موجودہ ٹیکسٹائل پالیسی سے پاور لومز انڈسٹری خطرے میں ہے، عبد الخالق قندیل

موجودہ ٹیکسٹائل پالیسی سے پاور لومز انڈسٹری خطرے میں ہے، عبد الخالق قندیل

ملتان(جنرل رپورٹر)آل پاکستان پاور لومز ایسوسی ایشن نے احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا اس سلسلہ میں گزشتہ روز قصور میں کنونشن منعقد کیا گیا جس کی صدارت(بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

خالق قندیل انصاری نے کی کنونشن سے ملتان ‘فیصل آباد سمیت دیگر شہروں سے ہزاروں افراد نے شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر عبدالخالق قندیل انصاری نے کہا کہ حکومت کی موجودہ ٹیکسٹائل پالیسی کی وجہ سے پاور لوم انڈسٹری بہت تیزی کے ساتھ سکریپ کی صورت کباڑیوں کے ہاتھوں فروخت ہورہی ہیں‘ اس انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کا مستقبل خطرے میں ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی ٹیکسٹائل پالیسی کی وجہ سے انڈسٹری ترقی کرنے کی بجائے تنزلی کا شکار ہورہی ہے یارن کی برآمد پر چار فیصد ریبیٹ کی وجہ سے سوتر منڈی سے دھاگہ غائب ہوچکا ہے دھاگے کی قیمت غیر مستحکم ہوچکی ہے آرڈر منسوخ ہورہے ہیں جبکہ وزیراعظم کو سب اچھا کی رپورٹ دی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم خود تمام حالات کا جائزہ لے کر پالیسی کو معطل کریں اور نئی پالیسی کے لئے متعلقہ شعبہ کے لوگوں کو شامل کیا جائے اس موقع پر وحید خالق رامے‘ حاجی مقصود صابر انصاری‘ چوہدری اشرف گجر‘ اصغر علی انصاری‘ شفیق شیخ‘ یونس انصاری‘ ملک گلزار‘ میاں معراج دین ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھاگے کی برآمد پر چار فیصد ریبیٹ ختم ‘ سی پیک پر تحفظات دور کئے جائیں اور نئی ٹیکسٹائل پالیسی میں آل پاکستان پاور لومز ایسوی ایشن کو نمائندگی دی جائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...