کنواری ظاہر کرکے شادی کروائی گئی لیکن کنواری نہ ہونے پر شوہر اسے افغانستان لے گیا، مبینہ مغوی خاتون کو افغانستان سے واپس لایا جائے: سپریم کورٹ

کنواری ظاہر کرکے شادی کروائی گئی لیکن کنواری نہ ہونے پر شوہر اسے افغانستان ...
کنواری ظاہر کرکے شادی کروائی گئی لیکن کنواری نہ ہونے پر شوہر اسے افغانستان لے گیا، مبینہ مغوی خاتون کو افغانستان سے واپس لایا جائے: سپریم کورٹ

  


اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سپریم کورٹ نے خواتین کی خرید و فروخت اور بیرون ملک سمگلنگ سے متعلق از خود کیس میں عاصمہ جہانگیر کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مبینہ مغوی خاتون فرزانہ کی افغانستان سے وطن واپسی کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے اور عورتوں کی سمگلنگ سے متعلق خبر شائع کرنیوالے صحافی کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ہے، دوران سماعت انکشاف ہوا کہ فرزانہ  نامی عورت کو کنواری ظاہر کرکے  افغان شہری سے گل زیب نامی خاتون نے کروائی ، کنواری نہ ہونے پرافغان شہری فرزانہ کوافغانستان لے گیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ خواتین کی خریدوفروخت کا معاملہ گھمبیر ہے اگرخواتین کی سمگلنگ ہورہی ہے تو یہ خطرناک بات ہے ، اگر ایسا نہیں ہے تو سنسنی کیوں پھیلائی گئی ، پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عورتوں کی سمگلنگ کا کوئی معاملہ نہیں ہے اگرایساکوئی ناسورموجود ہے تو اسے ختم کرنے کیلئے عدالت اپنا کردار ادا کرے گی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے صادق آباد سے افغانستان سمگل ہونے والی فرزانہ بی بی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق اے مرزا نے عدالت میں پولیس کی تفتیشی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ خواتین کی خریدوفروخت کے حوالے سے کسی گروہ کاوجود نہیں ،ایک شخص مختارکوگرفتار کرکے ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے ، فرزانہ اوراس کے ساتھی شادیاں کرانے کے معاملے پر لوگوں کوپھنساتے تھے ، فرزانہ کوکنواری ظاہرکرکے افغان شہری سے شادی کی گئی۔

افغانستان میں ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی،وہاں امن اورمفاہمتی عمل تعطل کاشکارہوگیا,مشیرقومی سلامتی ناصرجنجوعہ کی سٹیفن ہیڈلی سے ملاقات

فرزانہ کی افغان شہری سے شادی گل زیب نامی خاتون نے کروائی ، کنواری نہ ہونے پرافغان شہری فرزانہ کوافغانستان لے گیا،افغانستان سے فرزانہ کومختلف چینل استعمال کرکے واپس لایا جا سکتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ معاملے پرپولیس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی رپورٹس موصول ہوئی ہیں ، بعض اندرونی و بیرونی عوامل پاکستان کوبدنام کرنے کیلئے ایشو اٹھاتے ہیں ، معاملے پر کچھ آزاد رائے بھی آنی چاہئے۔

مزید : اسلام آباد


loading...