگوں کو نکالا، بے روزگار کیا حالانکہ یہ سب بڑے پڑھے لکھے باشعور لوگ تھے جو معاشرے اور سماج کی سمت نمائی کا فریضہ بطریق احسن ادا کر رہے تھے مگر اس شخص نے سب کو اپنے تعصبات کی نذر کر دیا۔

پھر وہ نظریہ پاکستان لے آیا، نیشنل ری کنسٹرکشن ٹائپ کا ایک محکمہ بنا کے یہ نظریہ ایجاد کیا گیا۔ ایک دو اور ادارے بھی اس نے بنائے اور نظریہ پاکستان کی تحریک کو مشرقی پاکستان کی تحریک جمہوریت کے مقابل کھڑا کر کے انہیں کافر کہنا شروع کر دیا حالانکہ اس دور کے پاکستان میں سب سے زیادہ مسجدیں ڈھاکہ میں تھیں۔ آج بھی ہیں۔ اس زمانے سے آج تک تبلیغی جماعت کا سب سے بڑا اجتماع ڈھاکہ میں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں رائیونڈ والا اجتماع اس سے چھوٹا ہوتا ہے۔ سو مشرقی پاکستان کے لوگوں پر کفر کے فتوے لگا کر انہیں مارا گیا، ریاستی انتقام کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں نفرتیں فزوں تر ہوئیں اور بالآخر پاکستان ٹوٹ گیا۔

شیر علی خاں جو حرکتیں کر رہا تھا مجھے سب معلوم تھیں، میں نے اس کے سدباب کے لئے اس کے خلاف محاذ کھولا، بھٹو صاحب نے اس محاذ کی رہنمائی کی۔ نشتر پارک کراچی کے جلسے میں انہوں نے اسے خوب رگیدا تھا۔ میں اپنی تحریروں میں اس کی خبر لیتا تھا اس سارے کا پس منظر تھا کہ اس شخص نے اسلام کے نام پر سرکاری اداروں سے چھانٹی کر کے ایسے انتہا پسند، متعصب اور تنگ نظر لوگوں کی سرپرستی کر کے انہیں سرکاری ذرائع ابلاغ اور تعلیمی اداروں سمیت اہم عہدوں پر تعینات کیا کہ جن سے بعد میں آنے والے ضیاء الحق نے خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ اور آج پاکستان میں جو حالات ہیں اس کا بیج شیر علی خاں کا ہی بویا ہوا ہے۔ اس کے زیرسرپرستی پرورش پانے والوں کی باقیات ہی فوج میں کئی بار بغاوت کرنے کی کوشش میں پکڑی گئیں، سازشیں ناکام ہوئیں مگر یہ لوگ نچلے بیٹھنے والے نہیں ہوتے اپنی ہی فوج کے خلاف برسرپیکار رہ کر ملک کو کمزور کرنے والے یہی لوگ ہیں جو اسلام کا نام لے کر ہمارے فوجیوں کو شہید کرتے رہتے ہیں۔ ان کے جسدہائے خاکی کی بے حرمتی کر کے ان کے سروں سے فٹ بال کھیلتے رہتے ہیں۔ فاٹا، چترال، دیر میں شمالی وزیرستان میں۔۔۔ اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ جو امریکہ کا سٹرٹیجک اسلام ہے اس کا اصل دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان جیسا بھی ہے لیکن ہے اسلام کے نام لیواؤں کا ملک۔ مسلمانوں کا ملک۔ یہ سادہ لوح مسلمان جیسے بھی ہیں اسلام کے نام پر یہ کٹ مرنے والے لوگ ہیں۔ لیکن انہی لوگوں کو کافر کہہ کر شہید کیا جا رہا ہے، ان پر خودکش حملے ہوتے اور ان پر بم پھینکے جاتے ہیں، ان کی مساجد میں دھماکے کئے جاتے ہیں۔ عبادت گاہوں کو اڑاتے ہیں، خانقاہوں تک کو نہیں بخشا گیا۔ یہ سارا وہی امریکی اسلام ہے جسے نوابزادہ شیر علی خاں نے متعارف کروایا تھا۔

س: اس کا مطلب ہے کہ آپ نے بہت پہلے اسے بھانپ لیا تھا؟

ج: اس وقت بھانپ لیا تھا اور اس کے خلاف خوب لکھا مگر جہاں ایک طرف سرمایہ ہو، ریاستی مشینری ہو ایک بڑی طاقت ہو، اس کے مقابلے میں میرے جیسے لکھنے والے کی تحریریں کیا کر سکتی ہیں۔

