’عالم اسلام کی عزت ، مزدور کے سر کی چادر‘

’عالم اسلام کی عزت ، مزدور کے سر کی چادر‘
’عالم اسلام کی عزت ، مزدور کے سر کی چادر‘

  


آج چونتیس سال سے تین دن اوپر ہو گئے ہیں، مگر ذہن کی دیوار پہ چپکا ہوا یہ داغ دھلنے نہیں پاتا۔ اُس روز صبح ہی صبح ایک عقلی آدمی کو ایک جذباتی جیالے کا فون آیا تو آواز بے کیف سی تھی ’’ملک جی ، کم ہو گیا جے‘‘ ۔ ’’کیا مطلب ؟‘‘ ’’بھٹو کو پھانسی ہو گئی‘‘ ۔ ’’ناممکن ہے‘ ‘ ۔ ’’باہر تو نکلیں ضمیمے بک رہے ہیں‘‘ ۔

اُس وقت تک ہم نے اخباری ضمیمے بکنے کی کہانیاں تو سن رکھی تھیں ، مگر کہانیوں کا حصہ نہیں بنے تھے ۔ چند ہی منٹ میں پتا چل گیا کہ ضمیمے سیاہی میں تر ہوں تو باطن کی شہ سرخی لکھنے کے لئے انگلیاں خونِ دل میں ڈبونی پڑتی ہیں۔ فون کرنے والا جاوید خان تو خیر پیپلز پارٹی کا سرگرم کارکن اور واہ کے دفتر کا سیکرٹری تھا ۔ خود مَیں آج تک نہیں جان سکا کہ یہ منجمد لمحہ میری ذات کے آنگن میں ہمیشہ کے لئے ٹھہر کیوں گیا ہے۔

حافظہ پر زور دوں تو ذوالفقار علی بھٹو کی تصویر پہلی بار ’سول ڈیفنس میگزین‘ نام کے ایک سرکاری رسالے میں دیکھی تھی اور نیچے اقبال کا ’ ہو جس کے جوانوں کی خود ی صورت فولاد‘ والا شعر درج تھا ۔ یہ 1960 ء کی دہائی کا آغاز ہو گا ، اس لئے اتنا تو پڑھ لیا کہ یہ ذہین چہرہ ایندھن اور قدرتی وسائل کے وزیر کا ہے، مگر چونکہ ’خودی‘ کا لفظ پہلے نہیں سنا تھا ، سو اندازہ لگایا کہ اس کے معنی ’خود ہی‘ کے ہوں گے، یعنی ہماری قوم کے جوانوں کی شکل صورت بجائے خود فولاد جیسی ہے ۔

یہ جانتے ہوئے کہ فولاد کالا ہوتا ہے ، گھڑی بھر کو خیال آیا کہ ہمارے وزیر کی رنگت سیاہی مائل تو نہیں لگتی ۔ عین اس لمحے والد محترم کی ہنسی نے دھیان اسی رسالے میں جنرل ایوب کی تصویر کی طرف کر دیا، جس کے ساتھ ’نگاہ مرد مومن ‘ والا شعر دیکھ کر یہ طے نہ ہو سکا کہ ابا شعر پہ ہنس رہے ہیں یا مردِ مومن پہ۔

میرے ایک ادب نواز بیوروکریٹ دوست پولیس اہلکاروں کی اِس منفرد ٹریننگ کے معترف ہیں کہ انہیں بشرطِ ضرورت ایک ساتھ کسی کے ’ہتھیِں‘ اور ’پیرِیں‘ پڑنے یا بیک وقت جھپٹنے اور پاؤں پکڑ لینے کی مہارت سکھا دی جاتی ہے ۔ میں اپنے دوست کے مشاہدے میں اتنا اضافہ کروں گا کہ داؤ پیچ کا یہ اندرونی تضاد پولیس کے بااختیار ہونے کے باعث زیادہ نمایاں ہو گیا ، وگرنہ ’روٹی کی بُرکی‘ میں قید ہر روایتی ملازم اپنے ضمیر اور بقا کی باہمی لڑائی میں یہی کچھ کرتا آیا ہے ۔

