کراچی ،پی ایس پی نے پریس کلب سے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا

کراچی ،پی ایس پی نے پریس کلب سے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاک سر زمین پارٹی نے اپنی احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے ، سید مصطفی کمال ،پارٹی رہنما ؤں اور کاکنان کے ہمراہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے پریس کلب کے باہرتا دم مرگ احتجاج شروع کر دیا ہے۔پی ایس پی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے حکومت سندھ کو 13 مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کراچی کے مسائل کو حل نہ کیا گیا تو حکمرانوں کی سیاست دفن کر دیں گے ہمارے مطالبات فوری حل طلب ہیں،مئیرکراچی کے ایم سی کو ملنے والے3 ارب کے فنڈز سے 6فیصد کمیشن لیتے ہیں۔اپنے ہی گھر کو گھر کے چراغ سے آگ لگی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کواپنی احتجاجی تحریک کے آغاز کے موقع پر کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پی ایس پی کے صدر انیس قائم خانی ،انیس احمد ایڈووکیٹ،وسیم آفتاب اور دیگر بھی موجود تھے۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین دن کا آغاز کر رہے ہیں اس کو تاریخ دان سنہری الفاظ میں لکھیں گئے۔ہماری تحریک کراچی کے مسائل کے حل کے لئے ہے اور ہماری زندگی کی سانسوں سے جڑی ہوئی ہے۔جب تک کراچی کے مسائل حل نہیں ہوجاتے ہماری یہ تحریک مرتے دم تک جاری رہے گی اور ہم کراچی پریس کلب کے باہر دن رات بیٹھے رہیں گی ہماری تحریک کا مقصد کسی اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے رویے کو دیکھتے ہوئے ہماری تحریک کے طریقہ کار میں تبدیلی آتی رہے گی۔پی ایس پی کو قائم ہوئے ایک سال کا عرصہ ہوا ہے اور اس کا شمار پورے پاکستان کی بڑی پارٹیوں میں ہونے لگ گیا ہے میں اور انیس قائم خانی ہم اپنے ذاتی فائدے کے لئے نہیں آئے تھے ہمیں صرف عوام کا دردر تھا عوام کے ساتھ ہونے والی ذاتیوں کو مزید برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ہم بڑے بڑیعہدے چھوڑ کے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 7 29جنوری کو حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھے تھے تاہم حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئیاس لئے اب تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ م،سائل کو حل کئے بغیر حکومت کو نہیں چلنے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ الطاف حسین پیپلز پارٹی کے حق میں کراچی کو اورکراچی کے عوام کے مینڈیٹ کو گروی رکھ دیا تھا۔صرف الطاف حسین کے ذاتی معاملات کے لئے جن میں لندن میں چلنے ولا منی لانڈرنگ کا کیس ،عمران فاروق کا قتل شامل ہے۔پیپلز پارٹی کے پاس کراچی کا 10 فیصد مینڈیٹ بھی نہیں تھا لیکن پورا کراچی کے حوالے کر دیا تھا چوکیدار چوروں کے ساتھ کھڑے ہوگئے تھے۔اپنے ہی گھر کو گھر کے چراغ سے آگ لگی ہے انہوں نے کہا کہ کراچی عوام کا مسئلہ ہے یہاں دوستیہ اور دشمنی کا مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پرامن احتجاج کریں گے لیکن حوکمت کے رویے کو بھی دیکھیں گے ہم اس سے جارحانہ انداز بھی اپنا سکتے ہیں۔ میرے پاس منتخب عوامی نمائندے میرے پاس نہیں ہیں جن کو استعفیٰ دلوا کہ حکومت پرپریشر ڈلواں اور نہ میں کسی کو نہیں پکارو گا میرے ساتھ آؤ بلکہ میں خود بیٹھوں گا ہم اپنی جانیں داؤ پر لگا کر یہ سب کچھ کرنے جا رہے ہیں۔ سید مصطفی کمال نے کہا کہ ہمارے مطالبات کوفوری حل کیا جائے ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی مین پانی کا مسئلہ حل کیا جائے یہاں پر 1200ملین گیلن پانی کا شارٹ فال ہے ،کے فور منصوبے سے صرف 260 ملین گلین پانی حاصل ہوگا اور اس منصوبے کے ساتھ ساتھ کے فور فیز 2 کا منصوبہ بھی فوری طور پر شروع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کو ملنے والے 36370 ملین گیلن پانی سے کراچی کو صرف 550ملین گیلن پانی دیا جاتا ہے۔کراچی کے 41 فیصد حصے میں پانی کا انفرا ساستریکچر موجود نہیں ہے۔حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ کل صبح سے ہی کراچی 41 فیصد حصہ میں پانی کی لائینیں ڈالی جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہکراچی میں کچرے کے انبار لگے ہوئے ہیں لیکن شہر میں گاروج ٹرانسفر اسٹیشن نہیں بنائے جا رہے ہیں تمام اضلاع میں گاروج ٹرانسفر اسٹیشن قائم کیا جائیں تاکہ کچرے کا مسئلہ حل ہوسکے۔وزیر اعلیٰ نے جو سالڈ ویسٹ مینجٹ اتھارٹی قائم کی ہے جبکہ یہ کام سٹی حکومت کا ہے ۔چینی کمنی کو کچرا اٹھانے کے ل44ڈالر فی ٹن چینی کمپنی کو ادئیگی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جب میں ناظم تھا کو چینی کمپنی نے مجھے 20 ڈالر فٹی کے حسانب سے آفر کی تھی لیکن میں اس پر راضی نہیں ہوا تھا۔ہم سندھ حکومت کو عوام کے حق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی بلڈنگ کو سندھ کنٹرول بلڈنگ کر دیا گیا ہے اور اس کا ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کو بھی اس کے ساتھ ملا دیا دیا گیا ہے۔کراچی کو کراچی بلں دگ کنٹرول اتھارٹی واپس کرو مئیر کے حولاے کرو۔جبکہ مئیر کراچی ایم کیو ایم کا ہے اور وہ ہمارے بدترین دشمن ہیں لیکن ہم کراچی کے عوام کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کو مئیر حوالے کیا جائے ۔کراچی میں 14700بسوں کی ضرورت ہے لیکن اس وقت کراچی میں 4900بسیز چل رہی ہیں۔اس لئے ٹرانسپورٹ کے شعبہ کو بھی مئیر کراچی کے حوالے کیا جائے۔ایسے تو گرین بس کا منسوبہ وفاقی حکومت نے دیا ہے لیکن اس سے بھی کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔بند کمروں میں فیصلے نہیں ہونے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں جو اونچی اونچی بلڈنگیں بنانے کی پرمیشن دی جارہی ہے اس پر اربوں روپے کا کمیشن لیا جا رہا ہے۔اس سلسلے کو فوری بند کیا جائے۔انہوں نے کہا کے الیکٹرک کراچی کے شہریوں کو بے حساب لوٹا ہے 100 ارب روپے لوٹ کر کے الیکٹرک کو فروخت کر دیا ہے ہمیں عوام کو کے الیکٹرک سے 100 ارب روپے واپس دلائے جائیں۔عباسی شہید اسپتال میں ڈاکٹروں کو چھ ماہسے تنخواہ نہیں ملی ہے انہیں تنخواہیں ادا کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے صحت اور تعلیم کے شععبے کو صرفچند فنڈرز دئیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع میں ڈستڑکٹ کیڈر کی بنیاد ڈالی جائے۔جس طرز پر این ایف سی ایوارڈ دیا جاتا ہے اسی طرذ پر صوبائی کمیشن بنایا جائے تاکہ تمام اضلاع کو ان کے وسائل کے مطاب سندح حکومت فنڈز فراہم کرے۔انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے کو مئیر کراچی کے ماتحت کیا جائے۔کراچی کے تمام پارکس کوسٹی حکومت کو واپس کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ شہر میں چائینہ کٹنگ کی بات ہوتی ہے لیکن کسی کو سزا نہیں ہوتی ہے ۔کراچی میں اروبوں روپے کی زمیں چوری ہوئی ہیں لیکن کسی کو سزا نہٰن ہوئی اس حوالے سے سخت قانون بنایا جائے اور کم از کم 5 سال کی سزا دی جائے کراچی میں زمینوں پر قبضے حکومت کی سر پرستی میں ہورہے ہیں ۔قبضہ کا کمیشن حکومت کو جاتا ہے۔؂ حیدر آباد کو خصوصی پیکج دیا جائے۔سندھ میں بلدیاتی نمائندوں کو آرٹیکل 140اے کے تحت تمام اختیارات دئیے جائیں۔اگر حکومت لوگوں کے مسائل حل نہیں کرے گی تو ہم ان کی سیاست دفن کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر فارو ق ستار سے پوچھتا ہوں کہ کیا سٹی گورنمنت کے پا س پیسے نہیں ہیں ۔سٹی حکومت کو چار کواٹرز م،یں رقم آتی ہے ایک کوراٹرز کے 77 کروڑ روپے ہوتے ہیں اس مئیر کراچی وسیم اختر نے 6فیصد کمیشن مانگا ہے جبکہ اب تک 3کواٹرز آچکے ہیں اور یہ بات انہیں نے کئی افراد کے سامنے ایک میٹنگ میں کہی تھی کہ مجھے میرا 6فیصد حصہ چاہیے کیونکہ میں جیل سے آیا ہوں۔داکٹر فاروق ستار اپنے مئیر کی طرف تو دیکھیں وہ کیا رہے ہیں میں الزام نہیں لگا رہا ہون میں ثبوت کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ وائٹ جاری کرتے پھر رہے ہین لیکن ہم سٹرکوں پر بیٹھ کر عوام کے مسائل حل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...