س: آپ بھٹو مجیب مذاکرات کے وقت مساوات کے کالم نویس بھی تھے، بھٹو صاحب کے ساتھ بھی گئے تھے کیا ان مذاکرات میں کسی طور پر آپ شامل بھی رہے تھے؟

ج: مذاکرات میں شامل تو نہیں تھا لیکن میں چونکہ بھٹو صاحب کے دوستوں میں شامل تھا اس لئے اہم ایشوز پر ہونے والی میٹنگز میں شامل ہوتا تھا اور دونوں حیثیتوں میں دوست کی بھی اور جرنلسٹ کی حیثیت سے بھی۔ رامے صاحب چونکہ باقاعدہ سیاست دان بن چکے تھے لہٰذا وہ سیاسی لیڈر کی حیثیت سے آتے تھے بطور جرنلسٹ میں ہی جایا کرتا تھا۔ مشورے دینے کے لئے بھی، مشورے لینے کے لئے بھی۔ مشورے لیتا تھا میں اپنے اخبار شہاب کے لئے۔ بعض اوقات مجھے پارٹی کے خلاف خبروں یا مضامین کی اشاعت پر وضاحتیں بھی پیش کرنا پڑتی تھیں۔ کئی بار میں ازخود ایسی چیزیں لکھ کر لے جاتا تھا جو پارٹی کی بہتری کے لئے ناگزیر ہوتی تھیں۔

جس دن بھٹو صاحب مشرقی پاکستان سے لوٹے تو ان کے ساتھ ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے استفسار کیا تھا کہ یہ جو آپ نے کہا ہے کہ خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا تو کیا خیال ہے فوجی ایکشن سے پاکستان بچ جائے گا؟

بھٹو صاحب نے جواب دیا کہ تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آئے گی۔ میرے ساتھ یہ جے اے رحیم، معراج محمد خاں گئے ہوئے تھے ان سے حالات پوچھ لو۔ اس پر میری ان سے بحث چل نکلی تو انہوں نے ان دونوں سے کہا کہ اسے الگ لے جا کر سمجھانے کی کوشش کرو۔ اس وقت یہ بڑا انقلابی بنا ہوا ہے اسے میری بات سمجھ نہیں آئے گی۔ وہ دونوں مجھے الگ کمرے میں لے گئے اور میں حیران رہ گیا کہ اس وقت ان کا پیش کردہ استدلال وہی تھا جو جماعت اسلامی کا تھا۔ مشرقی پاکستان میں یحییٰ خاں کے فوجی ایکشن پر بھٹو اور جماعت اسلامی کا ردعمل ایک ہی تھا۔ میں نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں تو آپ کے نقطہ نظر سے بالکل مختلف لکھ کے آ گیا ہوں جو چھپ بھی گیا ہے کہ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن نہیں ہونا چاہئے جو لوگ یہ آپریشن کریں گے ملک کے غدار ہوں گے۔ میں نے لکھا تھا کہ اگر مجیب الرحمن کی شرطیں مان کے پاکستان بچتا ہے تو بچا لیں، اگر سیاسی سمجھوتہ ہوتا ہے تو کر لیں۔ اگر مذاکرات کے دروازے بند ہو چکے ہیں تو بھائیوں کی طرح گلے مل کے رخصت ہو جائیں۔ لیکن گولی نہ چلائیں۔ خون بہنے لگا تو ہم ایک نہیں رہ سکیں گے۔ لیکن خون بہائے بغیر بچھڑتے ہیں تو پھر بھی کبھی کسی موقع پر ایک ہونے کی گنجائش بنتی ہوئی تو ہو سکیں گے مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے، بھٹو صاحب اپنا قدم لے چکے تھے، سو تاریخ کا رخ بدل گیا۔

س: یہ آپ کا بھٹو صاحب کے ساتھ پوائنٹ آف نوریٹرن تھا؟

ج: میرا بھٹو صاحب کے ساتھ کبھی پوائنٹ آف نورٹیرن کا مرحلہ نہیں آیا۔ ان کی حکمت عملی غلط تھی اس کا انہیں بتا دیا تھا۔ برملا کہہ دیا تھا۔ لکھا کبھی نہیں تھا یہ۔۔۔ فوجی ایکشن سے پہلے جو کچھ درست اندازہ لگایا تھا لکھ دیا تھا اور اس پر مجھے کبھی ملال نہیں ہوا کہ میرے اندازے اور سارے تجزیے درست ثابت ہوئے تھے۔ فوجی ایکشن کے بعد تو سارا منظر نامہ ہی تبدیل ہو کے رہ گیا تھا۔

