بچوں پر تشدد اورجنسی استحصال پر کام کرنیوالی این جی اوز کی سالانہ رپورٹ

بچوں پر تشدد اورجنسی استحصال پر کام کرنیوالی این جی اوز کی سالانہ رپورٹ

ایبٹ آباد(نامہ نگار)بچوں پر تشدد اور جنسی استحصال پر کام کرنے والی این جی اوز ساحل نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی۔ سال 2016 ؁ء کے دوران ملک بھر میں بچوں پر جنسی تشدد 4139واقعات رپورٹ ہوئے جو سال 2015 کی نسبت 10 فیصد زیادہ ہیں۔ سال 2015 میں 3768 واقعات رونما ہوئے یعنی ہر روز گیارہ بچے تشدد کا نشانہ بنے۔ان خیالات کا اظہار ریجنل کوآرڈینیٹر محمد رضوان عباسی،سردار ناصر سلیم ایڈووکیٹ لیگل ایڈوائزر ساحل نے پریس بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پولیس نے 3216 کیسز کی ایف آئی آر درج کی گئی جبکہ142 کیسز کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی جبکہ749 کیس ایسے بھی ہیں جن کی نوعیت اور ان پر ہونے والی کارروائی اخبارات میں شائع نہیں کی جبکہ 32کیسز پولیس کے پاس رجسٹرڈ نہیں ہوئے۔ ان تمام کیسز میں3154 کیس دیہاتی علاقوں میں جبکہ 985 کیس شہری علاقوں میں رپورٹ ہوئے۔ 76فیصد رپورٹ ہونے والے کیسز کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے سال2016 کا موازنہ سال2015 سے کریں تو دیہی علاقوں میں رونما ہونے والے جنسی استحصال کے واقعات میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صوبائی سطح پر اگر دیکھا جائے تو صوبہ پنجاب میں 2676 سندھ میں 987 خیبرپختونخوا میں 141 جبکہ بلوچستان میں 166 کیس رپورٹ ہوئے آزاد جموں و کشمیر سے 9 جبکہ گلگت بلتستان سے 4 کیس رپورٹ ہوئے۔ سال2015سے تقابلی جائزہ کریں تو سال 2016 کی نسبت خیبرپختونخوا میں جنسی استحصال کے واقعات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 58فیصد بچیاں جبکہ42 فیصد بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ سال2015 کی نسبت بچیوں پر جنسی تشدد میں 22فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال خیبرپختونخوا سے بچوں کے ساتھ تشدد کے کل141 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 70 بچیاں اور71 بچے شامل ہیں اگر عمر کے حساب سے دیکھا جائے تو 11 سے 15 سال تک کے بچے اور بچیوں کو سب سے زیادہ جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ دوسرے نمبر پر 6سے 10 سال تک کے بچے اور تیسرے نمبر پر ایسے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں بچوں کی عمر درج نہیں کی گئی تھی۔ اگر جرائم کی اقسام میں دیکھا جائے تو سب سے زیادہ واقعات بد فعلی کے 28 واقعات سامنے آئے دوسرے نمبر پر بچوں کے اغواء کے 26 جبکہ تیسرے نمبر پر اجتماعی بدفعلی کے سولہ اور زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے13,13 واقعات رپورٹ ہوئے۔ سال2016 کی رپورٹ کے مطابق چھ سے پندرہ سال تک کے بچے سب سے زیادہ جنسی تشدد کا شکار ہوئے ہیں جن کی عمریں چھ سے پندرہ سال کے درمیان ہیں جو کہ کل واقعات کا 62 فیصد ہیں جبکہ22 فیصد کیسز میں بچوں کی عمر اخبارات میں واضح نہیں۔ اس سال کی رپورٹ کے مطابق بچوں سے بدفعلی کے واقعات میں 12 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اجتماعی بدفعلی کے واقعات میں 167فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ اس سال کے دوران کم عمری کی شادی کے واقعات پندرہ رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ گزشتہ سال ان کی تعداد سات تھی۔ بچوں پر بڑھتے ہوئے جنسی تشدد اور جنسی استحصال کے خلاف معاشرے کے تمام طبقات اور مکاتب فکر کی کوشش کرنی ہوگی تاکہ ہماری نسل نو کو ایک محفوظ اور مستحکم ماحول فراہم ہو سکے۔ ساحل کے نمائندوں نے پریس کلب کے نو منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی اور میڈیا کے نمائندوں کو بچوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے اور ساحل کے ساتھ تعاون کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...