پاکستان کی اسلحہ ساز واہ چھاؤنی میں اپنے والد اور اُن سے بلند تر افسران کے یہ کرتب مَیں نے نومبر 1968 ء میں اُس وقت دیکھے جب راولپنڈی پولی ٹیکنک کے باہر اسی ’صورت فولاد‘ وزیر کی گزرگاہ پر پولیس فائرنگ میں حمید نقوی نام کے طالب علم کی شہادت ایوب مخالف تحریک کا نکتۂ آغاز بن گئی۔

آزمائش کی اس گھڑی میں ماں باپ کی موقع پرستانہ ہدایات کے باوجود یہ تو ممکن نہیں تھا کہ آپ سٹوڈنٹس یونین کے سیکرٹری جنرل ہوں اور طلبا کے جلوس کی قیادت نہ کریں ۔ ہاں ، یہ تصور کر کے کہ قائداعظم مجھ جیسی صورتِ حال سے دوچار ہوتے تو کیا کرتے ، اپنی تقریر وں کا متن ، الفاظ کا چناؤ اور لب و لہجہ ایسا رکھا جیسے چینی کی قیمتوں اور اصولوں کی اِس جنگ میں کسی کی ذات کو برا بھلا کہنا ہمارا مقصد نہیں ۔

کچھ علم نہیں تھا کہ ہمارا نظریاتی جھکاؤ کس طرف ہے اور اگر سابق وزیر خارجہ سے کوئی ذہنی وابستگی تھی تو محض علامتی نوعیت کی، جس کا کریڈٹ حبیب جالب کو جاتا ہے، جنہوں نے ’آیا تو اک ادا سے عدالت میں آئے گا‘ کہہ کر ہمارے ناکردہ کار دلوں کو ولولہ بخشا ، ورنہ ہم تو اس نوحے کے بعد بھٹو صاحب کو بیرون ملک رخصت کر چکے تھے کہ :

اے ذوالفقار تجھ کو قسم ہے حسین ؑ کی

کر احترامِ رسمِ کہن ، چھوڑ کر نہ جا

اسے ہماری خوش قسمتی کہہ لیں یا پاکستان آرڈنینس فیکٹری کے منتظمین کی دانشمندی کہ ہمارے پہلے جلوس کے بعد ، جس میں ’چاچا گاما زندہ باد ‘ کی لے پر ہیڈ کانسٹیبل غلام محمد اور کئی دیگر پولیس اہلکار ہمارے ساتھ سینہ کوبی کرتے رہے ، کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہوئی ۔ البتہ اسٹوڈنٹس یونین کے منتخبہ ارکان اور اُن کے والدین کو اسٹیشن کمانڈر کرنل گستاسپ بیگ کے دفتر میں طلب کر لیا گیا ۔

رمضان کے مہینے میں یہ کسی بھی پولیس تھانے کے مقابلے میں بہتر جگہ تھی اور کرنل صاحب کے رویے میں بھی ایک بارعب قسم کی شفقت جھلکتی رہی ۔ ایک مرحلے پر میرے ایک ہم مکتب کے والد ریٹائرڈ میجر محمد رفیع باور ، جو اچھے شاعر بھی تھے ، ’ مجرموں جیسے سلوک ‘ کے خلاف احتجاجاً اجلاس سے اٹھنے لگے تو اسٹیشن کمانڈر نے یہ کہہ کر بات کا رخ موڑ دیا کہ یہ فوجی آدمی ہیں، گرمی نہ دکھائیں تو کام نہیں چلتا۔