س: سقوط ڈھاکہ کے بعد جب بھٹو صاحب نے ’’نیا پاکستان‘‘ کا کہا تو کیا اس وقت نئے پاکستان میں نئے الیکشنز نہیں ہونا چاہئیں تھے؟

ج: کون کراتا؟

س:بھٹو صاحب؟

ج: بھٹو صاحب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تھے بھائی، ان کے کروائے الیکشن کون مانتا؟

س: عوامی نمائندے بھی تو تھے؟

ج: ملک ٹوٹ چکا تھا، نوے ہزار قیدی بھارت کے پاس تھے، پاکستان کا خزانہ خالی ہو چکا تھا، ہماری ایلیٹ انڈیا کے قبضے میں تھی۔

س: بھٹو صاحب پر یہ اعتراض کیا بھی جاتا رہا ہے اور آج بھی ہے کہ انہوں نے نیا مینڈیٹ کیوں نہیں لیا؟

ج: وہ لوگ بے خبر ہیں کہ جب کسی ملک پر اس قسم کی افتاد پڑتی ہے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے۔ ایک شکست خوردہ ملک کس ابتلا کے دور میں ہوتا ہے۔ اس کی تو قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہوتا ہے۔ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کیوں بنے؟ انہیں پوچھئے کہ وہ کیا بنتے؟ ملک میں دستور نہیں تھا، حکمرانی ایک فوجی جرنیل کی تھی، جو ڈکٹیٹر تھا، اس وقت ایسی کوئی قانونی بنیاد ہی موجود نہیں تھی جس کے نتیجے میں اس سے اقتدار لیا جاتا۔ ایک ہی قانونی بنیاد تھی اور وہ تھی مارشل لاء۔۔۔ اسی کے تحت انہوں نے اس سے اقتدار لینا تھا۔ اس کے بعد انہیں فوج کو سنبھالنا تھا، ملک کو سنبھالنا تھا۔ پوری قوم دل شکستہ تھی۔ وہ ایک شکست خوردہ قوم کو، جو پست حوصلہ ہو چکی تھی اس کی ہمت بندھاتے یا الیکشن کرواتے۔ لوگ تو اپنے آپ اعتماد گنوا چکے تھے، قوم تو اس حد تک دل ہار بیٹھی تھی کہ باقی ماندہ پاکستان کے بارے میں شکوک پیدا ہو چکے تھے کہ یہ بچے گا کہ نہیں۔۔۔ لاکھوں لوگ تو اپنے ان عزیزوں کو رو رہے تھے جن کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں ہے،کس حال میں ہے، کوئی بھارت کی قید میں نہیں تھا تو کہاں گیا؟ شہید ہو گیا یا لاپتہ۔

دوسری طرف ایک شکست خوردہ ملک کو بدحال معیشت کا سامنا تھا۔ صنعتیں بند ہو چکی تھیں، ہر طرف غیریقینی کی صورت حال تھی۔ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ اب کیا کریں، کیسے سب کچھ سنبھالیں اس موقع پر بھٹو صاحب نئے الیکشن کرواتے ملک کو مزید خطرات سے دوچار کرنے کا رسک کیسے لیتے؟ جبکہ اس طرف سے مجیب نے اثاثوں کی تقسیم کے لئے بھی دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ اگر اس مصیبت میں پڑ جاتے تو ہمارے پاس تو تھوڑے بہت جو زرمبادلہ کے ذخائر تھے وہ بھی چلے جاتے ہم تو بالکل ہی لٹ جاتے۔ وہ الیکشن کے حالات تھے ہی نہیں۔

س: آپ بھٹو صاحب کے بہت قریب رہے انہیں مکمل مطلق العنان حکمران بنتے بھی دیکھا ان میں کوئی تبدیلی نوٹ کی آپ نے؟

