موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ نہیں

  


ریا ست ِ مدینہ ہے – ایک محفل لگی ہوئی ہے- مکہ کے مہاجر بے سرو سامانی کے عالم میں بارگاہِ رسالتﷺ میں بیٹھے ہیں- کچھ اپنوں سے بچھڑنے کا غم – کچھ دیس  چھوڑ کے  پردیسی کہلانے کا ماتم چہروں پہ لکھا ہے-مستقبل میں کیا کیا جائے کہ کچھ روزگار حاصل ہو اور انصار کی طرح متمول نظر آئیں لیکن کو ئی راہ سجھائی نہیں دیتی – ان میں سے کب کسی نے ضروریاتِ زندگی کے لئے کبھی ہاتھ پھیلایا تھا-

       نبی پاکﷺ کے چہرے پہ ایک سکون اور  دل انصار کے جذبہء ایثار سے مطمئن ہے-  مواخات کا حکم  مسئلے کا حل ٹھہرتا ہے- آپس میں بھائی بندی کا عمل  شروع ہو چکا ہے- انصار اپنے مہاجر بھائیوں کے نہ صرف غم بانٹ رہے ہیں  بلکہ ان کے رہن سہن اور روزگار کا حل بھی  ہو رہا ہے کیونکہ کوئی  مہاجر اپنے انصار بھائی پہ بوجھ نہیں بننا چاہتا- آسماں میرے نبی پاکﷺ کی فہم و فراست اور دوربینی پہ واری جارہا ہے- ایک طرف ایک دوسرے کی مدد کا پیغام ابھر رہا ہے  تو دوسری طرف عزتِ نفس پہ کچھ گراں نہیں گذر رہا ہے- مسائل کا حل اورپیار محبت کی زنجیر   سب کے  دل موہ رہی ہے  - رسول اللہ ﷺ کی  دانائی اور رب کی بڑائی  بیان ہو رہی ہے  اور اللہ کی رسی کو سب بخوشی مضبوطی سے تھام رہے ہیں- اتحاد اور اخوت کے  غنچوں سے دل مہک اٹھے ہیں اور ان کی خوشبو سب کو دیوانہ کر رہی ہے – یہ ہے اخوت جس میں ہمیں ہمارا رب اور ہمارےنبیﷺ ہمیں باندھ کے کامیابی و کامرانی کی نوید سناتےہیں -                             یہ ہجرت مجھے آج  یاد آ رہی ہے اور یہ اخوت کا  دیا درس مجھے رلا رہا ہے کہ ایک ہجرت ہم نے قیامِ پاکستان کے وقت بھی کی تھی لیکن آج تک یہ ہجرت ہمیں ایک لڑی میں نہیں پرو سکی ہے اور وقت کے ساتھ  دلوں کے فاصلے بڑھے ہیں – رواداری اور درگذر کے اوصاف  نے دم توڑا ہے- عدم برداشت نے عقیدہ  ، فرقہ اور مذہب کے نام پر قتل گری اور دہشت گردی کو ہوا دی ہے- قائد اعظمؒ  کی گیارہ اگست کی تقریر کو متنازعہ بنا کر حصول ِپاکستان کے مقاصد سے  حسب منشاء کھیلا جارہا ہے- کیونکہ کسی ریاست کو اگر غیر مستحکم کرنا مقصود ہو تو اندرونی  خلفشار اور خانہ جنگی ہی یہ مقاصد بدرجہء اتم  پورے کر سکتےہیں- ایسی ریاست جس میں شہریوں کے بنیادی حقوق برابر نہ ہوں- جہاں معاشرتی وسائل پر  ایک طبقہ کا ہی قبضہ ہو  جسے چند لوگ اپنی پسند نا پسند کی بنا پہ ہی چلاتے ہو – جہاں کے ایوان مچھلی منڈی اور فلاح و بہبود کے ذرائع  گھر کی دہلیز تک پہنچانے کی بجائے بہنوں کی رداؤں تک کو داغدار  