سرڈھری پولیس کی کارروائی ،دوہرے قتل میں نامزد دو سگے بھائی گرفتار

سرڈھری پولیس کی کارروائی ،دوہرے قتل میں نامزد دو سگے بھائی گرفتار

چارسدہ (بیورو رپورٹ) سرڈھیری پولیس کی کا روائی ۔ دوہرے قتل میں نامزد دو سگے بھائی ڈرامائی انداز میں گرفتار ۔ قتل مقاتلے کے دشمنی میں خلف بر قر آن پاک ، 21لاکھ روپے دیت ، لاکھوں روپے مالیت کا مکان اور گاؤں کو کھانا کھلاکر کر سنگ دل ملزم نے نویں جماعت کے طالب علم کو والدین کے سامنے خون میں نہلا دیا تھا ۔ سفا ک ملزم کے دوسرے بھائی نے ساتھی کی مدد سے طالب علم کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرکے قتل کیا تھا ۔ ملزمان کا جرم سے انکار ۔ پولیس کی غیر انسانی سلوک اور جبر و تشدد کے بعد ہم چارسدہ کے تاریخی قبرستان میں دفن تمام مردوں کی قتل کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں۔ اس حوالے سے ڈی ایس پی نذیر خان نے سرڈھیری پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او کاشف خان اور سی آئی او ایوب خان کی معیت میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ 24 مارچ 2016کومقتول حسین اللہ کے نابینا والدخافظ محمد علی ولد آدم خان نے سرڈھیری پولیس سٹیشن میں رپورٹ درج کر ائی کہ ملزمان عالمزیب ولد فضل ربی اور سدیس ولد شوکت ساکنان ابراہیم زئی چارسدہ نے مل جل کر ان کے معصوم بیٹے حسین اللہ کے ساتھ بد فعلی کی اور بعد ازاں قتل کر کے نعش گنے کے کھیتوں میں پھینک کر فرار ہو گئے ۔ ڈی ایس پی نذیر خان کے مطابق ملزم کے بھائی وقاص ولد شوکت ، ان کے رشتہ دار نعیم اللہ ولد فضل رازق سکنہ ابراہیم زئی اور اسرار ولد نامعلوم سکنہ نوشہرہ نے 9جولائی 2016کو والدین کے سامنے نویں جماعت کے طالب علم صابر ولد شہزادہ کو قتل کیا اور واردات کے بعد روپوش ہو گئے ۔ بعد ازاں پولیس نے ایک ملزم نعیم اللہ ولد فضل رازق کو گرفتار کیا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے حصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ۔ پولیس نے سرچ اپریشن کے دوران دوہرے قتل میں نامز د دو سگے بھائیوں کو ڈرامائی انداز میں پنجاب سے گرفتار کیا ۔ پریس کانفرنس کے دوران مقتول صابر علی کی والدہ زار و قطار روتی رہی اور ملزمان کو دہائی دیتی رہی ۔ مقتول صابر علی کی والدہ نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار ملزمان سے قتل مقاتلے کی پرانی دشمنی کا تنازعہ چلا آرہا تھا جس میں جرگہ مشران نے خلف بر قر آن پاک راضی نامہ کیا اور ہم نے ملزم کے خاندان کو 23لاکھ روپے دیت ، لاکھوں روپے مالیت کا مکان اور گاؤں کو کھانا کھلا یا مگر سنگ دل ملزمان نے ان کے جگر گوشے کو ان کے سامنے خون میں نہلا دیا ۔ دوسری طرف گرفتار ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر تے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا اور نہ جرم میں ملوث ہیں ۔ پولیس کے غیر انسانی سلوک اور بدترین تشدد کے سامنے ہم چارسدہ کے پورے قبرستان کے مر دوں کی قتل کی ذمہ داری بھی قبول کر نے سے انکار نہیں کر سکتے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...