ج: بھٹو صاحب میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ بھٹو صاحب سے جس نکتے پر ڈاکٹر مبشر حسن الگ ہوئے تھے وہ یہ تھی کہ بھٹو صاحب نے حکمران طبقات یعنی فوج، بیورو کریسی، جاگیردار اور سرمایہ دار وغیرہ ان کی طاقت کا اندازہ درست نہیں کیا۔ انہوں نے اس وقت یہ نہیں سوچا کہ جب یہ طبقات شکست خوردگی کی حالت میں تھے ان پر ضرب لگا کر انہیں بے دست وپا کر کے نظام کو فوری تبدیل نہیں کیا گیا تو یہ بہت جلد پھر سے قوت پکڑ کر مضبوط ہو جائیں گے تو یہ بھٹو کو نہیں چھوڑیں گے۔ یہ ڈاکٹر مبشر حسن کا خیال تھا ان کی تجویز تھی کہ انقلابی کمیٹیاں بنائیں اور نظم و نسق ان کے حوالے کر دیں۔ ریاستی مشینری کے روایتی کل پرزوں کو بے اثر کر دیں، جرنیلوں پر مقدمے چلائیں جنہوں نے ملک توڑنے کا جرم کیا ہے، جو بیورو کریٹ سازش میں شریک ہیں انہیں کٹہرے میں کھڑا کریں۔ جتنے سیاست دان ملوث ہیں انہیں ٹرائل کریں اور یہاں کا سٹیٹس کو تبدیل کر کے رکھ دیں۔ تب آپ رہ سکیں گے۔ بھٹو صاحب نے یہ نہیں کیا، نتیجہ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ جب ان کے قیدی واپس آ گئے مجیب اثاثوں کے دعوے سے دستبردار ہو گیا۔ ملکی معیشت سنبھلنے لگی، حالات زندگی معمول پر آ گئے، سیاسی استحکام آنے لگا تو انہی حکمران طبقات نے فوری سنبھل کر سب سے پہلا کام ہی یہ کیا کہ بھٹوصاحب کو پھانسی لگا دی۔

س: یہ پوری کی پوری سازش؟

ج: یہ سازش نہیں ہوتی، یہ نظام کو بدلنے کا عمل ہوتا ہے۔ اگر آپ نظام کو بدل لیں تو کامیاب ہیں اگر آپ اسی نظام کو تبدیل کرنے کی بجائے مزید مضبوط کر دیں تو آپ ناکام ہیں اور بھٹو صاحب کی یہی ناکامی انہیں تختہ دار تک لے گئی۔

س: تو کیا آج ہم جو کچھ بھگت رہے ہیں اسی غلطی کی سزا ہے؟

ج: آج ہم بھٹو صاحب کا نیا پاکستان بھگت رہے ہیں جو انہوں نے دوبارہ جاگیرداروں، سرمایہ داروں، سول و فوجی بیورو کریسی کو مضبوط و مستحکم کر کے سونپ دیا تھا۔ اگر وہ اس پاکستان کی تعمیر نو کر کے اسے انقلابی تبدیلیوں سے گزار کے حقیقی معنوں میں ایک نیا پاکستان مضبوط و مستحکم کرنا چاہتے تو وہی ایک سنہری موقع تھا جب سارے حکمران طبقات شکست خوردہ اور بے ہمت ہو چکے تھے۔ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ ایسے مواقع کسی جنگی شکست کے بعد آتے ہیں جیسا کہ جنگ عظیم میں جاپان اور جرمنی کو شکست ہوئی تھی۔ مگر آج یہ دونوں ملک ترقی کے اعتبار سے کہاں پہنچے ہوئے ہیں۔ جاپان ناگاساکی اور ہیرو شیما کی ایٹمی تباہی کے بعد اپنی جنگی استعداد محدود کر کے اپنی ساری توانائیاں معیشت مضبوط کرنے پر خرچ کر کے دنیا کی سب سے بڑی مضبوط معیشت بن چکا ہے۔ اسی طرح جرمنی آج چھٹی بڑی عالمی طاقت ہے جو یورپی یونین میں سب سے پاور فل ہے۔ سو جنگوں میں شکست ہو یا کوئی فوجی انقلاب یا عوامی انقلاب دونوں ہی کے بطن سے ایک نیا ملک، نئی قوم ابھرتی ہے بشرطیکہ قوم کے اندر جذبہ قومیت اور خود کو منوانے کی لگن، جنون اور خوداعتمادی ہو۔ بددیانت، خودغرض اور لالچی افراد قوم کی قیادت کر رہے ہوں تو وہی حال ہوتا ہے جو آج ہمارا ہو رہا ہے۔

س: یعنی بھٹو صاحب نے پاکستان کو ایک صحیح جمہوری عوامی ریاست بنانے کا سنہری موقع گنوا دیا؟

ج: بالکل۔ 71ء کے بعد کے پاکستان میں وہ بہت بڑا تاریخی موقع تھا جب حکمران طبقے شکست کھا چکے تھے، ہیئت مقتدرہ دل چھوڑ چکی تھی۔ جرنیل کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ گئے تھے۔ وہی موقع تھا کہ سٹیٹس کو پر کاری ضرب لگا کے یہ بت پاش پاش کر کے عوامی اقتدار مستحکم کیا جا سکتا تھا، جمہوریت مضبوط کی جا سکتی تھی۔

(بشکریہ قومی ڈائجسٹ)

مزید : ایڈیشن 2


loading...