حکومت کا لاوارث میتوں کی شناخت کے لئے ڈی این اے ڈیٹا بینک بنانے کا فیصلہ

حکومت کا لاوارث میتوں کی شناخت کے لئے ڈی این اے ڈیٹا بینک بنانے کا فیصلہ
حکومت کا لاوارث میتوں کی شناخت کے لئے ڈی این اے ڈیٹا بینک بنانے کا فیصلہ

  


کراچی (ویب ڈیسک) حکومت نے بم دھماکوں، حادثات اور دہشتگردی کی وارداتوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت کے لئے ڈی این اے ڈیٹا بینک بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کے فوکل پرسن امان اللہ زرداری نے سندھ ہائی کورٹ کو بتایا کہ کراچی میں 1986ءسے 2017تک 85 ہزار لوگ بم دھماکوں اور دیگر حادثات میں جاں بحق ہوئے، جن میں 80 ہزار کی شناخت نہ ہونے پر ایدھی فاﺅنڈیشن سمیت دیگر ادارے انہیں لاوارث قرار دے کر دفناچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا بینک میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے لاوارث افراد کی شناخت ممکن بنائی جائے گی۔

جسٹس محمد شفیع صدیقی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ خود کش حملوں، بم دھماکوں اور دیگر حادثات میں کئی لوگ جان گنوابیٹھے، جن کی پہچان نہیں ہوسکی۔ جمعرات کو جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس عبدالمالک گدی پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ مسماة عظمیٰ شہزاد نے موقف اختیار کیاکہ 6 اپریل 2014ءکو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ان کے 2 بیٹوں معاذ خان اور احمد خان کو اٹھا کر لے گئے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن فاروق اختر، ڈی ایس پی کورنگی پرویز اختر اور گڈاپ کے ڈی ایس پی پیر بخش چانڈیوں کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کے بیٹوں کی تلاش جاری ہے۔ اس موقع پر فاضل عدالت نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ ایک مقدمے میں 6 بار جے آئی ٹیز بنائی گئیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف رپورٹ پیش کرتے ہیں، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے عملی اقدامات نہیں اٹھاتے۔ عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ دیگر فریقین کو لاپتہ افراد سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

مزید : کراچی


loading...