غیر ضروری گرفتاریاں، عدالتوں پر ناروا بوجھ

غیر ضروری گرفتاریاں، عدالتوں پر ناروا بوجھ

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پولیس کی غیر ضروری گرفتاریوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ للکارے مارنے والے ملزم کو کیوں گرفتار کیا جاتا ہے، کیوں غیر ضروری گرفتاریاں ڈال کر عدالتوں پر بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ ایک گرفتار ملزم کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے موکل کو للکارے مارنے پر گرفتار کر کے قتل کے مقدمے میں نامزد کر دیا گیا تھا،جس پر چیف جسٹس نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ للکارے مارنے پر ملزم کی زبان کو گرفتار کرنا تھا، للکارے مارنے والے کو کیوں گرفتار کیا جاتا ہے، وکیل نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ تحقیقات میں ملزم کے خلاف کوئی جرم بھی ثابت نہیں ہوا۔ ایک دوسرے مقدمے میں گاڑی چوری کے ملزم کے خلاف ساڑھے چار سال بعد مقدمہ درج ہونے پر حیرت کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ ملزم پر ساڑھے چار سال بعد مقدمہ درج کرایا، یہاں تو چار گھنٹے بعد حالات بدل جاتے ہیں، عدالت نے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نپٹا دی۔

دونوں مقدمات میں فاضل چیف جسٹس نے جو ریمارکس دیئے وہ اِس لحاظ سے قابلِ غور اور انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ ان میں ماخوذ ایک ملزم سے تو سرے سے کوئی جرم ہی سرزد نہیں ہوا، اسی بنا پر خود فاضل چیف جسٹس کو کہنا پڑا کہ اگر للکارے مارنے پر گرفتاری کرنا تھی تو زبان کو گرفتار کرتے،جبکہ دوسرے مقدمے میں گاڑی چوری پر ساڑھے چار سال بعد گرفتاری بادی النظر میں بدنیتی ہی معلوم ہوتی ہے۔ یہ تو دو واقعات وہ ہیں جو فاضل عدالت کے سامنے آ گئے،نہیں معلوم ایسے کتنے ناکردہ گناہ ایسے ہیں جن کی پاداش میں لوگ جیلیں کاٹ رہے ہیں،للکارے مارنے کا مقدمہ بھی زیریں عدالتوں سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ کے روبرو آیا ہے۔ اگر وہاں اس پہلو پر توجہ دی جاتی تو پہلے بھی اِس سلسلے میں ریلیف ممکن تھا،لیکن ایسا نہیں ہوا۔

حال ہی میں اعلیٰ عدالتوں میں زیر سماعت بہت سے مقدمات میں محسوس کیا گیا ہے کہ بہت ہی معمولی جرائم میں لوگوں کو ماخوذ کر کے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، بظاہر ایسے مقدمات پولیس افسروں کی دلچسپی سے بنتے ہیں،جن میں اُن کی بدنیتی کا دخل معلوم ہوتا ہے،اِس لئے ضرورت اِس بات کی ہے کہ سپریم کورٹ جیلوں میں سڑنے والے لوگوں کے مقدمات کا از سر نو جائزہ لینے کے لئے ایک کمیشن بنائے جو یہ جانچ پڑتال کرے کہ کتنے ایسے لوگ ہیں جو ’’للکارے مارنے‘‘ جیسے ’’جرائم‘‘ میں سزائیں بھگت رہے ہیں۔ ویسے گہرائی میں جاکر دیکھا جائے تو شاید للکارا مارنا بھی ایک گھڑی ہوئی داستان ثابت ہو، یہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ ایسے مقدمات میں ان لوگوں نے جتنی سزا بھگت لی ہے کیا وہ کافی نہیں ہے۔ دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ بہت سے مقدمات کی سماعت کی سالہا سال تک نوبت ہی نہیں آتی،کیونکہ عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ ہے اور کِسی نہ کِسی وجہ سے ان کی سماعت ملتوی ہوتی رہتی ہے،ان میں ایسے مقدمات بھی شامل ہیں جن کی زیادہ سے زیادہ سزا چھ ماہ قید ہے اور اگر ایسے مقدمات میں وہ سزا یاب بھی ہو جائیں تو تین ماہ بعد قید کاٹ کر رہا بھی ہو سکتے ہیں،لیکن سالہا سال سے اُن کے مقدمے کی سماعت ہی نہیں ہو رہی، جس کی وجہ سے وہ عملاً انتہائی سزا سے بھی زیادہ سزا کا ٹ چکے لیکن ابھی سزا ہوئی بھی نہیں۔ اِس لئے ضرورت ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسا سسٹم بنایا جائے کہ ایسے چھوٹے مقدمات کی سماعت ترجیحی بنیادوں پر ہو اور انہیں تیز رفتاری کے ساتھ نپٹا کر جو بھی فیصلہ کرنا ہے کر لیا جائے، کیونکہ جرم کی انتہائی سزا سے کئی گنا عرصہ جیل میں محض اس بنا پر گزارنا کہ مقدمہ سماعت کے لئے کسی عدالت میں لگ ہی نہیں رہا، ظلم و زیادتی کے مترادف ہے اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی کی ذیل میں آتا ہے۔

