حکومت کی کرم ایجنسی میں خود کش حملہ آوروں کے داخلے کی اطلاع پر قبائل کو پہرہ دینے کی ہدایت

حکومت کی کرم ایجنسی میں خود کش حملہ آوروں کے داخلے کی اطلاع پر قبائل کو پہرہ ...

پاراچنار(نمائندہ پاکستان )کرم ایجنسی میں داعش اور خود کش حملہ آوروں کی داخلے کی اطلاع سرحدی دیہات میں حکومت کی جانب سے قبائل کو پہرہ دینے کی ہدایت ، بوڑکی خرلاچی سیمت سرحدی دیہات پر قبائل نے مساجد سے اعلانات کرکے پہرہ دینا شروع کردیا۔ فورسز نے دھشت گردوں کی نشاندہی اور پکڑوانے پر نقد انعامات کا اعلان کردیا ، کرم ایجنسی میں تعلیمی ادارے تین روز کیلئے بند کردئے گئے ۔پولیٹکل حکام کے مطابق کرم ایجنسی میں خود کش حملہ آوروں اور داعش کے داخلے کی اطلاع ملی اور کرم ایجنسی خصوصا افغان سرحد کے قریب رہنے والے قبائل کو مستعد رہنے کی تلقین کی گئی ہے پولیٹیکل انتظامیہ اور فورسز کی جانب سے قبائل کو اپنے اپنے علاقوں میں پہرہ دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے ، فورسز اور پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے ہدایات ملنے کے بعد قبائل نے مساجد سے لوڈ سپیکروں پر اعلانات کئے اور اپنے اپنے علاقوں میں پہرہ دینا شروع کردیا ہے اور مسلح قبائل رات کے وقت گھروں کے چھتوں اور دیہات کے باہر پہرہ دے رہے ہیں ، کچھ عرصہ قبل بھی داعش کی جانب سے دھمکی آمیز پمفلٹ گرائے گئے تھے جس سے سرحدی علاقوں میں خوف پھیل گئی تھی۔ کرم ایجنسی میں دھشت گردوں کی جانب سے نئے تھریٹس ملنے کے بعد کرم ایجنسی میں تعلیمی ادارے بھی تین روز کیلئے بند کردیئے۔ نیشنل ایجوکیشن کونسل فاٹا کے صدر مرتضی حسین نے سکولوں کی بندش کو غیر ضروری اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے بند کرنا مسلے کا حل نہیں تعلیمی اداروں کی بندش کی بجائے ان کی حفاظت کیلئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہرکے ارد گرد خندق کودنے کا کام بھی شروع کردیا گیا۔ اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ پاراچنار شاہد علی خان نے بتایا کہ خندق کودنے کا مقصد کچے راستوں کو کاٹنا ہے جو دھشت گرد اور غیر قانونی کاموں میں ملوث لوگ استعمال کرسکتے ہیں تاکہ شہر میں داخل ہونے والے لوگ سرکاری چیک پوسٹوں سے ہوکر گزرے جہاں پر چیکنگ کیلئے پاک آرمی کے دستے تعینات کئے گئے ہیں اور شہر کی طرف جانے والی گاڑیوں اور لوگوں کی باقاعدہ تلاشی لی جارہی ہے جبکہ کرم ایجنسی میں تمام گاڑیوں کی رجسٹریشن بھی دوبارہ شروع کردیا گیا ہے پولیٹکل حکام کا کہنا ہے کہ کرم ایجنسی میں جو بھی گاڑی سڑک پر آئی گئی یا پاراچنار شہرمیں داخل ہوگی اس کا مکمل ریکارڈ پولیٹکل انتظامیہ اور فورسزکے ساتھ موجود ہوگا جبکہ جہاں جہاں سے اب خندق کی کھدائی کی جارہی ہے مستقبل میں ان علاقوں میں رنگ روڈ تعمیر کیا جائے گا جس سے پاراچنار میں ٹریفک کا مسلہ بھی کنٹرول کیا جائے گا۔ ایم این اے ساجد طوری کا کہنا ہے کہ جس طرح سیکیورٹی انتظامات کئے جارہے ہیں اس سے دھشت گردی پر قابو پایا جائے گا مگر علماء ، قبائلی عمائدین اور ہر طبقے کے لوگوں کو دھشت گردی کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مکمل طور پر دھشت گردی کا خاتمہ ہوسکے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...