انسانی حقوق اور ایشیاء فاؤنڈیشن کے اشتراک سے سہ روزہ ورکشاپ اختتام پذیر

انسانی حقوق اور ایشیاء فاؤنڈیشن کے اشتراک سے سہ روزہ ورکشاپ اختتام پذیر

پشاور( نیوز رپورٹر )وزارت انسانی حقوق کے ادارہ برائے قومی انسانی حقوق اور ایشیاء فاؤنڈیشن کے ا شتراک سے پشاور میں سرکاری محکموں کے افسروں کے لئے منعقد ہونے والی تین روزہ ورکشاپ جمعرات کے روز اختتام پذیر ہو گئی۔ورکشاپ میں مختلف سرکاری محکموں کے افسروں،سول سوسائٹی کے نمائندوں اور خواتین نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ خیبر پختونخوا کے سیکرٹری قانون محمد عارفین سہ روزہ ورکشاپ کی اختتامی نشست کے مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے انسانی حقوق کے حوالے سے کئی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں ڈائریکٹریٹ آف ہیومن رائٹس کا قیام قابل ذکر ہے۔ ڈائریکٹریٹ آف ہیومن رائٹس کے لئے قانون صوبائی اسمبلی سے پاس کرایا گیا اور2014میں اس پر عمل درآمد شروع کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ صوبوں میں ہیومن رائٹس کو اتنا مضبوط کرنا ہوگا کہ کوئی اس کی خلاف ورزی کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔انہوں نے منسٹری آف ہیومن رائٹس کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس تربیتی کورس کا حصہ بنے۔ ورکشاپ میں شرکاء کے مختلف گروپ بنائے گئے۔گروپس کی طرف سے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے سلسلے میں تجاویز پیش کی گئیں۔فرنٹیئر ریزرو پولیس کے کمانڈنٹ ڈاکٹر شہزاد اسلم صدیقی نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے محرومیوں،ظلم و نا انصافی کے خاتمے،قومی یکجہتی اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے قانون کی بالا دستی اور انسانی حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس اب حاکم نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں عوام کی خادم ،محافظ اور پاسبان ہے۔ مظلوموں کی داد رسی،عوام کو فوری انصاف کی فراہمی اور لوگوں کی شکایات کا ازالہ کرنا پولیس کا مشن ہے۔عوام اب پولیس سے خوفزدہ ہونے کی بجائے جرائم کے خاتمے کے لئے پولیس سے بھرپور تعاون کررہی ہے جس سے کمیونٹی پولیسنگ کو تقویت مل رہی ہے۔صوبے کے تمام تھانوں میں لوگوں کے باہمی تنازعات جرگوں کے ذریعے حل کرنے کے لئے مصالحتی کونسلیں بنا دی گئی ہیں اس موقع پر سید لیاقت بنوری نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت انسانی حقوق کی طرف سے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے سلسلے میں پراونشل ایکشن پلان اور نیشنل ٹاسک فورس کی طرف سے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ چاروں صوبوں میں بھی پراونشل ایکشن اور پراونشل ٹاسک فورس بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ورکشاپ میں ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین غلام قاسم مروت نے بھی شرکت کی جبکہ ممتاز عالم دین مولانا قاضی فتح الباری رستمی کی طرف سے انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں اسلامی احکامات پر روشنی ڈالی گئی۔ بعد ازاں سیکرٹری محکمہ قانون محمد عارفین نے ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...