فاضل چیف جسٹس اِس امر سے بے خبر نہیں ہوں گے کہ زیریں عدالتوں میں محض تاریخ نکلوانے اور مقدمہ سماعت کے لئے نہ لگنے دینے کے معاملے پر بھی عدالتی عملے کی کاوشیں شامل ہوتی ہیں،جس مقدمے میں کسی ملزم کو معمولی سزا ہی ملنے کا امکان ہوتا ہے اس کے مخالفین کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مقدمہ معلق رہے اور اس کی سماعت کی نوبت نہ آئے، چنانچہ مقدمہ فائلوں میں دبا رہنے کی وجہ سے ہی ایک ملزم بغیر فیصلے کے سزا بھگتتا رہتا ہے ستم ظریفی یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی باقاعدہ کوشش کر کے اس مقدمہ کو دبا رہا ہوتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتی نظام میں اس سلسلے میں اصلاح کی خاصی گنجائش ہے،جس طرح اب ماڈل عدالتیں بنائی گئی ہیں،جو تیزی سے مقدمات کی سماعت کرکے فیصلے سنا رہی ہیں یہ وہ کیس ہیں جو سالہا سال سے سُنے نہیں جا رہے تھے یا کسی دوسری وجہ سے مقدمات کی تکمیل نہیں ہو رہی تھی۔ اس طرح معمولی جرائم کے مقدمات کی سماعت بھی تیزی سے ہونی چاہئے، اور ایسے مقدمات تو لوئر کورٹس یا زیادہ سے زیادہ ہائی کورٹ تک نپٹ جانے چاہئیں۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسا مقدمہ سپریم کورٹ کی سطح تک پہنچا جو دیکھا جائے تو سرے سے کوئی مقدمہ ہی نہیں تھا اور فاضل چیف جسٹس نے درست ریمارکس دے کر مقدمہ نمٹا دیا۔

چند روز قبل اسلامی نظریہ کونسل نے بھی ایک اچھے پہلو کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ملزموں کو ہتھکڑی لگانا غیر مناسب ہے، لیکن یہاں تو یونیورسٹی کے وائس چانسلروں اور اہل علم کو ہتھکڑی لگا کر عدالتوں میں بار بار پیش کیا گیا۔ سیاسی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں کو بھی ہتھکڑیاں لگائی گئیں جس کا بظاہر مقصد ان کی تضحیک کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ تو اکثر ہوتا ہے کہ کسی ملزم کے خلاف سنگین نوعیت کا مقدمہ درج ہوا اور اسے بار بار ہتھکڑیوں کے ساتھ عدالتوں میں پیش کیا گیا،لیکن بعد میں پتہ چلا کہ مقدمہ بے بنیاد تھا یا کسی ذاتی ’دشمنی کا شاخسانہ‘ اس لئے اس تجویز کو بھی سامنے رکھنے کی ضرورت ہے، جو ایک آئینی ادارے کے فاضل ارکان نے خاصی عرق ریزی کے بعد پیش کی ہے۔ اس کے ساتھ بنیادی انسانی حقوق کا تصور بھی نتھی ہے۔ اگر فاضل عدالتوں کے ریمارکس کو پیش نظر رکھ کر بے گناہوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ رُک جائے یا لوگوں کو زبردستی مقدمے میں ملوث کرنے کے لئے للکارے مارنے جیسے جواز نہ تلاش کرنے پڑیں تو نہ صرف عدالتوں پر مقدمات کا دباؤ کم ہو گا، بلکہ معاشرے پر بھی بطور مجموعی مثبت اور خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...