یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا؟

یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا؟

یہ کیسی حکمت عملی ہے اور اس کا کیا مقصد ہے کہ گزشتہ روز وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ایک پریس کانفرنس کر کے روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی اونچی اڑان کا نوٹس لیا، اعلان کیا گیا ہے کہ ڈالر ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے کو ہدایات بھیج دی گئی ہیں اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا، وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ افواہوں کی وجہ سے ڈالر اور روپے کی قدر میں تفاوت بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسا نہیں ہوگا اور ڈالر کی قدر مزید نہیں بڑھے گی، ذخیرہ اندوز پکڑے جائیں گے انہوں نے خوف اور ہراس کو بالائے طاق رکھنے کو کہا۔دو وفاقی وزرا کی ایسی پریس کانفرنس کے جو فوری اثرات مرتب ہوئے وہ یہ کہ انٹر بینک میں ڈالر کے نرخ میں گیارہ پیسے کی کمی آ گئی۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ حکومت نے جان بوجھ کر پہلے نوٹس نہیں لیا اور ڈالر کو 143 روپے پچاس پیسے تک جانے دیا جس سے بحران پیدا ہوا۔ وزیر خزانہ اور وفاقی حکومت کو یہ سب نظر آنا چاہئے عوام سے کچھ چھپانے کی کوشش نہیں کرنا چاہئے، اس نئی صورتحال سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ الزام یا بات درست اور حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف سے بات چیت کے باعث ڈالر کو خود موقع دیا گیا کہ وہ روپے کو پچھاڑ دے، ورنہ ایسا نوٹس پہلے بھی لیا جا سکتا تھا جو اب بعداز خرابی بسیا، لیا گیا ہے۔ کیا وزیر خزانہ اس وقت اقدامات نہیں اٹھا سکتے تھے جب ڈالر پرواز کر رہا تھا، وزیر اعظم نے یقین دلایا ہے کہ ڈالر پہلی قیمت پر واپس آ جائے گا تو سمجھ آتا ہے کہ یہ اب نئی حکمت عملی ہے، بہر حال لوگ تو تب مطمئن ہوں گے جب قیمتیں واپس ہوں گی۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...