کر دینے کے درپے ہوں  وہاں اخوت و بھائی چارہ کی زنجیر کہاں دلوں کو آپس میں باندھیں گی- کلمہ گو کو بھی جہاں کافر اور ہر غیرمسلم  قابلِ قتل ٹھہرایا جاتا ہو وہاں اسلام کے ماننے والے دست و گریباں ہی دکھائی دیں گے-جہاں فتاویٰ  دینے والے خیر کی بجائے شر  کی تعلیم دیں اور اس شر کے بدلے میں حوروں  کی گود  کے میسر آنے کی  خوشخبری  سنادیں وہاں اخوت و بھائی چارے کے گلشن مہکیں ایک دیوانے کی سوچ تو ہو سکتی ہے لیکن ایک صاحبِ عقل  کو اپنی ہم  آواز نہیں بنا سکتی- جہاں علماء بھی سیاست میں برابر کے حصہ دار اور ذاتی مفادات  پہ سب کچھ قربان کر دینے کو ہر وقت تیار نظر آئیں وہاں کیا  معاشرتی اصلاح ہو سکتی ہےاور ان مکتبہءفکر  سے کب مدینہ کی ریاست کے ایثار و قربانی کی صدائیں آ سکتی ہیں-  جہاں مدارس میں دی جانے والی تعلیم  انتہا پسندی کو رجحان دے  اور حقوق العبا د  کو بالائے طاق رکھ دے وہاں سے پھر برداشت کے سوتے کہاں پھوٹیں گے- جہاں میانہ روی کےدرس دیتا اسلام  انتہا پسندی  کی علامت ٹھہرے وہاں اس اسلام کے محافطوں  کو اپنے عمل و کردار پہ ضرور نظر دوڑانی چاہیئے – جہاں حکومتی ارکان بغیر مشاورت کے ایسے بیان داغ دیں کہ  پانچ نمبر کے حصول کا لا لچ  ہی حجاب کی ترغیب دے اور قوم کو مختلف آراء میں بانٹ کر اس قانون کی تجویز ہی واپس ہو جائے وہاں کیا یک جہتی پروان چڑھے گی- جہاں کے قانون ایک اسمبلی میں بننے  کی بجائے کھانے کی میز ہر ہی طے ہو جائیں وہاں کیسے کوئی کسی کو اعتماد میں لے گا کیونکہ حکم ِ حاکم سے حکم عدولی تو  اپ کی وفاداری کو ہی مشکوک کر دیتی ہے- سر خم ِتسلیم ہر کوئی اس  تجویز پہ سر دھنتا اور تعریف میں زمین و آسمان  کے قلابے ملا دیتا ہے لیکن یونہی صاحبِ وقت کا مزاج بدلے اور وہ قانوں واپس  لے لے  تو  اسی قانون کی مخالفت میں ایسے بیان انہی زبانوں سے داغے جاتے ہیں کہ سب سر پکڑ لیتے ہیں کہ یہ کیا کھیل ہے جس کا نہ کوئی قاعدہ ہے اور نہ  ہی کوئی  اصول پھر یہ کیسی جمہوریت ہے یا صرف تابعداری کا نام ہی جمہوریت کی تعریف ہے- 

آئیے پاکستان کو ریاست ِ مدینہ کی مثال بنائیں  -عفو و درگذر اور اخوت ہی میں ہماری کامرانی کی ضمانت ہے-نبی  اکرم ﷺ کے پیروکاروں کو آپ ؐکے اسوہء  حسنہ  سے روشنی حاصل کرنی چاہئے جو رحمت اللعالمین  بھی ہیں اور  ہمارے لئے مشعلِ راہ بھی- آئیے ہم خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور تفرقوں کو بھول کر سب کو گلے لگائے آگے بڑھیں-                                 

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...