ہم نے 6روپے یونٹ بجلی پیدا کر لی تھی حکومتی عہدیدروں نے فنڈز بند کر دیئے:ڈاکٹر ثمر مبارک مند

ہم نے 6روپے یونٹ بجلی پیدا کر لی تھی حکومتی عہدیدروں نے فنڈز بند کر ...

اسلام آباد(آن لائن)انڈرگراؤنڈ گیسی فیکشن پراجیکٹ کے چےئرمین معروف سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے کہ ہم صرف6 روپے یونٹ کے حساب سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن حکومت میں موجود چند لوگوں نے ہمارے پراجیکٹ کے فنڈز ہی بند کرادئے کیونکہ آئی پی پیز سے تقریباً24 روپے فی یونٹ خریدی گئی بجلی کے آدھے شےئرہولڈر حکومتی بنچوں کا حصہ ہیں،وزیراعظم سے ملاقات کرکے تفصیلی بریفنگ دوں گا۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہئے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سندھ میں شروع کئے گئے بجلی منصوبہ ’’انڈرگراؤنڈ گیسی فکیشن‘‘ کا مجھے چیئرمین بنایا ، 2010 میں 125 ملین ڈالر سے منصوبہ شروع کیا گیا تھا جس کی منظوری ایکنک نے دی تھی، 2012 ء تک اس منصوبہ کیلئے تمام فنڈنگ ہونی تھی جو نہ ہو سکی ، سات سال میں صرف3 بلین فنڈنگ کی گئی ہم نے اس رقم سے پاور سٹیشن سمیت قیمتی سامان خریدا اور پانچ سال کی انتھک محنت کے بعد 2015 میں پاور سٹیشن سے 10 میگاواٹ بجلی بنانا شروع کردی ،یہ ہماری بہت بڑی کامیابی تھی ۔وزیر اعظم نواز شریف ،پلاننگ کمیشن کے چیئرمین احسن اقبال اور اُس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو خطوط لکھے اور اس کامیابی سے آگاہ کیا لیکن ہماری کامیابی کو سراہنے کے بجائے پلاننگ کمیشن کی طرف سے حکم ملا کہ اس منصوبے کو فوری طور پر بند کر دیں ۔ثمر مبارک مند نے مزید بتایا کہ آئی پی پیز تقریباً24 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی بنا رہی ہے جس کے آدھے شیئر ہولڈرز حکومت کا حصہ ہیں جو حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف6 روپے فی یونٹ کے حساب سے کوئلہ سے بجلی بنارہے ہیں جو ان شیئرز ہولڈر کو برداشت نہیں ہو رہی اور ان کو اپنی دکان بند ہونے کا خطرہ ہے اس لئے وہ حکومت کو غلط مشورے دے رہے ہیں۔ثمر مبارک نے مزید بتایا کہ ہم یہ بات وزیر اعظم کے نوٹس میں لائے ہیں،وزیر اعظم سے ملاقات کر کے تفصیلی بریفنگ بھی دوں گا ۔انہوں نے کہا کہ فنڈنگ کی بندش کی وجہ سے اپنی ضرورت کیلئے صرف2 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں اگر حکومت نے فنڈنگ نہ کی تو یہ پراجیکٹ مکمل طور پر بند ہو جائے گا ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اقتصادی راہداری کے تحت تھر میں لگایا گیا پاور پراجیکٹ بہت بڑا فراڈ ہے ،یہ منصوبہ امپورٹڈ کوئلے سے بنایا جائے گا جو پورٹ قاسم سے امپورٹ کیا جائے گا، اس سے انتہائی مہنگی بجلی بنائی جائے گی ۔ڈاکٹر ثمر مبارک نے وزیر اعظم سے اپیل کی ہے کہ پراجیکٹ کیلئے بند کی گئی رقم کو فوری طور پر ریلیز کرائیں تا کہ 10 میگاواٹ بجلی کو قومی گرڈ سٹیشن میں شامل کر کے بجلی بحران پر قابو پایا جا سکے۔

ڈاکٹر ثمرمبارک

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...