یہاں میرے اندر کا مسٹر جناح بھی جاگا اور اس نے قانونی انداز میں کہا کہ جناب والا ، میں طلبا کا منتخبہ ترجمان ہوں،اِس لئے میرے ذاتی خیالات کچھ بھی ہوں ، کہوں گا وہی جو طالب علم چاہتے ہیں ۔ جواب ملا ’’آپ کا بچوں میں اثر و رسوخ ہے ، آپ انہیں ایجی ٹیشن چھوڑ دینے پہ آمادہ کریں ‘ ‘ ۔ عرض کیا ’’سر ، کل کالج آ کر آپ نے بھی کوشش کی ، کسی نے بات ہی نہیں سنی‘‘ ۔

’’بھئی ، میں تو ان کا لیڈر نہیں ہوں ، لیکن اگر وہ آپکی بات نہیں مانتے تو یو آر اے بیڈ لیڈر‘ ‘ ۔ اب مسٹر جناح کی باری تھی ۔ انگریزی میں فرمایا ’’سر ، صدر ایوب خود کو پوری قوم کا لیڈر سمجھتے ہیں اور انہوں نے دو مرتبہ نشری تقریر میں سب کو پُر امن رہنے کی تلقین کی ہے، مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔ کیا ایوب خان ایک برے لیڈر ہیں ؟ ‘ ‘ ’’بیٹا ، یہ مت کہو ، یہ پولیٹکل بات ہے‘‘۔

فتح کے احساس سے میری ہنسی نکل گئی۔

ہماری طالب علمی کا زمانہ سینڈہرسٹ کی باقیات کا جرنیلی عہد تھا اور ٹکراؤ براہِ راست جمہوریت اور بیسک ڈیماکریسی کے اُس نظام کے درمیان تھا،جس میں ہمارے بی ڈی ممبر صاحب محترمہ فاطمہ جناح کے انتخابی معرکے والے دن کہہ چکے تھے کہ ’’ووٹ تے ایوب خان آں دے چھوڑیا اے ، تے دُعا مائی واسطے پے کرنے آں ‘‘ ۔ مطلب یہ کہ ووٹ تو ہم نے ایوب خان کے حق میں ڈالا ہے ، لیکن دعا مادر ملت کے لئے کر رہے ہیں ۔ یہ سن کر لوگوں کا دھیان مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ کے اُن واقعات کی طرف بھی گیا ہو گا ، جنہیں خوفِ فسادِ خلق کے باعث دُہرایا نہیں جا سکتا ۔

خیر ، سینڈھرسٹ کا دور گزر جانے پہ جب ڈیرہ دون والوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تو اس محبوب لیڈر کے پرستاروں کے لئے ’اسلام آباد دے کوفے توں میں سندھ مدینے آئی آں‘جیسی نظمیں ہمیشہ کے لئے ایک زندہ المیے کا استعارہ بن گئیں۔

میں عقلی آدمی ہوں اور میرا شمار کبھی بھٹو کے جذباتی پرستاروں میں نہیں ہوا ۔ یوں بھی ایک موٹر کار میں جھلک کے علاوہ انہیں دو ہی مرتبہ دیکھا ۔ پہلے پہل 1970ء کی انتخابی مہم میں جناح پارک سیالکوٹ کے جلسے میں جب ہم بی اے فائنل کی تیاری کر رہے تھے۔جلسے میں دقیانوسی قیادت کو رد کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے ان کے اُس وقت کے قریبی ساتھی احمد رضا قصوری نے اپنے سامنے رکھی ہوئی ایک میز کو زور کی لات ماری تھی ، جو مجھے حیران کن حرکت لگی۔چھ سال بعد دوسری انتخابی مہم کے دوران لاہور کے ناصر باغ میں بھٹو صاحب کی ’’اِتنی سی پی لیتا ہوں‘‘ والی تقریر سنی ۔ میں گورنمنٹ کالج کے اساتذہ میں اپنے سینئر ساتھی شعیب ہاشمی کے ساتھ کھڑا تھا کہ بھٹو کے ہر جملے پر اچھل اچھل کر داد دینے والے ایک باریش بزرگ نے وارفتگی کے عالم میں مجھے کہنی مار کر کہا ’’باؤ جی ، تُسیں وی نچو‘‘۔

