پچیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

پچیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی ...
پچیسویں قسط۔ ۔ ۔بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی شجاع قوم کی چونکا دینے والی تاریخ

  


تغلوق و بہمی خاندان اور سلطان ٹیپو کا تعلق چونکہ علاقہ بلوچستان سے رہا ہے اس لئے اس کا ذکر ضروری ہے۔ ایک محقق کہا ہے:

’’بلوچستان سے لفظی طور پر بلوچوں کا علاقہ مراد ہے لیکن یہ لفظ بلوچستان کے لئے اس معنی میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ وادی شال جو قلات سے قریبا ستر میل شمال میں اور درہ بولان کے سرے پر سطح سمندر سے پانچ ہزار پانچ سو فٹ کی بلندی پر اس سرحد پر واقع ہے جو دو نسلوں کو علیحدہ علیحدہ کرتی ہے اس وادی کے مرکز میں کوئٹہ شہر ہے۔ شمال میں پورا علاقہ پٹھان خطہ کا حصہ ہے اور اس میں پٹھان قبائل ہی آباد ہیں۔ ان میں ترین، اچک زئی، کاکٹر اور پنڑی (پنی) سب سے زیادہ اہمیت کے مالک ہیں۔

چوبیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کوئٹہ کے جنوب میں تمام آبادی بلوچوں اور بروہیوں کی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بلوچستان کا بیشتر حصہ بروہی اور بلوچ قبائل کے قبضہ میں ہے۔ لیکن ان قبائل کا علاقہ وسیع مرتفع اور ریگستانوں پر مشتمل ہے جو کوئٹہ سے مغرب اور جنوب کی طرف سمندر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ پوری آباد میں سے قریبا نصف پٹھان ہیں جو کوئٹہ سے شمال اور شمال مشرق میں نسبتاً زیادہ زرخیز پہاڑیوں اور وادیوں میں آباد ہیں۔ صحیح جائزہ لیا جائے تو بلوچستان میں بھی پٹھان قبائل ہی اہمیت کے مالک ہیں۔ اگرچہ یہ قبائل تعداد میں بہت تھوڑے ہیں اور سب کو ملا کر آٹھ لاکھ سے بھی کم ہیں۔

قلات کے خوانین کے مورث اعلیٰ ناصر خان کا درانی سلطنت کے بانی احمد شاہ سے جاگیردارانہ تعلق تھا۔ مستونگ اور قلات کا سردار بروہی ناصر خان گویا احمد شاہ کے عقبی دروازہ پر متعین تھا اور قندھار سے ہندوستان جانے والی شاہراہ پر سب سے زیادہ اہمیت کامالک تھا۔ قلات ا س زمانہ سے بہت پہے سے قندھار کا باجگزار چلا آرہا تھا اور جب احمد شاہ نے ۱۷۴۷ء میں اس شہر میں اپنی سلطنت قائم کی تو اس نے بروہیوں کو بھی زیر کر لیا اور وہ یہ سمجھتاتھا کہ اسکی سلطنت کی حدیں سمندر تک پھیلی ہوئی ہیں۔‘‘

سندھ

سمہ اور سومرو خاندان

نسب و نسل کے متعلق جس طرح کی غلط فہمیاں برصغیر کے افغان حکمراں خاندانوں کے بارے میں پائی جاتی ہیں۔ ان کا اندازہ گزشتہ صفحات کے ان مباحث سے کیا جا سکتا ہے جو محمد غوری ، قطب الدین ایبک، تغلق، دکن کے بہمنی اور سلطان ٹیپو کے ذیل میں گزرے ہیں۔ اس قسم کی غلط فہمیوں بلکہ مکالف مورخین کی غلط بیانیوں کا سلسلہ اتنا دراز ہے کہ ایک مقالہ یا مختصر کتاب میں ان کا بیان کرنا ممکن نہیں۔

سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کے لیے

لیکن یہاں سندھ و ملتان کے چند افغان حکمران خاندانوں کے بارے میں بھی چند سطریں لکھنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سندھ کے ان افغان حکمراں خاندانوں سے مراد سمہ، سومرہ اور لنگاہ خاندان ہیں جو اصلاً اور نسلاً افغان قبائل ہیں۔ لیکن مخالف اہل قلم نے ان کے نسب و غلط فہمیوں کے پردے ڈال دیئے ہیں۔

بحوالہ ٹاڈ راجستھان: قبلیہ جام سندھ کے مورثیان کا بیان ہے کہ ان کا مورث شام تھا یا سیریا۔ یہی وجہ ہے کہ شام بدل کر جام ہوگیا اور اس کی ایک چھوٹی ریاست جام راج کے نام سے اس خطاب کی شاہد ہے۔ صفحہ ۲۲۶

اس خاندان کے متعلق مولانا اعجاز الحق قدوسی اپنی کتاب تاریخ سندھ میں لکھتے ہیں کہ:

سندھ میں سومرا قبیلے کے بعد سمہ خاندان برسر حکومت آیا۔ انہوں نے ایک شہر آباد کیا جس کا نام ’’ساموئی‘‘ رکھا اور اس کو اپنا پایۂ تخت بنایا۔ ’’جام انر‘‘ سمہ خاندان کا پہلا فرمانروا ہے جو ارمیل یا ہمیر سومرا کو شکست دے کر اقتدار حاصل کرکے ۷۵۱ ھ میں سندھ کا فرمانروا ہوا۔‘‘

جاری ہے۔ چھبیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

  پٹھانوں کی تاریخ پر لکھی گئی کتب میں سے ’’تذکرہ‘‘ ایک منفرد اور جامع مگر سادہ زبان میں مکمل تحقیق کا درجہ رکھتی ہے۔خان روشن خان نے اسکا پہلا ایڈیشن 1980 میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب بعد ازاں پٹھانوں میں بے حد مقبول ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ پٹھان بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آباو اجداد اسلام پسند تھے ۔ان کی تحقیق کے مطابق امہات المومنین میں سے حضرت صفیہؓ بھی پٹھان قوم سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہودیت سے عیسایت اور پھر دین محمدیﷺ تک ایمان کاسفرکرنے والی اس شجاع ،حریت پسند اور حق گو قوم نے صدیوں تک اپنی شناخت پر آنچ نہیں آنے دی ۔ پٹھانوں کی تاریخ و تمدن پر خان روشن خان کی تحقیقی کتاب تذکرہ کے چیدہ چیدہ ابواب ڈیلی پاکستان آن لائن میں شائع کئے جارہے ہیں تاکہ نئی نسل اور اہل علم کو پٹھانوں کی اصلیت اور انکے مزاج کا ادراک ہوسکے۔

مزید : شجاع قوم پٹھان


loading...