مسلم کالج بداخلاقی سکینڈل، ڈائریکٹر کالجز نے ایکشن لے لیا، انتظامیہ 2روز میں جواب طلب

مسلم کالج بداخلاقی سکینڈل، ڈائریکٹر کالجز نے ایکشن لے لیا، انتظامیہ 2روز میں ...

ملتان ( سٹاف رپورٹر ) ڈائریکٹر کالجز ملتان ڈویژن پروفیسر منصور شاہ نے مسلم کالج کے ہاسٹل میں کمسن طالب علم کے ساتھ اجتماعی بداخلاقی کے واقعہ پر کالج انتظامیہ سے2روز کے اندر جواب طلب کرلیا‘ گھناؤنے واقعہ پر شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ‘ تفصیل کے مطابق سلیم تونسوی کے اڈا لاڑ پر قائم کردہ مسلم کالج کے ہاسٹل میں 13سال طالب علم (الف) کو بداخلاقی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ‘ بچے کو دیگر طلبا زیادتی کا نشانہ بناتے رہے معصوم بچہ خوف اور ڈر کے مارے خاموش رہا اور ظلم سہتا رہا مگر چند روز قبل تو ظلم کی انتہا ہی ہو گئی ‘ ہاسٹل میں مقیم کوٹ مٹھن کے رہائشی حافظ مغیث اورندیم عابد نے روم میٹ13سالہ طالب علم ( الف) کو ساری رات بداخلاقی کا نشانہ بنایاجس کے باعث(الف) کی حالت غیر ہو گئی اور اس کو تشویش ناک حالت میں نشترہسپتال داخل کرا دیا گیا‘پولیس تھانہ بستی ملوک نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیااورطبی معائنہ کرایا تو رپورٹ پازیٹو آئی ‘ پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کی‘ ڈی ایس پی مخدوم رشید نے اس بارے میں بتایا کہ ملزمان جسمانی ریمانڈ پر ہیں‘ ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے نمونے لاہور لیبارٹری بھجوادئیے گئے ہیں‘ رپورٹ آنے پر مزید کارروائی کی جائے گی ‘ دوسر ی جانب ڈائریکٹر کالجز ملتان ڈویژن سید منصور شاہ نے واقعہ پر کارروائی کرتے ہوئے مسلم کالج کی انتظامیہ سے 2روزکے اندر تحریری جواب طلب کرلیا ہے ‘ڈائریکٹر کالجز نے بتایا کہ یہ دیکھنا ہے کہ آیا ہاسٹل کا کوئی اہلکارتو اس واقعہ میں ملو ث نہیں ہے ‘کالج پرنسپل کو جواب دینا ہوگا کہ یہ واقعہ کیسے ہوا اور کیونکر ہوا ‘ اس کا ذمہ دار کون ہے ‘ڈائریکٹر کالجز کے مطابق پرنسپل کالج کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی ‘ دریں اثنا اس واقعہ میں شہریو ں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے اس واقعہ پر کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمسن طالبعلم (الف) کے والدین نے مسلم کالج انتظامیہ پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے بچے کو ان کے ہاسٹل میں داخل کرایا تھا جس کا تحفظ کرناہاسٹل و کالج انتظامیہ کی ذمہ داری تھی جس میں وہ ناکام رہی ہے ‘ اس اندوہناک واقعہ پر مسلم کالج کے سربراہ سلیم تونسوی اور ان کے منتظم بھائی نعیم تونسوی کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ‘ سماجی حلقوں کے مطابق پولیس تفتیش میں یہ معلوم کیا جائے کہ کمسن طالب علم کو کب سے ظلم کانشانہ بنایا جا رہا تھا ‘یہ کیس تو سامنے آیا ہے ‘ اس کے علاوہ دیگر بچوں کے ساتھ بد اخلاقی تو نہیں کی گئی ‘ ہاسٹل انچارج یا کوئی او اہلکار تو اس میں ملوث نہیں ہے‘ ہے تو سخت ایکشن لیا جائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...