سوشل میڈیا پرنفرت انگیز مواد نہ ہٹایا تو 53ملین یورو جرمانہ کیا جائے گا:جرمنی

سوشل میڈیا پرنفرت انگیز مواد نہ ہٹایا تو 53ملین یورو جرمانہ کیا جائے گا:جرمنی

برلن (مانٹیرنگ ڈیسک) جرمن حکومت نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد نہ ہٹانے پر53ملین یورو تک جرمانہ کرنے بل منطور کر لیا ہے۔ قانون کے مسودے کے مطابق سوشل میڈیا کو غلط خبریں اور گستاخانہ مواد ہٹانے کے لئے ایک ہفتے کا موقع دیا جائے گا۔اجرمن حکومت نے سوشل میڈیا کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس سلسلے میں جرمنی نے قانون منظور کیا ہے جس کے مطابق سوشل میڈیا پر غلط خبریں اور نفرت انگیز مواد کو صارفین کی جانب سے رپورٹ کرنے کے بعد سوشل میڈیا اسے ہٹانے کا پابند ہوگا۔اگر سوشل میڈیا نے ایسا موادرپورٹ کرنے کے ایک ہفتے کے اند ر نہ ہٹایا تو جرمن حکومت اس پر 53ملین یورو تک جرمانہ کرے گی۔ جرمن وزیر انصاف ہیکو ماس کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے جرمنی میں مہاجرین کے حوالے سے غلط خبریں پھیلا کر آئندہ الیکشن میں رائے عامہ خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جرمنی آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے اور جمہوری اقتدار کے لئے آزادی اظہار رائے اہم ہے لیکن آزادی اظہار کے حد وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے جرائم کی ابتداہو۔اس لئے سوشل میڈیا پر جرمانے کا قانون پاس کیا ہے اور یہ یہ قانون جرمنی کے بعد یورپی یونین میں نافذ کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ وزیر انصاف کاکہنا تھا کہ فیس بک نے رپورٹ شدہ مواد کا محض39فیصد جبکہ ٹوئٹر نے1فیصد مواد ڈیلیٹ کیا، جبکہ دونوں نے2015ئمیں جرمن حکومت کے ساتھ کوڈ آف کنڈکٹ کے معاہدے کو تسلیم کیا ہوا ہے۔

جرمنی

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...