آخری اجتماع واہ میں غائبانہ نماز جنازہ کا ہے، جہاں پھانسی کے ضمیمے نکلتے ہی فیکٹری کی چھٹی کے وقت دسیوں ہزار محنت کش ویلفئر سٹیڈیم میں اکٹھے ہو گئے تھے ۔ امامت کے لئے شہر بھر میں بس ایک ہی مولوی صاحب کیسے رضامند ہوئے اور کیا اُن کا تعلق مسلمانوں کے اکثریتی مسلک سے تھا ؟ یہ الگ داستان ہے، لیکن مجھے تو بار بار مولوی صاحب کا پہلا جملہ ہی یاد آتا ہے۔۔۔’’آج ہم اُس شخص کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کر رہے ہیں، جو عالم اسلام کی عزت تھا۔۔۔ جو مزدور کے سر کی چادر تھا‘ ‘۔۔۔یہاں پہنچ کر میرا قلم رُک جاتا ہے۔۔۔ بس آہ و بکا کا شور ہے ۔۔۔ ایک بے معنویت ہے ، بے بسی ہے۔مَیں نے چھ چھ فٹ کے جوانوں کو یوں بلک بلک کر روتے کبھی نہیں دیکھا ۔ اور یہ پیشہ ور سیاسی کارکن نہیں بلکہ میری اور آپ کی طرح ایک خوشحال ، پُر امن اور جمہوری پاکستان کا خواب دیکھنے والے عام لوگ تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو کا المیہ فوج،عدلیہ اور سیاسی جماعتوں کے الگ الگ کردار وں پر جو سوالیہ نشان چھوڑ گیا، اُن کا جواب تلاش کرنے کے لئے کھُلے ذہن کے ساتھ پاکستانی تاریخ کو ’ری وزٹ‘ کرنا ضروری ہے ۔ بھٹو نے بطور وزیر مستعفی ہونے پر روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ کے ادارتی صفحے کے لئے خارجہ پالیسی کے موضوع پر سلسلہ وار مضامین لکھے ، جن پر مبنی مجموعہ ’ متھ آف انڈیپنڈنس‘ کے نام سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا تھا ۔

عقلی آدمی کے حافظے میں اُس پیپر بیک ایڈیشن کے بیرونی صفحہ پر برطانوی مفکر برٹرینڈ رسل کے الفاظ نقش ہیں، جس نے ترقی پذیر دنیا کے لئے بھٹو کے امکانی قائدانہ کردار کا واضح اشارہ دیا اور کہا کہ وہ ’’جناح کی روایت کا لیڈر ہے ‘‘ ۔ ہم نے بھٹو کو پھانسی تو دے ہی دی ، کہیں جناح کی روایت کو بھی سولی پہ تو نہیں لٹکا دیا؟

آج ذہن کی دیوار پہ چونتیس سال اور تین دن سے چپکے ہوئے داغ کو ایک بار پھر غور سے دیکھا تو اس کی سرخی احمد فراز کی غزل میں ڈھل رہی تھی۔ مَیں جیالا نہیں ، لیکن دل بوجھل ہے ۔ تاریخ کو تازہ نظر کے ساتھ ’ری وزٹ‘ تو کرنا ہی ہے ، مگر سمجھ میں نہیں آرہا کہ اپنے امتحانی پرچے میں اِن اشعار کے بعد لفظ ’کیوں‘ شامل کر سکوں گا یا نہیں :

لباسِ دار نے منصب نیا دیا ہے اسے

وہ آدمی تھا ، مسیحا بنا دیا ہے اسے

سفر طویل نہ درپیش ہو مسافر کو

کہ نصف شب سے بھی پہلے جگا دیا ہے اسے

وہ سب حروف کہ بے شکل تھے ، سلامت ہیں

جو لفظ چہرہ نما تھا ، مٹا دیا ہے اسے

مزید : رائے /کالم


loading...