بیٹی سے ناجائز تعلقات کا شبہ، بااثر افراد کی بیٹے کے سامنے ماں، بہن سے مبینہ اجتماعی زیادتی، نوجوان قتل

07 اپریل 2018 (14:26)

بہاولپور (ویب ڈیسک) اندھیر نگری، چوپٹ راج، بیٹے کے سامنے ماں اور بہن کے ساتھ چار ملزمان باری باری زیادتی کرتے رہے۔

روزنامہ خبریں کے مطابق موضوع رمضان جوئیہ کا بااثر نمبردار شوکت جوئیہ جس کے پاس سعید احمد ولد خدا بخش عرصہ 8/10 سال سے مزارعہ کام کررہا ہے، عشاءکے وقت وہ اپنی بیوی، بیٹی بیٹے محمد یوسف کے ہمراہ گھر میں موجود تھا، نمبردار شوکت جوئیہ اپنے بھائی   اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اسلحہ سے لیس ہوکر غریب مزارعہ کے گھر میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے داخل ہوگیا اور آتے ہی انہوں نے گھر میں موجود اس کی بیوی، بیٹی اور بیٹے کو زدوکوب کرنا شروع کردیا اور چاروں کو گھسیٹتے ہوئے گھر سے باہر نکال لیا۔ اس دوران دونوں ماں بیٹی کے کپڑے پھٹ گئے اور وہ نیم برہنہ ہوگئیں۔ کچھ فاصلہ پر جاکر اپنے مزارعہ سید احمد کو چھوڑدیا، اس کی بیوی، بیٹی اور بیٹے کو اپنے ڈیرہ پر گھسیٹتے ہوئے لے گیا۔

15پر کال کرنے پر تھانہ صدر پر تعینات سب انسپکٹر جاوید احمد ایک پولیس کانسٹیبل کے ہمراہ موقع پر سرکاری گاڑی پر آیا، اس وقت ملزمان تینوں ماں بیٹی اور بیٹے کو زدوکوب کررہے تھے لیکن پنجاب پولیس کے اس شیر جوان سب انسپکٹر نے بااثر نمبردار کی وجہ سے کوئی کارروائی نہ کی اور مل کر واپس آگیا۔ ڈی پی او بہاولپور کیپٹن ریٹائرڈ مستنصر فیروز کو جب اس وقوعہ کی بابت معلومات ہوئیں تو انہوں نے فوری طور پر تحصیل احمد پور شرقیہ کی تمام پولیس کو فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا، پولیس جب ملزمان کو گرفتار کرنے کیلئے نمبردار شوکت جوئیہ کے ڈیرہ اور گھر پر پہنچی تو وہاں پر کچھ بھی موجود نہ تھا۔ پولیس تھانہ صدر نے مزارعہ سعید احمد کو مدعی بنا کر اپنی مرضی کی تحریر بنا کر ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 78/18 زیر دفعہ 354,365-B,148,149 ت پ کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

24 گھنٹے کے بعد بازیاب ہونے والی مزارعہ کی بیوی متاز مائی اور بیٹی مہناز بی بی نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمان نمبردار شوکت، اس کے بھائی ظفر، اس کے بھتیجے آصف، کونسلر حمید وغیرہ نے ہمیں یہاں سے زبردستی گاڑیوں میں ڈال کر نامعلوم مقام پر لے گئے جہاں پر ہم پر تشدد کیا گیا اور میرے بیٹے محمد یوسف کو نمبردار نے اپنے ساتھی کے ہمراہ فائرنگ کرکے قتل کردیا اور کہا کہ تم نے میری بیٹی (الف) کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کئے تھے اور اس کو بھگایا تھا۔ آج میں تم کو اور تمہارے خاندان کو اس کا مزہ چکھا رہا ہوں۔ پولیس تھانہ صدر نے متاثرہ عورت ممتاز مائی، اس کی بیٹی مہناز بی بی کو سپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ میاں فیاض احمد ندیم کی عدالت میں پیش کیا، اغواءہونے والی دونوں ماں بیٹیوں نے عدالت میں بیان دیا کہ ہم نے پولیس کواپنا بیان قلمبند کرادیا ہے۔

مغویہ مزارعہ کی بیوی ممتازمائی اور بیٹی نے پولیس کو بیان دیا کہ ملزمان خادم، عابد، پپا اور آصف نے باری باری ہم دونوں ماں بیٹیوں کے ساتھ زیادتی کی، ہمارا میڈیکل کرایا جائے جس پر عدالت نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمد پور شرقیہ کو ان کا حسب ضابطہ طبعی معائنہ کرنے کا حکم دیا، جس پر پولیس تھانہ صدر نے دونوں ماں بیٹی کو سول ہسپتال لے گئی جہاں پر لیڈی ڈاکٹر نے ان کا میڈیکل چیک اپ کیا، 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود لیڈی ڈاکٹر نے پارسل بنوا کر DNA کیلئے پارسل لاہور نہ بھجوائے ہیں۔ پولیس تھانہ صدر نے بھی ملزمان کے خلاف زناءکرنے کا جرم ایف آئی آر میں نہ لگایاہے۔ تمام ملزمان نے درج ہونے والا مقدمہ نمبر 78/18 بجرم 354,365-B,452,148,149 ت پ میں اپنی عبوری ضمانتیں کرالی ہیں۔

متاثرہ مزارعہ سعید احمد او راس کی بیوی ممتاز مائی، بیٹی مہناز بی بی نے چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ ، وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب پولیس، آر پی او بہالور سے اپیل کی ہے کہ ہمٰن انصاف دلایا جائے اور جان کا تحفظ دیا جائے اور ہمارے قتل ہونے والے بیٹی کی نعش کو برآمد کیا جائے۔

مزیدخبریں